گیس ڈیٹیکٹر جو الارم بجا کر بروقت جان بچا سکتے ہیں

پاکستان میں کئی آن لائن کمپنیاں گیس ڈیٹیکٹر فروخت کر رہی ہیں، لیکن پھر بھی ہر سال کئی افراد گیس لیکج سے ہلاک ہوجاتے کیونکہ شہریوں کو ان کے بارے میں آگاہی ہی نہیں۔

ملک میں نومبر سے مارچ کے دوران گیس لیکج  کے باعث ہونے والے حادثات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ (اے ایف پی)

پاکستان میں ہر سال موسم سرما میں سینکڑوں جانیں صرف گیس لیک ہونے کی وجہ سے ہی چلی جاتی ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں کوئٹہ میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس میں ایک خاندان کے پانچ افراد گیس لیکج کے باعث ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاندان نے رات کو اپنا گیس ہیٹر چلتا ہوا چھوڑ دیا۔ رات کے کسی پہر گیس کے پریشر میں کمی آنے سے ہیٹر بند ہوا اور گیس کمرے میں پھیل گئی۔ نتیجتاً نوید شہزاد، ان کی بیوی اور تین بچے آکسیجن کی کمی کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔

ایسا ہی ایک واقعہ کوئٹہ میں پچھلے سال بھی پیش آیا تھا جس میں ایک ہی گھر کے چار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔  ہر سال موسم سرما میں اس طرح کی خبریں ملک بھر کے دیگر علاقوں سے  آنا کوئی حیرانی کی بات نہیں رہی ہے۔ کہیں پر گیس تو کہیں کوئلے کا دھواں کمرے میں بھر جانے سے کئی لوگ مرجاتے ہیں۔ تاہم ملک میں سرکاری طور پر ایسی اموات کے اعداد و شمار جمع ہی نہیں کیے جاتے۔

اس کے علاوہ سینکٹروں لوگ گیس کی لیکج سے ہونے والے دوسرے حادثات مثلاً سیلنڈر کے پھٹ جانے یا گیس سے آگ لگ جانے کے نتیجے میں بھی ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں جن کے بارے میں بھی ملکی سطح پر اعداوشمار ملنا مشکل ہے۔

موسم سرما سب پر بھاری  

جھلس جانے والے مریضوں کے علاج کے لیے پشاور کے علاقے حیات آباد میں پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید ہسپتال، برنز اینڈ پلاسٹک سرجری سینٹر قائم ہے جس کے پروفیسر ڈاکٹر تمہید اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے سینٹر میں نومبر2018 سے اکتوبر 2019 تک کل ایک ہزار 383 کیسز آئے جن میں سے 65 فیصد (تقریباً 900) ایسے مریض تھے جو گیس کے مختلف حادثات میں زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ نومبر سے مارچ کے دوران اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تاہم اس پریشان کن صورت حال کے باوجود آج بھی پاکستان میں کچھ ہی لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ ایسے آلات بھی دستیاب ہیں جو بروقت الارم بجا کر مختلف گیسوں کی موجودگی کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ یہ آلات نہ صرف مشہور آن لائن ویب سائٹس پر باآسانی دستیاب ہیں بلکہ کم قیمت پر بھی مل رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آن لائن کاروبار کرنے والے حضرات بھی یہ آلات فروخت کر رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بازاروں میں بھی دستیاب ہوں لیکن تاحال اب تک نہ تو ان کا کوئی اشتہار سامنے آیا ہے اور نہ ہی سرکاری طور پر اس کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے کوئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے علی محمد ایک آن لائن ریٹیلر ہیں جو گیس کی نشاندہی کرنے والے آلات  کی فروخت کا کام کرتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ آلات، جنہیں گیس ڈیٹیکٹر کہتے ہیں، بنیادی طور پر دو اقسام ہوتے ہیں۔ ایک وائر لیس ہوتا ہے جو کنوؤں اور سرنگوں میں گیس کی موجوگی کا پتہ لگانے کے کام آتا ہے اور اکثر مختلف قسم کی گیسوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دوسرا وہ  گیس ڈیٹیکٹر جو گھریلو استعمال کے لیے ہوتا ہے اور بجلی سے چلتا ہے۔ گھریلو استعمال کے لیے وائر لیس ڈیوائسز بھی مل جاتی ہیں۔

علی محمد  کے مطابق جیسے ہی ان ڈیٹیکٹرزکے سینسرز گیس کی موجودگی کا احساس کرتے ہیں، یہ الارم بجانا شروع کر دیتے ہیں جس سے بروقت گیس لیکج کا پتہ چل جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عموماً یہ ڈیوائس باورچی خانے میں لگائی جاتی ہے۔ تاہم احتیاط کے طور پر اسے ان کمروں میں بھی لگانا چاہیے جہاں ہیٹرز کا استعمال ہوتا ہے یا جہاں سے گیس کے پائپوں کا گزر ہو۔

’احتیاط  ضروری ہے‘

برنز اینڈ پلاسٹک سرجری سینٹر کے پروفیسر ڈاکٹر تمہید اللہ  کا کہنا ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے کیونکہ نہ صرف جھلسنے والے مریض کو شدید تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے بلکہ ان کا علاج  بھی مہنگا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’ایسے مریض کو 73 دنوں کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا جاتا ہے اور اگر علاج میں ذرا بھی گڑبڑ ہو جائے تو ہسپتال میں علاج کی مدت میں ایک مہینے کا مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے مریض کے لیے کھاریاں کے سینٹر میں صرف داخلہ فیس پانچ لاکھ روپے ہے جبکہ پمز میں یہ فیس دو لاکھ ہے۔

گیس لیکج یا گیس لیک ہونے سے لگنے والی آگ کے حادثات سے بچنے کے لیے کچھ تجاویز یہ ہیں:

1۔ جب بھی کوئی بند کمرہ کھولا جائے اور گیس کی بو محسوس ہو تو فوراً سے بلب کبھی بھی نہ جلائیں کیونکہ بلب کے بٹن میں سپارک دھماکے کا باعث بن سکتا ہے۔

2-  کبھی بھی گیس کی بو محسوس ہونے پر تیلی نہ جلائیں۔

3-  گاڑی میں بیٹھنے پر اگر گیس کی بو محسوس ہو تو گاڑی سٹارٹ نہ کریں۔

4-   اگر کسی عمارت میں آگ لگی ہو تو لفٹ کی بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں۔  

5- جب بھی جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس پر نلکے کا پانی ڈالیں، البتہ برف کا پانی ڈالنے سے احتیاط کریں۔

7- اگر کپڑوں کو آگ لگ جائے تو فوراً زمین پر لیٹ کر رولنگ کریں یا پھر موٹا کمبل اوڑھ لیں۔

8- جس شخص کا جسم جل جائے اسے ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے اس کے زیورات فوراً اتار لیں کیونکہ بعد میں جسم پھولنے سے زیوارت پھنس سکتے ہیں۔

9- جل جانے والے شخص کو کبھی بھی کھانے کی کوئی چیز مت دیں کیونکہ پھر ہسپتال میں انہیں بے ہوشی کی دوا دینے کے لیے ڈاکٹروں کو مزید انتظار کرنا پڑے گا اور یوں مریض کا علاج دیر سے شروع ہوگا۔

10-  گھر میں فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی اداروں کے نمبر سنبھال کر رکھیں اور گھر، گاڑی اور دفتر میں ایک سٹینڈرڈ سائز کا فرسٹ ایڈ بکس لازمی رکھیں۔

11- گھر اور دفاتر میں آگ بھجانے کے آلات (فائر ایکسٹنگویشر) رکھیں اور انہیں ہر چھ ماہ بعد چیک ضرور کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان