جمرود میں ’جنات کا گاؤں‘

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے ایک گاؤں کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ اس میں ’جنات کا بسیرا‘ ہے، اس وجہ سے اس کا نام ہی پیریانو کلے یعنی جنات کا گاؤں پڑ گیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے ایک گاؤں کے بارے میں یہ مشہور ہوگیا ہے کہ یہاں ’جنات کا بسیرا‘ ہے، اس لیے اس کا نام ہی پیریانو کلے یعنی جنات کا گاؤں پڑ گیا۔

تحصیل جمرود میں واقع اس گاؤں کا نام اس وقت پیریانو کلے پڑا جب ایک گھر کے مکینوں کو اپنے گھر میں غیر معمولی چیزیں دیکھنے کو ملیں۔

گاؤں کے نوجوان کبیر خان کا دعویٰ ہے کہ اس گھر میں جنات تھے اور وہ اس کے مکینوں کو تنگ کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گھر کے سربراہ محمد خان محنت مزدوری کے لیے اکثر گھر سے باہر جاتے تھے۔ ان کے بیوی بچوں کو مکان میں خوف محسوس ہوتا تھا، اس لیے انہوں نے 40 سال پہلے اس مکان کو چھوڑ دیا۔

پیریانو کلے کے نواب خان نے بتایا کہ 40 سال پہلے یہ گھر بہت عالیشان تھا لیکن اب یہ کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے کیونکہ محمد خان کے خاندان کے جانے کے بعد سے کوئی یہاں ایک رات بھی گزارنے نہیں آیا ہے۔

 نواب خان نے کہا: ’آپ کو پتہ ہے کہ جس مکان یا گھر میں انسان نہ ہو وہ جلد ہی کھنڈر بن جاتا ہے۔ انسان کی اپنی ایک کشش ہوتی ہے اور وہ مکان کو ویرانی سے بچاتی ہے چاہے وہ کوئی صفائی یا مرمت نہ بھی کریں تو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کبیر خان کا کہنا ہے کہ وہ اس لیے یقین سے کہتے ہیں کہ یہ جنات کا مکان ہے کیونکہ ’یہاں آباد 30 گھروں میں ہر ہفتے بچوں اور خاص کر لڑکیوں کو ذہنی مسائل پیش آتے ہیں۔‘

تاہم ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹر اعزاز کا کہنا ہے کہ گاؤں میں بچیوں پر بے ہوشی کے دورے پڑنے کی ممکنہ وجہ ان کے ذہنوں میں خوف اور ڈر ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر اعزاز، جو جنات جیسے موضوعات پر آگاہی  کے پروگرام کرتے ہیں، کا کہنا تھا: ’میں یہ یقین سے کہتا ہوں کہ جنات سے زیادہ لڑکیوں میں خوف اور ڈر موجود ہے جس کی وجہ سے معمولی آہٹ یا آواز بھی ان کو دیگر لوگوں سے زیادہ ڈراتی ہے اور پھر اس گاؤں کا نام بھی جنات کا گاؤں ہے تو لازماً وہ آواز اورآہٹ کو جنات سے ہی جوڑیں گے۔‘

گاؤں کے رہنے والے اکبر خان شام ڈھلتے ہی اپنی دکان سے واپس آتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں ڈر نہیں لگتا تو ان کا کہنا تھا: ’اتنا عرصہ اس گاؤں میں گزارا ہے۔ میں 40 سال کا ہوں، یہاں پیدا ہوا اور پلا بڑھا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا