سائنسدانوں نے پلاسٹک کو ’چلنا سکھا دیا‘

فن لینڈ کی ٹمپیر یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایک بے جان شے کو کسی کمپیوٹر پروگرامنگ کے بغیر حرکت کرنا سکھایا گیا ہو۔

پلاسٹک کے ٹکڑے کو جگہ سے ہلانے کے لیے ری سرچ ٹیم نے کھانے کے بجائے روشنی کو استعمال کیا (ٹمپیر یونیورسٹی/ دی انڈپینڈنٹ)

روشنی کو کنٹرول کرنے والی نئی تکنیک کے ذریعے سائنسدانوں نے پلاسٹک کے ٹکڑے کو ’چلنا سکھا دیا۔‘

فن لینڈ کی ٹمپیر یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایک بے جان شے کو کسی کمپیوٹر پروگرامنگ کے بغیر حرکت کرنا سکھایا گیا ہو۔

یہ جدید پولیمرز ایک ملی میٹر فی سکینڈ کے حساب سے حرکت کر سکتے ہیں۔ اس کی رفتار گھونگھے کے برابر ہو گی جو ایک تھرمو ریسپانسیو ڈائی کے مدد سے توانائی کو مشینی حرکت میں بدل دے گا۔

ٹیمپیر یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سینئیر مصنف اری پریماگی کہتے ہیں ’ہماری تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سوال ہے کہ کیا ایک بے جان شے سب سے آسان کام سیکھ سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’میرے ساتھی اولی ایکالا جن کا تعلق آلتو یونیورسٹی سے ہے، نے ایک سوال اٹھایا کی کیا مادی اشیا سیکھ سکتی ہیں؟ اور اس کا کیا مطلب ہو گا اگر یہ اشیا سیکھ سکیں؟ پھر ہم نے اشتراک سے یہ تحقیق شروع کی تاکہ روبوٹ کو کسی طرح سے نئی چیزیں سکھائی جا سکیں۔‘

سائنسی جرنل میٹر میں شائع ہونے والی یہ تحقیق روسی سائنس دان پاولوف کے کتوں پر کیے جانے والے تجربات سے متاثر تھی۔ جس میں گھنٹی بجتے ہی کتے کو کھانے کے لیے متحرک ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پلاسٹک کے ٹکڑے کو جگہ سے ہلانے کے لیے ری سرچ ٹیم نے کھانے کے بجائے روشنی کو استعمال کیا۔

پریماگی کا کہنا ہے کہ ’ کچھ لوگ کہیں گے ہم اس مثال کو بہت دور تک لے گئے۔‘

’یہ کسی حد تک ٹھیک ہے۔ لوگ درست کہہ رہے ہیں کیونکہ حیاتیاتی نظام کے مقابلے میں بے جان اشیا کے بارے میں ہماری معلومت بہت محدود ہیں۔ لیکن صحیح انداز میں کام کیا جائے تو یہ مثال کارگر ہو سکتی ہے۔‘

حرکت کرنے کے علاوہ پلاسٹک کے یہ ٹکڑا روشنی کی لہر کو نہ صرف مخلتف انداز میں پہچان سکتا ہے بلکہ اس کا رد عمل بھی مختلف ہوتا ہے۔ یہ سافٹ روبوٹکس کے میدان میں آنے والی تبدیلیوں کے لیے قابل استعمال ہو سکتا ہے۔

پریماگی کا کہنا ہے کہ ہے ’ میرے خیال میں یہ بہت بہترین ہے۔ یہ مادی کرسٹل نیٹورک جو دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ایک مصنوعی عضو کی طرح کام کر سکتا ہے۔ مجھے امید اور یقین ہے کہ یہ بائیو میڈیکل ای ایل ڈی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ مستقبل میں ان ای ایل ڈیز میں فوٹونکس بھی شامل ہو سکتی ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق