’ہم نے ملزمان کو عوض نور کو ٹینکی میں ڈبوتے ہوئے دیکھا‘

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں قتل ہونے والی آٹھ سالہ عوض نور کے ماموں کے مطابق گاؤں کے لوگ ملزمان کو زندہ جلانے کا سوچ رہے تھے لیکن ہمارے خاندان والوں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لینے دیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی آٹھ سالہ عوض نور کو گذشتہ روز اس وقت قتل کیا گیا جب وہ مدرسے گئیں اور شام تک واپس نہیں آئیں۔ (تصویر: سوشل میڈیا)

’ہمارے گھر سے تقریباً 60 گز کے فاصلے پر ایک کھلے میدان میں ٹینکی ہے، ہم نے ملزمان کو بچی کو اس میں ڈالتے ہوئے دیکھا۔ ہمیں دیکھتے ہی وہ بھاگ گئے لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے انہیں پکڑ لیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔‘

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں قتل کی گئی آٹھ سالہ عوض نور کے ماموں آصف خان کا، جنہیں گذشتہ روز اس وقت قتل کیا گیا جب وہ مدرسے گئیں اور شام تک واپس نہیں آئیں۔ بچی کے قتل پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی غم و غصے کے اظہار کے ساتھ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

عوض نور کے قتل کا مقدمہ بچی کے ماموں آصف خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عوض نور گذشتہ ہفتے کو گھر سے قریبی مدرسہ کے لیے نکلی لیکن واپس نہیں آئی تو گھر والوں نے ان کی تلاش شروع کردی۔

آصف خان کے مطابق: ’ہم نے مساجد میں اعلانات بھی کیے اور پولیس سٹیشن میں مقدمہ بھی درج کروا دیا۔ شام کے بعد ہم نے گھر کے قریب واقع ایک ٹینکی میں دو افراد کو بچی کو اس میں ڈبوتے ہوئے دیکھا، لیکن ہمیں دیکھتے ہی وہ بھاگ گئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوشہرہ پولیس کے مطابق بچی کے قتل میں ملوث مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کاشف ذوالفقار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچی کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد موجود نہیں ہیں، تاہم حقائق جاننے کے لیے نمونے پشاور بھجوائے گئے ہیں تاکہ قتل کی وجہ معلوم ہوسکے، جس کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

انہوں نے بتایا: ’بچی کی گردن پر تشدد کے نشانات ہیں اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی موت ٹینکی میں ڈبونے کی وجہ سے واقع ہوئی۔‘

پولیس حکام کی جانب سے اتوار کے روز کی گئی ایک پریس کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

تفتیشی افسر سجاد خان نے بتایا کہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

مقتول بچی کے والد سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں، جو واقعے کی اطلاع ملتے ہی پیر کو وطن واپس پہنچے۔

دوسری جانب بچی کے ماموں آصف خان نے بتایا: ’ہمارے گاؤں کے بہت سے لوگ جمع ہو کر ملزمان کو زندہ جلانے کا سوچ رہے تھے لیکن ہمارے خاندان والوں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لینے دیا اور سب کچھ قانونی طریقے سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب انصاف کا ترازو حکومت کے ہاتھ میں ہے اور ہمیں امید ہے کہ انصاف ہوگا۔‘

عوض نور کے قتل کے کیس کے حوالے سے ٹوئٹر بھی ایک ٹرینڈ چل رہا ہے، جہاں لوگ اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

ٹی وی اینکر نادیہ مرزا نے لکھا کہ ’بچوں سے زیادتی کے حوالے سے قانون بن گیا ہے لیکن اس طرح کے واقعات رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ اس حوالے سے بات کرنی پڑے گی۔‘

ساتھ ہی انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ اپنے بچوں اور بچیوں کو کبھی تنہا نہ چھوڑیں۔

سابق رکن اسمبلی بشریٰ گوہر نے  بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو روکنے میں حکومتی ناکامی کی بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ ایک ہنگامی اجلاس بلائیں جس میں صوبے میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے بات ہوسکے۔

صحافی فیاض احمد نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صرف اتنا لکھا: ’ہمیں افسوس ہے بیٹا۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف سالار یوسفزئی نے لکھا: ’یہ لاش عوض نور کی نہیں بلکہ اس معاشرے کی لاش ہے جو کبھی ٹینکی سے ملتی ہے تو کبھی کچرے سے۔‘


ایک ٹوئٹر صارف احتشام الحق نے لکھا کہ ’عوض نور کے واقعے پر میڈیا کیوں خاموش ہے؟‘

ساتھ ہی انہوں نے مرکزی میڈیا پر کیس کی رپورٹنگ نہ کیے جانے کے حوالے سے لکھا کہ ’ٹک ٹاک سٹارز حریم شاہ اور صندل خٹک کے لیے پرائم ٹائم میں وقت لیکن اس بچی کے لیے ایک رپورٹ تک نہیں چلائی گئی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان