اورنج لائن ٹرین: واپسی اپنے خرچے پر

پاکستان میں پہلی ریپڈ ماس ٹرانزٹ اورنج لائن ٹرین کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سرگوشیاں جاری تھیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر یا کسی بڑی حکومتی شخصیت نے شرکت کیوں نہیں کی؟

اورنج لائن ٹرین منصوبے میں چین کی سرمایہ کاری 133 ارب روپے ہے جب کہ پاکستان نے 36 ارب روپے کے قریب خرچ کیے ہیں۔ (تصویر: اے ایف پی)

پاکستان میں پہلی ریپڈ ماس ٹرانزٹ اورنج لائن ٹرین کی افتتاحی تقریب کے لیے دیگر صحافی دوستوں کے ساتھ جب میں ڈیرہ گجراں میں بنائے گئے سٹیشن نمبر ون پر پہنچا تو وہاں چاروں طرف سی پیک منصوبے کے لیے تشکیل دی گئی فورس کے چاک و چوبند مسلح گارڈز نظر آئے، جنہوں نے گہرے سرمئی رنگ کے یونیفارم پہن رکھے تھے۔

ان کے ساتھ پولیس کے چند اہلکار موجود تھے جواندر جانے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کردہ پاسز دیکھ کر آنے والوں کو واک تھرو گیٹ سے گزار رہے تھے۔

چونکہ یہ ٹرین کا آزمائشی افتتاح تھا، اس لیے عام شہریوں کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی لہذا بہت سے لوگ باہر کھڑے ہی آتے جاتے لوگوں کو دیکھتے رہے۔

چیکنگ کے بعد ایسکیلیٹر کے ذریعے اوپر جانے کا راستہ موجود تھا، کیونکہ ٹرین کا ٹریک سطح زمین سے کم وبیش 30 فٹ اونچے معلق پل کی طرح بنایا گیا ہے۔

راہداریوں میں ہر طرف پاکستان اور چین کے پرچم اور پاک چین دوستی کے بینرز نظر آئے۔ تھوڑا آگے کی طرف جب سٹیشن کے اندر پہنچے تو ایسا لگا کسی اور ہی ملک میں آگئے کیونکہ اتنا جدید سٹیشن پاکستان میں پہلے موجود نہیں۔

وہاں رش لگا ہوا تھا۔ پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ چینیوں کی بڑی تعداد بھی ہر طرف دکھائی دینے سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ یہ واقعی بڑا منصوبہ ہے۔ ان میں ملکی و غیر ملکی میڈیا کی بڑی تعداد بھی شامل تھی، کیمرہ مین اپنی فوٹیج بنانے میں مصروف تھے جبکہ چینی اور پاکستانی شہری سیلفیاں لیتے رہے اور مناظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے رہے۔

تقریب کا اہتمام چونکہ ٹرین کے آخری سٹیشن علی ٹاؤن سے ملحقہ سروس ایریا میں کیا گیا تھا، لہذا یہاں سے روانگی کے لیے متعلقہ لوگ جمع ہو رہے تھے۔ ڈیرہ گجراں سٹیشن پہنچنے کا وقت دوپہر ڈھائی بجے کا تھا لیکن ہم ایک بجے ہی پہنچ گئے لہذا کچھ وقت وہاں گزرا۔ اس دوران اس منصوبہ سے متعلقہ چینی اور پاکستانی حکام سے گپ شپ ہوتی رہی اور منصوبے کے بارے میں معلومات وغیرہ لیتے رہے۔

چینی افسران پاکستانیوں سے بھی زیادہ خوش دکھائی دیے، شاید اس لیے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے میں چین کی سرمایہ کاری 133 ارب روپے ہے جب کہ پاکستان نے 36 ارب روپے کے قریب خرچ کیے ہیں۔

تقریباً تین بجے کے قریب ٹرین کے اوپر پلیٹ فارم پر آنے کی آواز اس کے ہارن سے سنائی دی۔ ہم ٹکٹ لینے انتظارگاہ میں موجود تھے، لہذا پلیٹ فارم پر جانے کے لیے دوبارہ ایسکیلیٹرز کی مدد سے اوپر ٹرین کے پاس پہنچے۔

اچانک ہی ہلچل سی مچ گئی، ہم صحافی سمجھ گئے کہ کوئی وی آئی پی آیا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب کھچی اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان دیگر پارٹی رہنماؤں اور افسران کے ساتھ سٹیشن پر نمودار ہوئے لیکن ان کے چہروں پر خوشی کی بجائے انتہائی سنجیدگی عیاں تھی۔ خلاف معمول انہوں نے میڈیا کو بھی لفٹ نہ کرائی۔

سب لوگ سٹیشن کے بعد جدید پلیٹ فارم اور خوبصورت چمچماتی ٹرین دیکھ کر حیران تھے اور اس پر سفر کا خواب پورا کرنے کے لیے بے چینی سے انتظار کر رہے تھےکہ اچانک دروازے کھول دیے گئے۔ وی آئی پیز کے بعد ہر ایک بھاگ کر پہلے سوار ہونے کی کوشش اس لیے کرنے لگا کہ کہیں وہ رہ نہ جائے۔ ہمیں بھی سوار ہونے کا شرف حاصل ہوگیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرین کیسی تھی؟

اس جدید ٹرین کو جہاں باہر سے دیکھ کر حیرانی ہو رہی تھی، اندر سے بھی واقعی حیران کن دکھائی دی۔ اندر تا حد نظر بوگیاں دروازوں کے بغیر تھیں۔ پوری ٹرین میں چلنا پھرنا ممکن تھا، لہذا ہر کوئی ادھر ادھر گھومنے لگا۔

اندر دونوں اطراف بیٹھنے کی سٹیل کی نشستیں تھیں جب کہ باقی جگہ کھلی تھی اور اوپر پول کے ساتھ کھڑے ہوکر سفر کرنے والوں کے لیے ہینڈل نصب تھے۔ مسافروں کی رہنمائی کے لیے ریکارڈڈ آواز سنائی دی جس پر ہدایات جاری تھیں جب کہ اندر سٹیشنوں سے متعلق سکرینیں بھی لگائی گئی ہیں۔

پہلی بار سفر کرنے والے بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان ریلوے کی ٹرینوں کی طرح اس پر بھی جھٹکے اور کھڑ کھڑ کی آوازیں سنائی دیں گی، جب چلے گی تو دھواں بھی نظر آئے گا لیکن جب ٹرین روانہ ہوئی تو باہر دیکھ کر ہی پتہ چلا کہ گاڑی چل پڑی ہے کیونکہ الیکٹرک سسٹم پر چلنے کی وجہ سے اس کی آواز نہ ہونے کے برابر تھی، جب کہ جدید ٹریک کی وجہ سے تھرتھراہٹ بھی محسوس نہ ہوئی۔ اس ٹرین کی سائیڈ ونڈوز قدرے بڑی ہونے کی وجہ سے اوپر سے لاہور کے دونوں اطراف سے نظارے بھی خوب تھے۔

ٹرین میں سوار چینی مہمان اپنے موبائل فونز استعمال کر رہے تھے جب کہ ہم پاکستانی کبھی ٹرین کے معیار اور جدت اور کبھی منصوبے پر گفتگو کرتے رہے۔ اس دوران جب میں نے پاکستانی محکمے کے چیف انجینیئر مظہر حسین سے پوچھا کہ ملک میں بجلی کا بحران ہے تو اس ٹرین کے لیے اتنی بجلی کہاں سے آئے گی؟ اور لوڈ شیڈنگ کے دوران کہیں ٹرین راستے میں ہی نہ رک جائے؟ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’ہم نے اس کے لیے مکمل بندوبست کر رکھا ہے۔ اورنج لائن ٹرین کو بجلی فراہم کرنے کے لیے الگ گرڈ بنائے گئے ہیں اور دو سورس (متبادل) رکھے گئے ہیں، جب کہ انجنز میں فیول سے چلنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔‘

اتنی دیر میں جین مندر چوک انڈر گراؤنڈ ٹریک آگیا تو سب نے باہر دیکھنا شروع کر دیا۔ دو سٹیشن انڈر گراؤنڈ تھے جو ابھی نامکمل تھے۔ یہ جدید ٹرین جو پانچ بوگیوں پر مشتمل ہوگی، اس میں 250 سے 300 مسافر ایک وقت میں سوار ہونے کی گنجائش بتائی گئی جب کہ گرمی کے لیے مکمل  اے سی کا نظام بھی موجود ہے اور سپیڈ کی حد 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے۔

اس ٹرین پر 27 کلومیٹر کا فاصلہ 45 منٹ میں طے ہوا اور ہم علی ٹاؤن سروس ایریا پہنچ گئے۔ پٹڑیوں میں کرنٹ ہونے کے باعت گاڑی کا دروازہ دو منٹ بعد کھولا گیا تاکہ پاور سپلائی بند کر دی جائے۔

بڑا منصوبہ چھوٹی تقریب

افتتاحی تقریب کا اہتمام علی ٹاؤن میں اورنج لائن ٹرینوں کے لیے بنائے گئے سروس ایریا میں کیا گیا تھا۔ پنڈال میں بھی صرف منصوبے سے متعلقہ پاکستانی اور چینی افسران و عملہ نظر آیا۔ پنڈال میں پہنچتے ہی میڈیا کے کیمرہ مینوں میں حسب معمول بھگدڑ مچ گئی، معلوم ہوا پہلے افتتاحی تقریب ہوگی لہذا صوبائی وزرا جہانزیب کھچی، فیاض الحسن چوہان اور سمیع اللہ چوہدری اور چینی کمپنی کے افسران نے تختی کی نقاب کشائی کرکے افتتاح کر دیا اور سب سٹیج پر بیٹھ گئے۔

تقریب میں موجود صحافیوں اور شرکا میں سرگوشیاں جاری تھیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر یا کسی بڑی حکومتی شخصیت نے اتنے بڑے منصوبے کی تقریب میں شرکت کیوں نہیں کی؟ ایک صحافی امین حفیظ نے خیال ظاہر کیا کہ ’یہ منصوبہ مسلم لیگ ن کا ہے اور انہوں نے ایک روز پہلے علامتی افتتاح کی تقریب بھی کی ہے، عوام کی جانب سے بھی اس منصوبے کا اعزاز شہباز شریف کو دیا جا رہا ہے اور موجودہ حکومت پر سابق حکومت کے منصوبوں کے افتتاح کرنے پر تنقید بھی ہو رہی ہے، شاید اسی وجہ سے وزرا بھی مجبور بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں اور بڑی شخصیات نے بھی افتتاح اسی وجہ سے نہیں کیا۔‘

اس دوران ایک صحافی نے کہا کہ ’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نئی حکومت پرانی حکومتوں کے منصوبے بند کر دیتی ہے، جب ایک جماعت اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اس منصوبے پر تنقید کرتی رہی کہ یہ سفید ہاتھی ہے اور رکوانے کے لیے عدالتوں میں بھی گئی تو وہ کیسے خوشی سے افتتاح کرسکتی ہے؟‘

جس پر ایک سینیئر صحافی بولے کہ ’یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے۔ زیادہ انویسٹمنٹ چین کی ہے اور دوسرا سپریم کورٹ خود اس منصوبے کی نگرانی کر رہی ہے اور عدالتی حکم پر ہی یہ افتتاح کیا جا رہا ہے جب کہ عوام کے لیے ابھی بھی تین ماہ کے لیے سفری سہولت شروع ہوگی۔ تین، چار سٹیشن ابھی تک نامکمل ہیں اسی لیے یہ آزمائشی ٹرین کسی سٹیشن پر نہیں روکی گئی۔‘

صحافیوں کی گفتگو کے دوران ہی تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس میں اس منصوبے سے وابستہ چینی افسران نے خوشی کا اظہار کیا اور پاکستانی حکومت کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ حکومتی وزرا نے بھی مختصر خطاب میں چینی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس منصوبے کو سی پیک کی کامیابی قرار دیا۔

تقریب کے اختتام پر معلوم ہوا کہ ڈیرہ گجراں سے آنے والی اس ٹرین میں اب واپسی ممکن نہیں اور اب یہاں سے سب کو واپس اپنے خرچے پر جانا ہوگا۔ جس کے بعد تمام شرکا نے اپنی اپنی راہ لی۔ پنڈال کے باہر سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کی قطاریں لگی تھیں، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ آج ٹرین میں وی آئی پیز تھے، جن کا شاید اس عوامی سواری پر یہ پہلا اور آخری سفر تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی