مغل خاندان آج بھی ہندوستان پر حکومت کے لیے تیار ہے

اگر یہاں کے باسی جمہوریت کے پیاز کھا کھا کر تنگ آ چکے ہیں اور ان کے دل میں بادشاہت کے جوتے کھانے کی تڑپ ہے تو وہ ہمت کریں اور کوڑھ زدہ فرنگی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں۔

(پبلک ڈومین)

(اس تحریر کا حصۂ اول یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے)

عظیم مغلیہ خاندان میں 1940میں حادثاتی طور پرشروع ہونے والا تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ تختی، قاعدہ کا سفر بھاری بھرکم سکول بیگوں تک پہنچ گیا ہے۔ الف انار، ب بکری کا سبق موٹی موٹی سائنسی کتابوں اور کمپیوٹر تک آ گیا ہے۔

گورنمنٹ ورنیکولر سکول بلکسرکی کچی مٹی پر بیٹھ کر تعلیم کا آغاز کرنے والوں کی تیسری نسل نامور تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہے۔ ماہانہ فیس موری والے سکے سے بڑھ کر ہزاروں تک جا پہنچی ہے۔ کئی کئی میل ٹُوٹے جوتوں کے ساتھ پیدل چل کر سکول جانے والوں کے پوتوں کے در پر صبح گاڑیاں تیارکھڑی ہوتی ہیں۔ البتہ جہاں تک علم کا تعلق ہے تو ہم مغل آج بھی وہیں کھڑے ہیں، جہاں صدیوں پہلے موجود تھے۔ پلوں کے نیچے سے کھربوں کیوسک فٹ پانی بہہ گیا مگر ’مغلوں‘ کی لاعلمی سے دیرینہ محبت نہ گئی۔

تاہم ہمیں اپنی اس دیرینہ محبت پرکوئی ندامت نہیں۔ ہمیں تو اپنا تاج وتخت چھن جانے کاغم ہے۔ اپنا لشکرو سپاہ، تزک و احتشام اور جاہ و تکبر چلے جانے کا دکھ ہے۔ ہم جائز وارثان مغلیہ سلطنت اپنے پرشکوہ شاہی محلات، ہیبت ناک قلعہ جات اورخیرہ کن باغات کے ہجر میں نوحہ کناں ہیں۔ ہمیں اپنے محیر العقول درباروں، بارہ دریوں، نشاط وسرور کی محفلوں، شکار گاہوں سونے چاندی کی طشتریوں، جواہرات جڑے پیمانوں، شاہی مشروبات کی بیش قیمت صراحیوں، گراں بہا فانوسوں، لگژری خواب گاہوں، محافظوں، باورچیوں، باغبانوں، دربانوں، جلادوں، درباری مورخوں، قصیدہ خانوں، لونڈیوں، رقاصاؤں، مغنیوں، مسخروں اور بھانڈوں کی یاد رنجیدہ کیے رکھتی ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ اگربہادر شاہ ظفر سے ہوتا ہوا بابا یکڑی کو ان کا جائز حق مل جاتا تو ذرا سی ڈنڈی مارنے اور تھوڑی بہت قتل و غارت کے بعد آج ہندوستان کا تاج خود ہمارے سرکی زینت ہوتا۔

انقلابات ہیں زمانے کے۔ ہمارے آبا کسی سے خوش ہوتے تو اسے سونے میں تلواتے تھے، چاندی میں تلواتے تھے، موتیوں سے منہ بھر دیتے تھے، خلعتیں اورجاگیریں فراخدلی سےعنایت کرتے تھے۔ وہ دریا دل وقارالامرا، مہتاب الدولہ، تعیش الدولہ، ملک الدولہ، اور ریحان الدولہ جیسے القابات وزیروں اوردرباریوں میں ریوڑیوں کی طرح بانٹتے تھے۔ خود ان کے ظل الٰہی، ظل سبحانی اورعالم پناہ جیسے القابات لکھنے شروع کیے جائیں تو کالم میں اصل بات لکھنے کی جگہ ہی نہ بچے، مگر آج جب ہم خاندان مغلیہ کے چشم وچراغ بس میں کھڑے ہو کر سفر کر تے ہیں تو معمولی کنڈ یکٹر ہمیں گستاخ لہجے میں کہتا ہے، ’پچھلے سرے تے چلا جا اوئے باؤ!‘ کئی ناہنجار تو ہمیں سرعام ’شغلیہ خاندان‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

’باادب، باملاحظہ، ہوشیار‘ جیسے فلک شگاف نعروں سے جن کے محلات کے درودیوار کانپ اٹھتے تھے، آج عالم پناہوں کے ان ایوانوں پرکن ادنیٰ لوگوں کا قبضہ ہے، جو کہتے ہیں کہ ترکوں نے یہاں چھ سو سال حکومت کی؟ تلوار کی مسلمہ طاقت کی بجائے بیلٹ باکس کی کمزوربنیاد پر تخت نشیں جاہ ومنصب کے تقاضے کیا جانیں؟ توپ وتفنگ کی جگہ کاغذ کی بے جان پرچی پر آنے والے امور سلطنت کیا نبھائیں گے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اہل ہند جواب دیں، کیا تمہاری سرزمین ہمارے پُرکھوں کی مفتوحہ کنیزنہیں تھی؟ کیا ہمارے اسلاف نے تم ان گھڑوں کو تہذیب سکھانے کے لیے اپناوطن نہیں چھوڑا؟ کیا ہمارے آبا نے تمہیں آداب غلامی نہیں سکھائے؟ کیا تم نے اپنے ان محسنوں کی اطاعت نہیں کی؟ کیا تم نے صدیوں بیرونی حملہ آوروں کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں؟ ایبک،غوری، تغلق، غلاماں، خلجی، سیدی، لودھی۔۔۔ کس کس نے یہاں آ کر تمہیں نستعلیق اخلاقیات نہیں سکھائیں؟ یہاں کے آخری تاجدار ہم مغل تھے۔ ہم لاکھ علم دشمن سہی مگرہندوستان کے حافظے سے کھبی محونہ ہوں گے۔

مورخ کہتا ہے کہ پندھرویں اور سولہویں صدی میں یورپ کو تاریکیوں سے نکال کر شعور و آگہی کے رستے پر گامزن کر نے والی تحریک کی روشنی ہندوستان کے ساحلوں تک نہ پہنچ سکی کہ مغلوں کو دوسری دنیاؤں میں جھانکنے کی عادت نہ تھی۔

ہم کہتے ہیں کہ اگرمغلوں کو دوسری دنیاؤں میں جھانکنے کی عادت نہ ہوتی تو وہ برصغیر آ کر اپنا تسلط کیوں جماتے؟ یورپ کی طرف نہ دیکھنے میں یہ حکمت عملی پوشیدہ تھی کہ احیائےعلوم اورصنعتی انقلاب کی یہ تحریک ان کی لاعلمی سے فطری محبت کی ضد تھی۔ ان کی عقابی نگاہیں اس نام نہاد ترقی کی آڑ میں یورپی معاشروں میں پھیلتی بے راہ روی اور فحاشی دیکھ رہی تھیں۔ اسی خدشے کی بنا پرمغلوں نے یہاں پرنٹنگ پریس بھی نہ لگنے دیا۔

پھر بدقسمتی سے جو انگریز نے اس خطے میں بدنام زمانہ ترقی کا سفرشروع کیا تو دوراندیش اہل منبر کی سرتوڑ مخالفت کے باوجود حالات پرنٹنگ پریس سے اڑان بھر کر بجلی، ہوائی جہاز، موٹروں، فریج، اے سی، ولایتی ادویات، سرجری، ریڈیو، ٹی وی اور وی سی آر سے ہوتے ہوئے آج کی جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی تک آ نکلے ہیں، جنہوں نے ہماری مایہ ناز اخلاقایات اوراقدار کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔

انگریز کی سب سے بڑی دونمبری نیکو کاروں کی اس سرزمیں پر جمہوری نظام کی راہ ہموار کرنا تھی، جس کا خمیازہ آج ہم عظیم مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرنے اوراپنی تباہی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں، آپ جو بھی کہیں مگر ہم وارثان مغلیہ سلطنت آئین یا پارلیمنٹ کی بالا دستی کو نہیں مانتے۔ ہمارا بادشاہ ان سے بلند ہے۔ ہمیں آج بھی ’ایک تھا بادشاہ‘ کی کہانیوں سے قلبی لگاؤ ہے۔

ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اہل برصغیر نے مجبوراً بیرونی جمہورری نظام کو قبول کیا ہوا ہے، ورنہ اس خاکستر میں ابھی چنگاریاں موجود ہیں۔ اگر آج بھی کوئی گھڑسوار جلیل القدر فاتح کمر سے تیغ آبدار لٹکائے، اپنا نیزہ لہراتے، طلوع ہو کر اپنی بادشاہت کا نعرہ مستانہ بلند کرے تو آداب غلامی سے آشنا یہ قوم اس کی بیعت کرنے میں دیر نہیں کرے گی کہ اس کا دماغ ماضی کے جنگجواورفاتح بادشاہوں کی زرہ پوش یادوں کا اسیر ہے:

رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کا
رعیت آج بھی اک بادشاہ مانگتی ہے

اگر یہاں کے باسی جمہوریت کے پیاز کھا کھا کر تنگ آ چکے ہیں اور ان کے دل میں بادشاہت کے جوتے کھانے کی تڑپ ہے تو وہ ہمت کریں اور کوڑھ زدہ فرنگی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں۔ ان پر حکمرانی کرنے کا بوجھ اٹھانے کو ہم مغلوں کے وارث موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ