شوخ رنگ بکھیرتا پاکستان کا ٹرک آرٹ  

ٹرکوں یا گھر کے استعمال کی چیزیں جیسے چائے کی کیتلی یا پیالیوں کی سجاوٹ ہو، پاکستان کے ٹرک آرٹ کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہے۔

پاکستان کی سڑکوں پر خوبصورت اور خوشنما رنگوں میں بنی انسانوں اور جانوروں کی تصاویر، پھول اور بیل بوٹوں اور دوسرے ڈیزائنوں سے مزین ٹرک فراٹے بھرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ دلکش تصویریں اور ڈیزائن کون اور کیسے بناتا ہے اور یہ فن ہے کیا؟

اس فن کو ٹرک آرٹ کہا جاتا ہے جس میں ٹرک آرٹسٹ شوخ اور گہرے رنگوں کا استعمال کرتے ہوئے ٹرکوں اور بسوں کے لکڑی سے بنے بیرونی ڈھانچے پر نقش و نگار بناتے ہیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ ٹرک میں تو سامان ہی جانا ہے تو اس کی اتنی تزئین و آرائش کی کیا ضرورت ہے؟

گذشتہ کئی دہائیوں سے ٹرک آرٹ سے منسلک راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے عبدالخلیل مغل کہتے ہیں: ’ٹرک ڈرائیور لمبے لمبے سفر کرتے ہیں اور اکثر اکیلے ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے ٹرک کو دلہن کی طرح سجانا چاہتے ہیں۔ تاکہ سفر کی بوریت کو دور کر سکیں۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ٹرک کی سجاوٹ کا سارا خرچہ مالک کرتا ہے لیکن فرمائش ڈرائیور کی ہوتی ہے۔‘

ٹرک آرٹ میں صرف رنگوں کا کھیل شامل نہیں ہے کیونکہ رنگوں سے بنی تصاویر صرف دن کی روشنی میں دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ رات میں ٹرک ان خوشنما نقش و نگار کے باوجود محض ایک سیاہ ہیولا ہی نظر آتا ہے۔

یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ٹرک آرٹسٹوں نے دوسری کئی قسم کی تزئین و آرائش کا سہارا لیتے ہیں جس میں پلاسٹک اور کاغذ سے بنے گول، مستطیل اور بیزوی شکل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ٹرک کی باڈی پر  پیچوں کے ذریعے خاص تراکیب میں کس دیے جاتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں دوسری گاڑیوں کی روشنی پڑنے پر یہ اشکال چمک اٹھتی ہیں اورگھپ اندھیرے میں بھی دور سے یوں لگتا ہے جیسے کوئی دلہن چلی آرہی ہو۔

ٹرک آرٹسٹ محمد اعظم نے بتایا:’ ٹرک آرٹ میں کوئی ڈیزائنر نہیں ہوتا۔ بلکہ تمام نقشو نگارٹرک آرٹسٹ کے ذہن کی اخترا ہوتے ہیں۔ وہ خود ہی سوچتا ہے اور جو ڈیزائن اس کے ذہن میں آتا ہے وہ اسے رنگوں کے ذریعے ٹرک کی باڈی پر بکھیر دیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں ٹرک آرٹ کا آغاز پچاس کی دہائی کے اوائل میں ہوا۔پاکستان کے مختلف حصوں میں ٹرک آرٹسٹ موجود ہیں۔ جو ٹرکوں اور بسوں کی آرائش کا کام کرتے ہیں۔ تاہم راولپنڈی ٹرک آرٹ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

دیو ہیکل سے چھوٹا ٹرک آرٹ

محمد اعزاز کہتے ہیں ٹرک آرٹ ایک محنت والا کام ہے۔ اس میں لکڑی کے پھٹے اور سیڑھیاں اٹھانی پڑتی ہیں۔ ابتدائی استاد  جب عمر کے اس حصوں میں پہنچے جب وہ بھاری کام نہیں کر سکتے تھے تو انہوں نے گھر میں استعمال ہونے والی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا۔

کسی ٹرک آرٹسٹ نے چائے کی کیتلی اور پیالیوں پربیل بوٹے بنائے تو دوسرے نے کرسی اور میز کو خوبصورت بنا دیا۔

کیونکہ ٹرک آرٹ میں شوخ اور تیز رنگ استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ چھوٹے چھوٹے فن پارے جلدہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے لگے۔ اور خصوصاً بیرون ملک سے آئے غیر ملکی باشندوں نے اس میں بہت دلچسپی لی۔

چھوٹے فن پاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے کئی ٹرک آرٹسٹوں نے دیو ہیکل ٹرکوں کو خیر آباد کہا اور روزمرہ استعمال کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اپنا فن بکھیرنے لگے۔اور یوں ٹرک آرٹ کی ایک نئی شکل سامنے آئی۔ جس میں آرٹسٹ کا کینوس بڑے ٹرک کی بجائے چھوٹی پیالی، کیتلی یا میز کرسی ہوتی ہے۔

حکومت پاکستان نے ٹرک آرٹ کی اس نئی قسم کے متعارف ہونے کے بعد اس فن کو قومی ورثے کا درجہ دے دیا۔جس سے ٹرک آرٹ اور ٹرک آرٹسٹس کو دنیا بھر میں پہچان اور پذیرائی حاصل ہوئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ