امریکہ نے یمن میں القاعدہ کے رہنما کو ہلاک کر دیا

امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوج نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کے دوران یمن میں سرگرم القاعدہ کے رہنما قاسم الریمی کو ہلاک کر دیا ہے۔

یمن میں القاعدہ کے عسکری سربراہ قاسم الریمی کی فائل تصاویر (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے یمن میں القاعدہ کے رہنما قاسم الریمی کو ہلاک کر دیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے یمن میں انسداد دہشت گردی کے لیے ایک کارروائی کی جس میں القاعدہ رہنما کو ہلاک کرنے میں کامیابی ملی۔

قاسم الریمی کو شدت پسندوں کی جانب سے امریکی بحری اڈے پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کے چند دن بعد ہلاک کیا گیا ہے۔ وہ یمن میں القاعدہ کے بانی رہنما تھے۔

یمن میں القاعدہ نے اتوار کو ذمہ داری قبول کی تھی کہ چھ دسمبر کو امریکی ریاست فلوریڈا میں پینساکولا نیول ایئر سٹیشن میں فائرنگ کی گئی جس میں تین امریکی بحری سپاہی مارے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ یمن میں سرگرم القاعدہ کو شدت پسندوں کے عالمی نیٹ ورک میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کرتا ہے۔ ملک میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے تنظیم کو اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع ملا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ الریمی کی قیادت میں القاعدہ نے یمن میں شہریوں کو غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایا اور امریکہ اور اس کی فورسز پر نہ صرف متعدد حملوں کی کوشش کی بلکہ حملوں پر اکسایا۔ ان کی موت سے القاعدہ اور اس کی عالمی سطح پر تحریک مزید کمزور ہو گی اور ہمیں ان گروپوں کی جانب سے امریکی قومی سلامتی کو لاحق خطرات خم کرنے میں مدد ملے گی۔

ٹرمپ نے الریمی کو ہلاک کرنے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے حالات اور وقت کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی۔ اس سے پہلے 2015 میں الریمی کے پیش رو ناصرالوہیشی کو یمن میں طویل عرصے سے جاری ڈرون حملوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا