کسی جج کو ذہنی طور پر ان فٹ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ ذہنی طور پر ان فٹ ہیں اس لیے انہیں کام سے روکا جائے۔ اس اعلان کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

دنیا بھر میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک جج کو ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ (پکسابے)

خصوصی عدالت کی جانب سے گذشتہ روز سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے میں لاش کو لٹکانے کے ذکر پر حکومت نے شدید تنقید کی ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے گذشتہ شب پریس کانفرنس میں کہا کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ ذہنی طور پر ان فٹ ہیں، انہیں کام سے روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت اس معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرے گی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ججوں کو دماغی طور پر ان فٹ قرار دینے کا طریقہ کار کیا ہے۔

ججوں کو عہدے سے ہٹانے کے لیے جواز

آئین پاکستان میں عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے کسی جج کو ہٹانے کے لیے دو میں سی کوئی ایک جواز چاہیے: کوئی جج جسمانی یا دماغی معذوری کے باعث اپنے عہدے کے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو یا دوسرا کہ اگر کوئی جج بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو۔

آئین پاکستان کی شق 209 (5) کے مطابق ’اگر، کسی ذریعے سے اطلاع ملنے پر، کونسل یا صدر کی رائے یہ ہو کہ عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج۔۔۔

  1. جسمانی یا دماغی معذوری کی وجوہ سے اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی مناسب انجام دہی کے قابل نہ رہا ہو؛ یا
  2. بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو،

ان دونوں صورتوں میں صدر کونسل کو ہدایت کرے گا، یا کونسل، خود اپنی تحریک پر معاملے کی تحقیقات کر سکے گی۔‘

جج کو ذہنی طور پر ان فٹ کون قرار دے سکتا ہے؟

آئین کے مطابق یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے کہ وہ کسی جج کی ممکنہ دماغی معذوری کا فیصلہ کر سکے۔ مگر اس پر ماہرین کی رائے بٹی ہوئی ہے کہ آیا سپریم جوڈیشل کونسل خود سے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کسی جج کی نفسیاتی صورت حال ٹھیک نہیں یا سپریم جوڈیشل کونسل کو اس حوالے سے تحقیقات میں کسی ماہر نفسیات کی خدمات درکار ہوں گی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس وقت خود سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کا شکار ہیں ان کے مطابق کوئی ماہر ذہنی امراض ہی کسی جج کے ذہنی صورت حال پر رپورٹ دے سکتا ہے۔

19 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے حکم نامے میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ’ذہنی دباؤ‘ کا ذکر کیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس آرڈر کے خلاف درخواست میں کہا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین نے آرڈر میں ان کی ’دماغی صورت حال‘ کا ذکر کیا ہے جس کا فیصلہ ان کے مطابق کوئی سند یافتہ سائیکائٹرسٹ یا سائیکالوجسٹ (ذہنی امراض کے ڈاکٹر/ماہر نفسیات) ہی کر سکتا ہے۔

ان کے برعکس سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے لیے کسی ماہر کی خدمات لینا ضروری نہیں۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل آئین کی شق 209 کے تحت انکوائری کرے گی اور کونسل کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے معاملے میں ان کے فیصلے کے مندرجات سے ہی ان کے ’مائنڈ سیٹ‘ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

موجودہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے گذشتہ رات جیو ٹی وی کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ‘ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی توازن کے معاملے کو دیکھنے کے لیے انتظامیہ سپریم جوڈیشل کونسل سے کہے گی کہ اس پر تحقیقات کرے اور یہ سپریم جوڈیشل کونسل کی مرضی ہے کہ وہ انتظامیہ کی درخواست کو سنے یا نہ سنے۔

آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس اختیار ہے کہ وہ تحقیقات کے لیے کسی کی بھی خدمات حاصل کر سکتی ہے۔

آئین کی شق 210 (1) سپریم جوڈیشل کونسل کی تحقیقات کے اختیارات وضع کرتی ہے۔ اس شق کے مطابق ’کونسل کو کسی معاملے کی تحقیقات کی غرض سے وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو عدالت عظمیٰ کو کسی شخص کو عدالت میں حاضر کرانے کے لیے یا کسی دستاویز کی برآمدگی یا اس کو پیش کرنے کے لیے ہدایات یا احکام جاری کرنے کے لیے حاصل ہیں۔‘

دنیا بھر میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک جج کو ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ 2002 میں امریکی ریاست الینوئے کی ایک جج کو قانونی طور پر پاگل (legally insane) قرار دے کر عہدے سے معطل کیا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت کے اندر پولیس افسر پر حملہ کیا تھا۔

مارچ 2016 میں فلپائن کی ایک عدالت نے بھی ایک جج کو ذہنی توازن کے باعث عہدے سے برطرف کیا تھا۔ اس کیس میں جج کے ذہنی توازن کی باقاعدہ ماہر ذہنی امراض سے دو مختلف رپورٹیں مانگی گئی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان