’ہمارا دل چاہتا تھا کہ امان اللہ دو سو سال زندہ رہتے‘

گوجرانوالہ کے ایک متوسط گائیک گھرانے میں پیدا ہونے والے امان اللہ کو نقل اتارنے کا شوق بچپن سے تھا۔ وہ اکثر ٹی وی پر بتایا کرتے تھے کہ وہ لاہور کے داتا دربار کے باہر ٹافیاں بیچا کرتے تھے

امان اللہ ایک ایسے شخص تھے، جنہیں دیکھتے ہی چہرے ہر مسکراہٹ آجاتی تھی، وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ 6 مارچ 2020 کی صبح لوگوں میں خوشیاں بانٹنے والے امان اللہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

مزاح کی دنیا میں امان اللہ کا نام کون نہیں جانتا۔ انہوں نے 860 کے قریب تھیٹر ڈراموں میں کام کیا اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ، امریکہ اور بھارت سمیت کئی ملکوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔  

امان اللہ 1950 میں گوجرانوالہ کے ایک متوسط گائیک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نقل اتارنے کا شوق انہیں بچپن سے ہی تھا۔ وہ کئی ٹی وی پروگرامز میں یہ بتایا کرتے تھے کہ وہ لاہور کے داتا دربار کے باہر ٹافیاں بیچا کرتے تھے۔ والد کے دوست طفیل نیازی (فوک سنگر) کی بدولت انہیں سٹیج پرفارمنس کا موقع ملا۔ انہوں نے سٹیج پر بڑے گلوکاروں اور اداکاروں کی نقل اتارنا شروع کی جس کے بعد انہوں نے مزاحیہ اداکار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو منوانا شروع کیا۔

امان اللہ کے قریبی دوستوں میں مزاحیہ اداکار اور مصنف سہیل احمد کا نام بھی شامل ہے۔ سہیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اکثر مزاحیہ اداکار اپنے ساتھ  کامیڈی کنگ کا نام جوڑ لیتے ہیں، میرے خیال میں کامیڈی کنگ کا ٹائٹل اگر  صحیح معنوں میں  کسی کے نام کے ساتھ لگتا ہے تو وہ صرف امان اللہ خان ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت بڑے آدمی تھے اور ان کا نام اپنی فیلڈ میں ٹاپ آف دی لسٹ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’امان اللہ  میرے سینئیر تھے۔ میں نے پہلا ڈرامہ ان کے ساتھ لاہور میں ’جمالا تے کمالا‘ کے نام سے کیا اور پھر بے شمار کام کیا۔ میرے اپنے لکھے ہوئے ڈراموں میں بھی انہوں نے بہت کام کیا، جس میں میرا لکھا ہوا پہلا ڈرامہ ’شرطیہ مٹھے‘ تھا۔ میرے تقریباً سارے ڈراموں میں ہی امان اللہ تھے۔ مزاح میں امان اللہ نے جو نام بنایا وہ لوگ کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’امان اللہ کا پاکستانی عوام پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے انہیں مسکراہٹیں دیں۔ خاص طور پر پنجاب کے کلچر کو جس طرح امان اللہ نے پیش کیا وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کہیں کہ ان کی کوئی ایک ایسی حرکت جو پسند ہو یا یاد ہو تو ایسا کہہ کر ہم انہیں محدود کر دیں گے۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ اکثرمکالمے امان اللہ فی البدیہہ بولا کرتے تھے، اس کا سکرپٹ نہیں ہوتا تھا اور ان کے اکثر فی البدیہہ مکالموں میں بڑی باریکی پائی جاتی تھی۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان کا ہر ڈرامہ، ہر جگت ایک سے بڑھ کر ایک تھی اور انہیں اپنے کام پر جو عبور حاصل تھا وہ کسی اور آرٹسٹ کے حصے میں نہیں آیا۔ امان اللہ کی دوستی اپنے کام سے تھی اس کے علاوہ وہ ایک بہترین انسان تھے نہ صرف اپنے اردگرد، اپنے دوستوں کے ساتھ بلکہ انہوں نے اپنے خاندان کی بھی بہت خدمت کی ہے۔ ہم نے خود دیکھا کہ جب ان کے گائوں کے لوگ شہر آتے تھے تو امان اللہ ان کی بھی خدمت کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ وہ ایک اچھے انسان تھے۔‘

امان اللہ کی بیماری کے حوالے سے سہیل احمد کا کہنا تھا: ’ہمارے ہاں ایک رواج ہے کہ جب آرٹسٹ بیمار ہوتے ہیں تو بیشتر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسمپرسی کی حالت میں مر گئے مگر امان اللہ کا علاج بہت اچھا ہو رہا تھا، کچھ عرصہ پہلے بھی وہ لاہور کے بہترین ہسپتال میں زیر علاج تھے اور اس بار بھی وہ بحریہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ انہیں پھیپھڑوں کی بیماری تھی جس کا علاج مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے سانس لینا بہت دشوار تھا۔‘

انہوں نے کہا: ’70 سال عمر نہیں تھی امان اللہ کے دنیا سے چلے جانے کی، ہمارا دل چاہتا تھا کہ امان اللہ دو سو سال تک زندہ رہتے۔‘

سہیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ان کی بیماری کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ امان اللہ ساری رات جاگتے تھے، تھیٹر ختم ہونے کے بعد بھی وہ وہیں بیٹھے رہتے تھے، نیند پوری نہ ہونا بھی بیماریوں کی جڑ ہے۔‘

اپنی گفتگو کا اختتام انہوں نے اس بات پر کیا کہ امان اللہ نے عوام کو جتنی خوشیاں دی ہیں وہ پاکستان کے 70، 72 برس میں کوئی وزیراعظم  صدر یا کوئی اور نہیں دے سکا۔ امان اللہ نے اپنی فیلڈ میں رہ کرعوام کو جو خوشیاں دیں وہ کسی اور شخص نے نہیں دیں، بلاشبہ امان اللہ ایک بہت بڑے آدمی تھے۔‘

امان اللہ کے مشہور مزاحیہ تھیٹر ڈراموں میں سکسر، شرطیہ مٹھے، بشیرا ان ٹربل، بڑا مزا آئے گا، جب داغ نظر آیا، پاؤں کا زیور وغیرہ شامل ہے جب کہ ان کا اپنا پسندیدہ ڈرامہ شرطیہ مٹھے تھا۔

امان اللہ نے تین شادیاں کیں اور ان کے 14 بچے ہیں۔ ان کی ایک بیٹی زرگون امان اللہ کی اپنے والد کے ساتھ بنائی گئی ٹک ٹاک ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئیں جن میں وہ اپنے والد کے ڈائیلاگز پر والد کو ساتھ بٹھا کر اداکاری کیا کرتی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن