غدار کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

ماضی میں ان جیسے القابات سے کئی روشن جبینوں کے ماتھے پر ایسے کالک ملی گئی کہ وہ پھر کبھی طلوع نہیں ہوئے، یہ القابات بڑے بڑے روشن خیالوں کو کھا گئے۔

اسلام آباد میں  احتجاج کے دوران کچھ طلبا پرفارم کر رہے ہیں (اے ایف پی)

را کے ایجنٹ، غدار، ملک دشمن، اسلام کے دشمن، کافر، یہودی ایجنٹ یہ سب ٹاپ ٹرینڈ ہیں، کبھی کبھی ان کے ساتھ ایک آدھ گالی بھی سج جاتی ہے تو یہ اور ٹاپ پر چلے جاتے ہیں۔

جب بھی کوئی حقوق کی بات کرنے آتا ہے، خواہ وہ ایک فرد ہو گروہ یا پھر تحریک، اسے ان ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ذی عقل سوچتے ہی رہ جاتے ہیں بھلا کسی کے غدار کہنے سے کوئی غدار ہو جاتا ہے۔کیا فرق پڑتا ہے؟

کوئی منطق، کوئی ثبوت، کوئی دلیل کچھ بھی تو نہیں، صرف کسی کے کہہ دینے سے کیا کوئی دشمنوں کا ایجنٹ بن جاتا ہے، لہٰذا کیا فرق پڑتا ہے۔

فرق پڑتا ہے جناب۔ ماضی میں ان ہی القابات سے کئی روشن جبینوں کے ماتھے پر ایسے کالک ملی گئی کہ وہ پھر کبھی طلوع نہیں ہوئے۔ یہ القابات بے دھڑک استعمال کرنے والے اور شیر ہو گئے۔ یہ بڑے بڑے روشن خیالوں کو کھا گئے، یہ بڑے بڑے ناقدوں کی گویائی صلب کر گئے۔

یہ القابات، یہ الزامات تخت کو تختۂ دار کر گئے، اس لیے فرق پڑتا ہے، کیونکہ یہ القابات کہیں بیٹھ کر بہت سوچ بچار کے بعد دور بینی سے ان کا اثر جانچ کر ایجاد کیے گئے۔

جہاں اکثریت کو منطق اور دلیل سے دور رکھا گیا ایسے لوگ ان القابات کو فوراً مان جاتے ہیں، جس سے بہت سے وہ حقوق کے چیمپیئن جو ہیرو بن رہے تھے، انہیں عبرت بنا دیا گیا۔

اب تو یہ عالم ہے کہ جہاں روشنی کی ایک کرن پھوٹنے لگتی ہے وہاں بے دریغ بے شرمی سے یہ کالک ہر ایک کے چہرے پر مل دی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ سب القابات اور ان کے ہیش ٹیگ چلانے والے پڑھے لکھے لوگ ہیں، لیکن ان کی ڈگریوں میں مکالمے کی کوئی گنجائش نہیں۔

ان پڑھے لکھے لوگوں سے جا کر یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ آخر ان سب غداروں کا جرم کیا ہے؟ یہ کون سی انصاف کی عدالت ہے جہاں الزام ثابت ہونے سے پہلےسزا تجویز کی جاتی ہے۔

کیوں یہ رسم چلی ہے کہ جیسے ہی کوئی دلیل سے بات کرے اسے دھتکارا جاتا ہے، اسے سوشل میڈیا پر رگیدا جاتا ہے۔ لیکن یہ پڑھے لکھے لوگ تو فتوے کا لائسنس ہاتھ میں لیےے ایک ہی دھن پر ڈگڈگی بجا رہے ہیں۔

ان کا غصہ تو دیکھیے، کہتے ہیں دلیل سے بات کرتے ہو! ہو نا ہو تم مغرب کے ایجنٹ ہو۔ بچیوں کی شادی کی عمر سولہ سال طے کرنا چاہتے ہو، تم لوگ اسلام کے دشمن ہو۔ عورت کے حقوق کی بات کرتی ہو، تم لبرل آنٹیاں، تم موم بتی مافیا بے حیائی پھیلانا چاہتی ہو۔

ہراساں کیے جانے کے خلاف تحریک مغرب کی چال ہے، بچیوں کے ساتھ زیادتی پر شور کر رہے ہو ؟ کس بات کا شور؟ قانون بنا تو دیا ہے، اسے مزید سخت کر دیں گے۔

تم صرف ملک کے لیے بدنامی کے ایجنڈے پر ہو، خواجہ سراؤں کے حقوق پر اتنا شور؟ آخر تم لوگ کیوں باز نہیں آتے۔ جب باقی سب کو ان کے حقوق ملیں گے تو خواجہ سراؤں کو بھی مل جائیں گے۔ تم لوگوں کو شہرت چاہیے تو کوئی اور کام کرو۔

تم کس مٹی سے بنے ہو؟ اور کوئی کام نہیں کہ تم لوگ بلوچوں کی محرومی کا مسئلہ لے کر آگئے ہو، ثابت ہوا تم را کے ایجنٹ ہو۔ تم تو ملک کی بدنامی کرنے والے غدار ہو، تمہیں اٹھایا نہ گیا تو تم یہ تماشہ لگاتے رہو گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جانے اب کس دشمن کے تنخواہ دار ہو گئے کہ پشتونوں کے تشخص کے محافظ بنناچاہتے ہو۔ را، سی آئی اے کس سے پیسے پکڑے ہیں؟ اقلیتیں سانس تو لے رہی ہیں تم لوگ رائی کا پہاڑ بنا کر پوری دنیا کے سامنے تماشہ کرتے ہو۔

میاں عاطف نہ سہی رمیش کمار کو تو کام دے رکھا ہے۔ تم لوگوں کو اس ملک کے خلاف زہر اُگلنے کی عادت ہے اور پھر آزادی اظہار کی باتیں کرتے ہو۔

حد میں رہنے کا ہنر نہیں سیکھتے تو پھر یہ لازم ہے کہ تمہیں تمہاری حد میں رکھا جائے، تم لوگ اپنی اوقات تو دیکھو، کیا ہے ایسی اوقات کہ تم لوگ سویلین سپرمیسی کا لفظ بھی استعمال کرو۔

ایسے رسوا کیا جائے گا کہ تم اپنے آپ کو کوسو گے، آئین کا تقدس یہ سبق پڑھتے ہو، استغفر اللّٰہ کفر کے مرتکب کافر مشرک تم اس ملک کو توڑنا چاہتے ہو۔ تم اداروں کے دشمن ہو تم دشمنوں کے جاسوس ہو۔

صحافی تنقید کریں تو ان کو را کا ایجنٹ کہا جاتا ہے، سیاست دانوں کو چت کرنا ہو تو انہیں چور اور غدار کہا جاتا ہے، انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو ایجنٹ، خونی لبرل اور موم بتی مافیا کہہ کر انہیں بے حیائی پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والا کہا جاتا ہے۔

جیسے ہی کوئی شہری آزادیوں کے حق میں آواز اٹھاتا ہے، سوشل میڈیا پر ایسے ایسے گھٹیا الزامات والے ہیش ٹیگ کی جنگ شروع ہو جاتی ہے، کیچڑ کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ جو بھی اس کی طرف آئے کیچڑ میں لت پت ہو جائے، اسے اپنا چہرہ پہچاننے میں دشواری ہو۔

ابھی اگلے غدار کسی ٹھکانے لگے نہیں تھے کہ نئے آگئے مارکیٹ میں۔ یہ ایلیٹ کلاس کے بچے جن کو غریبوں کے مسائل کا کچھ نہیں پتہ لیکن اس ملک کی بدنامی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔

یہ شرپسند انارکی پھیلانا چاہتے ہیں اس لیے اب غدار طلبا کو ملک دشمنی کے میدان میں اتارا گیا ہے۔ یہ غدار طلبا را کے ایجنٹ۔ ان کو فیض کی نظمیں پڑھنے کے لیےے کس دشمن نے پیسے دیے۔ یہ کسی کافی شاپ پر بیٹھ کر افیئرز چلاتے رہیں، فیض کی عشقیہ شاعری پڑھیں، کون روکتا ہے۔

جیکٹ پہنے نا پہنے، کوئی جدید کپڑے پہنیں، برینڈ برینڈ کھیلیں، ان کو کیا مسئلہ ہے، یہ لال لال کے نعرہ کیا ہے، نہ کوئی تک ہے نا کوئی ضرورت۔ طلبا یونین نے کیا تیر مار لینا ہے۔ 

 میں سوچتی ہوں یہ طلبا سڑک پر نہ نکلتے تو کبھی خبر ہی نہ ہوتی کہ ہماری آستین میں کیسے کیسے سانپ پل رہے ہیں۔

بھلا ہو ان کا شور مچا کر بتایا کہ ہم غدار ہیں اور یہ غدار کیسے بے وقوف ہیں کہ دشمن کے مبینہ پیسے کو طلبا یونین جیسے مطالبے پر ضائع کر رہے ہیں۔ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلبا یونین سے دشمنوں کا کیا فائدہ ہو گا؟

نئے لیڈر پیدا ہوں گے تو نئے کٹے کھلیں گے جس کی کوئی ضرورت نہیں، نیا پاکستان بنا تو دیا گیا ہے اب کسی مزید ’نئے‘ کی ضرورت نہیں، چاہے وہ لیڈر ہو یا مسئلہ ہو۔

مسئلے سے یاد آیا جب پوری قوم کو مسئلہِ کشمیر پر سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے تو تم لوگوں نے دشمن کی ایما پر نئی چال چلی ہے۔ 

وہ لوگ جو اس نظام کی خرابیاں اجاگر کرتے ہیں اور بہتری کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بھلا کیسے بے وقوف دشمن ہیں۔ خاموشی سے نظام کی خرابیوں کو دیکھتے کیوں نہیں رہتے۔ حقوق مانگنے والے کیسے دشمن ہیں جو ان کے حقوق مانگتے ہیں جن کو کبھی ریاست نے اپنا نہیں سمجھا۔

خاموشی سے انتظار کیوں نہیں کرتے کہ وہ دشمن بن جائیں؟ کیوں ان کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، نمک کیوں نہیں چھڑکتے؟؟؟؟

میں خود سے یہ سوال بھی کرتی ہوں کہ کیوں ان پڑھے لکھے لوگوں نے کبھی اتنے تردد اور محنت سے طالبان کے خلاف ہیش ٹیگ نہیں چلائے جیسے یہ طلبا کے خلاف متحرک ہیں۔

یہ سوال میں اپنے آپ سے کرتی ہوں جب میں ان سے پوچھوں گی تو مجھے بھی غدار قرار دینے سے نہیں چوکیں گے اور مجھے اس لقب سے، اس خطاب سے جان چھڑانے میں عمر نہیں ضائع کرنی۔


نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی رائے ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ