’چاند رات کو سٹوپا کے سر سے نکل کر اذان دینے والا سونے کا مرغ‘

 نیکی خیل میں بنائے گئے سٹوپا کے بارے میں ایک ایسی افواہ مشہور ہوئی جس کی وجہ سے یہ سٹوپا اور اس کے ارد گرد کی تاریخی جگہیں تباہ و برباد اور ویران ہویئں۔

درہ خیبر سے گزرتی ہوئی یہ شاہراہ جنگ اور امن دونوں میں تاجروں، جنگجوؤں اور فوجوں کی گزرگاہ کے طورپر استعمال ہوتی آئی ہے اس لیے دیگر قبائلی اضلاع کے مقابلے میں اس کی تاریخی اہمیت بھی نسبتاً زیادہ ہے۔

پگڑی نما یہ سٹوپا درہ خیبر کے علاقے نیکی خیل پہاڑ کی چوٹی پر بنایا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر جن کا تعلق قبائلی علاقہ خیبر سے ہے اور جو گزشتہ بیس سال سے تاریخ پڑھا رہے ہیں، وہ اس سٹوپا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’اشوکا کے دور حکومت میں یہاں بدھ مت کی تعلیمات پہنچیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اشوکا کا اثر رسوخ ان پہاڑی علاقوں میں اتنا نہیں تھا جتنا کہ ایک اور بادشاہ کنکشا کا تھا۔ کنکشا 120 عیسوی کے آس پاس ایک ہندوستانی بادشاہ گزرا ہے جس کے زمانے میں بدھ مت کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی اور وہ چاہتا تھا کہ بدھ مت کی تعلیمات کو پھیلایا جائے، تو اس نے یہاں یہ سٹوپا بنوا دیا۔‘

مورخین کہتے ہیں کہ پتھروں سے بنے اس طرح کے سٹوپاز میں اشوکا نے گوتم بدھ کی راکھ دفن کی تھی۔ اس طرز پر بنے سٹوپاز سوات اور روات میں بھی بنائے گئے ہیں۔

لیکن  نیکی خیل میں بنائے گئے سٹوپا کے بارے میں ایک ایسی افواہ مشہور ہوئی جس کی وجہ سے یہ سٹوپا اور اس کے ارد گرد کی تاریخی جگہیں تباہ و برباد اور ویران ہویئں۔

شہزادہ افریدی کا گھر سٹوپا کے دامن ہی میں واقع ہے۔ وہ اس افواہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’علاقے میں مشہور تھا کہ سٹوپا کے سر سے سونے کا مرغ نکلتا ہے اور چاند رات کو اذان دیتا ہے۔ میرے والد صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ نیچے سے سرنگ بنا لیں گے تاکہ اوپر جو خزانہ موجود ہے اسے نقصان نہ پہنچے۔ یہ سرنگ میرے والد صاحب نے 1988 میں شروع کی اور اس پر تقریباً تیس سے پینتیس لاکھ روپے تک خرچ کیے۔ میں بھی اپنے والد صاحب کے ساتھ لگا ہوا تھا، مزدور بھی کام کرتے تھے اور ڈرلنگ مشین بھی لگی رہتی تھی۔‘

یہ سٹوپا تقریباً 500 میٹر اونچے پہاڑ کی چوٹی پر بنا ہے اور مقامی لوگوں میں یہ بات اب بھی مشہور ہے کہ یہاں خزانہ موجود ہے۔ بہت سے لوگوں نے کوشش کی کہ اس سٹوپا میں موجود خزانہ ان کو ملے۔ شہزادہ افریدی کہتے ہیں کہ انہوں نے بھی کئی بار کوشش کی ہے۔

’پھر  سوات سے آئے ہوئے میرے تجربہ کار دوستوں نے کہا کہ سٹوپا کی چھت پر واقع گولائی میں سونے کے برتن پڑے ہیں۔ ہم نے 15 سے 20 روز لگاتار دن رات کام کیا اور اسی جگہ تک پہنچ گئے لیکن وہاں بھی کچھ نہیں ملا۔‘

 اس سٹوپا کے ارد گرد ٹیکسلا کی طرح رہائشی عماراتیں موجود تھیں لیکن اب کچھ بھی نہیں بچا کیوں کہ مقامی اور باہر سے آئے ہوئے نوادرات کے تاجروں نے تمام اشیا اور عماراتوں کی دیواروں پر موجود نقش تک کاٹ لیے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اس سٹوپا کے قریب بدھ مت کے مذہبی پیشوا اور طلبا رہائش پذیر تھے جن کے لیے بہت سے کمرے اور ہال تعمیر کیے گئے تھے۔ بدقسمتی سے کسی بھی حکومتی ادارے یا فرد نے اس اہم تاریخی ورثے کو بچانے کی کوشش ہی نہیں کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہزادہ آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ’پولیٹیکل انتظامیہ سمیت دیگر کئی اداروں کے لوگ یہاں آتے تھے لیکن وہ لوگوں کو اشیا لے جانے سے نہیں روک پاتے تھے کیوں کہ قبائلی علاقہ تھا اور اس وقت قانون نہیں تھا اور کسی کو بھی ان اشیا کی اتنی پرواہ نہیں تھی۔ سٹوپا کے ارد گرد کے پورے علاقے میں لاکھوں کی تعداد میں بدھا کے مجسمے اور دیگر باقیات موجود تھے۔‘

’اب تک اس سٹوپا سے کم از کم دو لاکھ سے زائد بدھا کے مجسمے اور دیگر اشیا نکالی جا چکی ہیں۔ سوات، پشاور اور افغانستان سے لوگ رات کو یہاں آتے تھے اور یہاں سے چوری چھپے اشیا نکال کے لے جاتے تھے۔‘

مقامی لوگوں کے پاس اب بھی اس سٹوپا کی باقیات موجود ہیں۔

پرویفر اسلم تاثیر کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ اس تاریخی ورثے کی حفاظت کریں۔

مقامی لوگوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگر حکومت سٹوپا کی مرمت اور بحالی پر کام کرے تو ان کے کے پاس جتنے بھی باقیات ہیں وہ حکومت کے حوالے کریں گے تاکہ بدھ مت کے پیروکار آ کر ان کی زیارت کریں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے سٹوپا کے ساتھ باہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس کی تعمیر بھی شروع کر رکھی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ