’ویڈیو اور فوٹیج میں کیا فرق ہے بھائی؟‘

وزیر مملکت برائے اینٹی نارکوٹکس شہریار آفریدی کی مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث و تکرار شروع ہوگئی کہ آخر ویڈیو اور فوٹیج میں فرق کیا ہے؟

وزیر مملکت برائے اینٹی نارکوٹکس شہریار آفریدی نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار ہونے والے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے حوالے سے متعدد بار یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں، جنہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا، تاہم رانا ثنا کی ضمانت کے بعد آج اپنی پریس کانفرنس میں شہریار آفریدی نے اپنی ہی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ویڈیو ثبوت نہیں، بلکہ فوٹیج کی بات کی تھی۔

یہ الگ بات کہ عدالت میں رانا ثناء اللہ کے خلاف ’ویڈیو‘ یا ’فوٹیج‘ بطور ثبوت پیش کیے گئے یا نہیں لیکن پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی جانب سے سوالات پر شہریار آفریدی نے جو گول مول قسم کا جواب دیا،اس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث و تکرار شروع ہوگئی کہ آخر ویڈیو اور فوٹیج میں فرق کیا ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے بھی اسی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں مختلف لوگوں سے گفتگو کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے وابستہ اور کیمپس ریڈیو سٹیشن کے ڈائریکٹر محمد نعمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فوٹیج پرانی اصطلاح ہے، جب ویڈیو کا دورانیہ پٹی یا ریل کے ذریعے لمبائی کے حساب سے ناپا جاتا تھا۔ اس وقت 35 ملی میٹر، 16 ملی میٹر اور آٹھ ملی میٹر کی ریل ہوا کرتی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوٹیج اور ویڈیو کے بننے کا عنصر ایک جیسا ہے یعنی فوٹیج اور ویڈیو دونوں ساکن (Still) تصویروں کا مجموعہ ہوتا ہے اور ہزاروں اور لاکھوں سٹل تصاویر کیمرے کے ذریعے ایک ساتھ مل کر ویڈیو یا فوٹیج بناتی ہیں اور پلے کرتے ہوئے یہ اتنی تیزی سے آنکھوں کے سامنے سے گزرتی ہیں کہ دیکھنے والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ سٹل تصویریں ہیں۔‘

یہ تفصیل تو اپنی جگہ لیکن سوشل میڈیا صارفین وزیر مملکت شہریار آفریدی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور ان کی جانب سے دلچسپ تبصرے سامنے آرہے ہیں۔

صحافی ضرار کھوڑو نے ٹوئٹر پر لکھا: ’میں شہریار آفریدی کے حوالے سے کوئی مذاق کرنا چاہتا تھا لیکن جب وہ خود ہی اپنا مذاق بنوا رہے ہوں تو میں کیسے کرسکتا ہوں؟‘

کئی صارفین سوال کرتے نظر آئے کہ ’ویڈیو اور فوٹیج میں کیا فرق ہے؟‘

کچھ لوگوں نے ڈکشنریوں سے ویڈیو اور فوٹیج کی تعریف بھی نکال کر ٹوئٹر پر شیئر کردی۔

ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ شہریار آفریدی کی پریس کانفرنس کے بعد گوگل ڈکشنری پر لفظ فوٹیج کو ریکارڈ ہٹس موصول ہوئے ہیں۔

ایک صارف نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’شہریار آفریدی استعفیٰ تو بنتا ہے‘۔ مذکورہ کلپ کے مطابق شہریار آفریدی کلمہ پڑھ کر رانا ثناء اللہ کے خلاف ثبوتوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔

لفظ ’فوٹیج‘ کا استعمال کب شروع ہوا؟

سوسائٹی آف موشن پکچر اینڈ ٹیلی وژن انجینیئرز ایک نجی امریکی سوسائٹی ہے جو ویڈیو کے حوالے سے معیارات متعین کرتی ہے۔ اس ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق لفظ فوٹیج کا استعمال اس وقت شروع ہوا جب 35 ملی میٹر کی فلمز بننا شروع ہوئیں جو بغیر آواز کے تھیں۔ 

اس عمل میں ایک سیکنڈ دورانیے کی فلم 35 ملی میٹر کی فلم سٹرپ پر ریکارڈ کی جاتی تھی اور اسی وجہ سے اس کو ’فوٹیج‘ کہا جاتا تھا۔ پڑھنے والوں کو پرانے زمانے کے ریل والے کیمرے ضرور یاد ہوں گے۔

سب سے پہلی 35 ملی میٹر فوٹیج 1892 میں ولیم ڈکسن اور تھومس ایڈیسن نے ایجاد کی تھی اور بعد میں 1909 میں یہی 35 ملی میٹر کی فلم سٹرپ ویڈیوز کے لیے ایک سٹینڈرڈ پیمانہ مانا گیا۔

لفظ ’ویڈیو‘ کی تاریخ

امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق لفظ ’ویڈیو‘ لاطینی زبان کے لفظ ’videre‘ سے نکلا ہے جس کے معنی دیکھنا (to see) ہیں۔ یہ لفظ سب سے پہلے 1930 میں ویژول کے لیے استعمال ہوا تھا، جب ویڈیو کا زمانہ شروع ہوگیا تھا۔

اس تحقیقی مقالے کے مطابق سب سے پہلا ویڈیو ٹریک 1927 میں جون لوگی بیئرڈ نے بنایا تھا، جنہوں نے ’phonovision‘ کا ایک نظام بنایا، تھا جو ڈسک کیسٹ کے ذریعے تصویروں کو جوڑتا تھا اور جس سے ویڈیو وجود میں آتی تھی۔

اس کے بعد سے ویڈیو ٹیپ آنا شروع ہوئیں اور 1950 کی دہائی میں ٹیپ کے ذریعے ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل