کیا قلوپطرہ واقعی خوبصورت تھیں؟

مصری ملکہ واقعی لافانی حسن کی مالکہ تھیں، یا بقول شخصے، صرف کہانیاں بنی ہوئی ہیں؟

قلوپطرہ تاریخ کی شاید واحد خاتون ہیں جنہیں مرنے کے دو ہزار سال بعد بھی سیلیبرٹی کا درجہ حاصل ہے۔

آج بھی جب کسی کے حسن کی تعریف کرنی ہو تو قلوپطرہ کا نام ذہن میں آتا  ہے۔ پچھلے دو ہزار برس سے ان کے لازوال حسن پر ان گنت پینٹنگز، میورل  اور مجسمے تیار کیے  جا چکے ہیں، وہ متعدد ناولوں، افسانوں اور کہانیوں کا موضوع بن چکی ہیں اور ان پر ہالی وڈ سمیت دنیا بھر میں فلمیں بنائی گئی ہیں جن میں ان کے کردار الزبتھ ٹیلر اور صوفیہ لارین جیسی حسیناؤں نے ادا کیے ہیں۔

لیکن کیا واقعی تاریخی قلوپطرہ اتنی ہی حسین و جمیل تھیں کہ ان کا حسن ہمارے اجتماعی لاشعور کا حصہ بن گیا ہے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے اس یہ بتانا ضروری ہے کہ قلوپطرہ تھیں کون۔

آج ہم جس خاتون کو قلوپطرہ کے نام سے جانتے ہیں وہ دراصل قلوپطرہ ششم ہیں جو 69 قبل مسیح میں مصر کے حکمران بطلیموس دوازدہم کے گھر میں پیدا ہوئی تھیں۔ جب والد کا انتقال ہوا تو اصولی طور پر اقتدار 18 سالہ قلوپطرہ کے پاس آنا چاہیے تھا، مگر لوگوں کو عورت راج قبول نہیں تھا اس لیے انہیں چھوٹے بھائی کے ساتھ  مشترکہ حکمران بنا دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مثل مشہور ہے کہ ایک گدڑی میں دو فقیر اور ملک میں دو بادشاہ نہیں سما سکتے، تو ایک تخت پر دو بادشاہ کیسے رہ پاتے؟ تو پھر یہی ہوا کہ قلوپطرہ کو بھائی کی فوجوں سے جان بچا کر مصر سے بھاگ کر روم جانا اور رومن بادشاہ جولیئس سیزر سے مدد حاصل کرنا پڑ گیا۔

سیزر مصری ملکہ کی فریاد سے کم اور اداؤں کا اسیر زیادہ ہوا اور اس نے مصر پر چڑھائی کر دی اور مشکل ہی سے سہی، لیکن قلوپطرہ کو دوبارہ تخت پر بٹھا دیا جہاں وہ طویل عرصہ براجمان رہیں۔

سیزر کے قتل کے بعد رومی تاج مارک اینٹنی کے سر پر سجا تو انہوں نے شاید اسی وراثت کے تحت قلوپطرہ سے بھی افیئر چلانا شروع کر دیا۔ روایات کے مطابق جب باغیوں نے قلوپطرہ کو شکست دے دی تو انہوں نے خود کو سانپ سے ڈسوا کر خودکشی کر ڈالی۔ مار دھاڑ، سنسنی خیزی، محلاتی سازشوں سے بھرپور فلمی کہانی جیسی زندگی گزارنے کے بعد مرتے وقت قلوپطرہ کی عمر صرف 39 برس تھی۔

قلوپطرہ کے مبینہ ’لافانی حسن‘ کا سب سے پہلا ذکر ہمیں رومن تاریخ دان کیسئس ڈیو کی کتاب میں ملتا ہے جو کہتے ہیں: ’وہ بےمثال حسن کی مالکہ تھیں۔‘

بظاہر یہی فقرہ بعد کے تاریخ دان لے اڑے اور رفتہ رفتہ یہ بچے بچے کی زبان پر چڑھ گیا۔ آج بھی اگر کسی کے حسن کا ذکر کرنا ہو تو عموماً قلوپطرہ کا نام ذہن میں آتا ہے۔

لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ کیسیئس نے یہ فقرہ قلوپطرہ کے مرنے کے دو سو سال بعد لکھا تھا۔

اگر ہم تاریخ میں قلوپطرہ کے دور کے تھوڑا اور قریب جائیں تو تھوڑی مختلف تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔

مشہور مورخ پلوٹارک کیسیئس سے سو سال پہلے گزرے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’ان کا حسن اتنا بےمثال نہیں تھا کہ دیکھنے والوں پر کوئی گہرا تاثر چھوڑتا،‘ اور یہ کہ قلوپطرہ کی جسمانی خوبصورتی سے زیادہ ان کی شخصیت دیکھنے والوں کو متاثر کرتی تھی۔

تو پھر ہم کس کی بات مانیں؟ وہ جو سو سال پہلے لکھ رہا ہے یا جو دو سو سال بعد؟ کیا کوئی اور طریقہ بھی ہے جس کی مدد سے ہم خود کسی نتیجے تک پہنچ سکیں؟

خوش قسمتی سے ایسے کئی طریقے موجود ہیں۔ ایک تو قلوپطرہ کے دور کے سکے ہیں جن میں ان کا چہرہ دکھایا گیا ہے۔ ان میں قلوپطرہ  کی ناک لمبی اور ٹیڑھی نظر آتی ہے اور ٹھوڑی بھی کچھ زیادہ ہی ابھری ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ ان کی گردن پر چربی کی تہوں سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ گلہڑ کی بیماری کا شکار تھیں۔

ان سکوں میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قلوپطرہ واقعی کسی اساطیری دیوی کی طرح حسین و جمیل تھیں۔  

بلکہ ان میں قلوپطرہ نسوانی حسن کی تاریخ ساز ماڈل کی بجائے مردانہ نقوش کی زیادہ حامل دکھائی دیتی ہیں۔

لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ سکہ سازوں نے جان بوجھ کر ملکہ کی ایسی تصویر پیش کی ہو کہ وہ کمزور نظر نہ آئیں بلکہ سخت گیر حکمران کے روپ میں دکھائی دیں؟

دوسری طرف چند ایسی ہم عصر پینٹنگز اور مجسمے بھی ہمارے پاس موجود ہیں جن میں ممکنہ طور پر قلوپطرہ کو دکھایا گیا ہے۔ ان میں بھی قلوپطرہ کے کم و بیش وہی نقوش دکھائی دیتے ہیں جو سکّوں پر کندہ ہیں، جن سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ قلوپطرہ ایسی نہیں تھیں جیسے افسانے بنے ہوئے ہیں۔

لیکن یہ بھی ہے کہ آج دو ہزار سال بعد ہم اپنی مخصوص ثقافتی عینک سے ایک ایسی خصوصیت پرکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بارے میں بزرگوں نے کہہ رکھا ہے کہ وہ دیکھنے والی کی آنکھ میں ہوتی ہے۔

اس لیے شاید یہ سوال زیادہ موزوں ہے کہ قلوپطرہ اپنے دور کے لوگوں کو کیسی لگتی تھیں۔

اور اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قلوپطرہ میں کوئی تو ایسی بات ضرور تھی کہ رومن دور کے دو عظیم ترین شہنشاہ ان کی خاطر ہر حد سے گزر گئے۔ اور یہی بات سب سے اہم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ