آرمی چیف توسیع: حکومت قانون سازی کرے گی یا اپیل؟

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بیان دیا تھا کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانونی سقم موجود ہے اور اس پر نظرثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ بہاولپور میں فوجی مشقوں کے دوران ایک فوجی سے بات کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 نومبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مشروط توسیع دی تھی۔ سترہ دن بعد عدالت نے 43 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ تاہم ایک وفاقی وزیر نے اس فیصلے پر اعتراض اٹھایا ہے۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بیان دیا تھا کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانونی سقم موجود ہے اور اس پر نظرثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ اس سوال کو جب مختلف ماہرین قانون سے اُٹھایا گیا تو منقسم آرا سامنے آئیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس دو راستے ہیں یا تو قانون سازی کریں یا نظرثانی کی اپیل دائر کریں۔ لیکن اکثر کی رائے میں چونکہ وقت کم ہے اس لیے بہتر ہے کہ قانون سازی کریں۔

کیا حکومت نظر ثانی درخواست دائر کر سکتی ہے؟

ماہر قانون اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر حکومت چاہے تو اس کا یہ حق ہے کہ نظرثانی کی درخواست دائر کرے اور جو قانونی سقم موجود ہے وہ نکات حکومت اٹھا سکتی ہے۔‘

بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ نظرثانی درخواست دائر کرنا کسی بھی فریق کا حق ہے لیکن عدالت یہ ضرور کہے گی کہ بیان حلفی کے بعد نظرثانی کی وجہ نہیں بنتی اور یہی عدالت کا اعتراض ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظرثانی درخواستوں میں کامیابی کے چانس بہت کم ہوتے ہیں۔ اور اگر معاملہ نظرثانی پر چلا گیا تو اس میں وقت لگ سکتا چونکہ حکومت کے پاس صرف چھ ماہ ہیں اس لیے نظرثانی سے بہتر آپشن قانون سازی کرنا ہی ہے۔

سقم اگر موجود تھا تو وہ حکومت کے نوٹیفیکیشن میں تھا: شاہ خاور

اس سوال پر سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ ’جب اٹارنی جنرل نے خود بیان حلفی جمع کرایا تو پھر وہ نظرثانی کی درخواست کیسے فائل کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر نظرثانی درخواست دیتی بھی ہے تو سپریم کورٹ اعتراض کر سکتی ہے کہ حکومت نے قانون سازی کی یقین دہانی کرائی تھی اور بیان خلفی جمع کروا کر چھ ماہ کی توسیع لی تھی۔‘

سابق جج شاہ خاور نے بتایا کہ ’جب حکومت نے خود رضامندی ظاہر کر کے یہ فیصلہ کیا ہے تو پھر وہ کس بات کی نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی؟ کوئی بھی فیصلہ جس میں متعلقہ فریق کی رضامندی شامل ہو تو پھر اس پر اسی فریق کی جانب سے نظرثانی نہیں ہو سکتی۔ نظر ثانی تب ہوتی ہے جب کوئی ریکارڈ کی غلطی ہو جس کو درست کرانا ہو یا جو نکتہ پہلے زیر بحث نہ آیا ہو وہ عدالت کے علم میں لایا جائے۔‘

کیا عدالت پارلیمان کو قانون سازی کی ہدایت جاری کر سکتی ہے؟

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی کے لیے ہدایات جاری نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی قانون موجود نہیں تو بھی یہ پارلیمان کا کام ہے کہ اس کمی کو اگر ہے تو پورا کرے۔ ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ کام ہی نہیں ہے۔

حکمراں جماعت تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ ’سپریم کورٹ پارلیمان کو قانون سازی کے لیے حکم جاری نہیں کر سکتی لیکن اگر اس فیصلے کی تشریح کی جائے تو سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ پارلیمنٹ قانون پاس کرے بلکہ انہوں نے یہ معاملہ پارلیمان پر چھوڑا ہے۔ اس لیے وہ چاہیں تو قانون سازی کر دیں نہیں چاہتے تو نہ کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن ماہرین کے مطابق حکومت اور پارلیمان کو فوجی سربراہ کی توسیع کے قانون کی عدم موجودگی کے سقم کو بہرحال دور کرنا ہوگا۔

کیا عدالتی فیصلے میں کوئی قانونی سقم موجود ہے؟

اس سوال کے جواب میں ماہر قانون فیصل چوہدری نے بتایا کہ عدالت کا یہ کہنا غلط ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازم کا تعین نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 میں واضح ہے کہ مدت موجود ہے۔ لیکن اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اس کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم چاہیں تو مدت کم بھی کر سکتے ہیں اور زیادہ بھی۔ یہ وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ آرمی چیف اور ادارہ وزیر اعظم کے ماتحت ہیں اور اس کا تعین کرنا وزیر اعظم کا ہی اختیار ہے۔‘

فیصل چوہدری نے کہا کہ عدالت کے فیصلے میں قانونی سقم موجود ہے۔ تاہم سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ توسیع نہیں ہو سکتی چونکہ آئین میں نہیں لکھا تو پھر اتنی بحث کیوں کی گئی اور دستاویزات کیوں منگوائی گئیں؟ بہت سی چیزیں قانون میں نہیں لکھی ہوتیں تو کیا سب غیرقانونی ہو گئیں؟

سابق جج لاہور ہائی کورٹ شاہ خاور نے مختلف آرا دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا صوابدیدی اختیار موجود ہے لیکن اس اختیار کے استعمال کے لیے بھی انہیں قوانین کو فالو کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عدالتی فیصلے میں کوئی قانونی سقم موجود ہے۔ ’سقم اگر موجود تھا تو وہ حکومت کے نوٹیفیکیشن میں تھا۔‘

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ’یہ فیصلہ بہت واضح ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون موجود نہیں ہے اور پارلیمان اس معاملے کو قانونی شکل دے۔ میری نظر میں فیصلے میں کوئی قانونی سقم نہیں بلکہ فیصلہ واضح ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست