بھارت میں شہریت بل کے خلاف مظاہروں میں اضافہ، تین ہلاک

سینکڑوں افراد احتجاج پر پابندی کو مسترد کرتے ہوئے اس قانون کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں جس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

پولیس نے مظاہرین کے ایک بڑے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا (اے ایف پی)

بھارت میں شہریت کے متنازع بل کی منظوری کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں 12 سو افراد گرفتار جبکہ تین ہلاک ہو گئے ہیں۔

شہریت کے متنازع بل جس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے پر بھارت میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ مظاہرین احتجاج کے لیے جمع ہونے پر پابندی کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر کے بڑے شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔

جنوبی ریاست کرناٹکا کے شہر منگلور میں پولیس کے ساتھ تصادم میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس نے مظاہرین کے ایک بڑے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا واقعہ لکھنو میں بھی پیش آیا جہاں پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ایک بس کو آگ لگائی، پولیس پر پتھراؤ کیا اور بعض پولیس پوسٹس اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی گئیں اور انٹرنیٹ، فون سروسز کو بھی بند کر دیا۔ انٹرنیٹ اور فون سروس کی بندش سے متاثرہ علاقوں میں نئی دہلی کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔

شمالی سرحدی ریاست آسام میں بھی مظاہرین پر پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں جہاں گذشتہ ہفتے مظاہروں کا آغاز ہوا تھا اور بعض جگہوں پر کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

شہریت کا نیا قانون ہندوؤں، مسیحیوں، اور دوسری مذہبی اقلیتوں پر لاگو ہوتا ہے جو بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں لیکن وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ انہیں مسلمان اکثریتی ملکوں بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں مذہبی جبر کا سامنا ہے، تاہم اس قانون کا اطلاق مسلمانوں پر نہیں ہوتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نئے قانون کی وجہ سے لوگوں میں غصہ بھڑک اٹھا اور بہت سوں کے خیال میں یہ حکومت کی جانب سے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی کوشش ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی قوم پرست حکومت کی جانب سے ملک کے تقریباً 20 کروڑ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی تازہ کوشش ہے اور ملک کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی بھی ہے۔نریندر مودی نے اسے انسانی ہمدردی پر مبنی قرار دے کر اس کا دفاع کیا ہے۔

احتجاجی مظاہرے رکنے کی بجائے پابندیوں کے بعد مزید پھیل رہے ہیں۔ آسام سے لے کر بہت سی یونیورسٹی کیمپسوں اور دارالحکومت دہلی کے مسلم آبادی والے علاقوں سے شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ 

نئی دہلی میں پولیٹکل سائنٹسٹ زویا حسن کہتی ہیں: ’میرے خیال میں جو چیز سب سے زبردست ہے وہ یہ کہ نوجوان جو بیس سال کے آس پاس ہیں جلد ہی اس سب کھیل کو سمجھ چکے ہیں جو لوگوں کو تقسیم کرنے کا ہے۔‘

’لوگ ہے کہہ رہے ہیں کہ آپ تقسیم کریں گے تو ہم ضرب دیں گے۔‘

ملک کی بعض منقسم آپوزیشن جماعتیں مظاہروں کے خلاف حکومتی ردعمل پر متحد دکھائی دے رہی ہیں۔

یوگیندرا یادیو جو نئی دہلی کی جانی مانی سیاسی کارکن ہیں اور سوراج انڈیا پارٹی کی چیف بھی، ان 1200 مظاہرین میں شامل ہیں جنہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان انیل کمار نے کہا ہے کہ مظاہرین کو جمعرات کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

 

اضافی رپورٹنگ ایسوسی ایٹڈ پریس

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا