پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 16 ہوگئی

ایک ہی دن میں نو مزید کیسز کی تصدیق کے بعد ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 16 ہوگئی جن میں سے 13 سندھ میں ہیں۔

29 فروری کو لی گئی اس تصویر میں حکام تفتان باڈر پر ایران سے واپس آنے والے زائرین کا درجہ حرارت چیک کر رہے ہیں (اے ایف پی)

کراچی میں نو مزید کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 16 ہو گئی۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب  وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے ایک ٹویٹ میں نئے کیسز کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا: ’میں کراچی میں کرونا کے نو نئے کیسز کی تصدیق کرتا ہوں۔ یہ تمام کیسز پہلے سے تصدیق شدہ کیس سے وابستہ ہیں۔ مزید رابطوں کا سراغ لگا کر ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ان (نئے کیسز کے بعد) پاکستان میں مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔‘

دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔

محکمہ صحت سندھ  میڈیا کارڈینیٹر میران یوسف کے مطابق چھ متاثرہ افراد شام سے جبکہ  تین مریض لندن سے کراچی پہنچے تھے۔

 محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو بھی قرنطینہ میں رکھ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے مدنظر کئی ممالک متاثرہ ملکوں سے آنے والوں پر سفری پابندیاں لگا چکے ہیں۔ 

’گلف نیوز‘ کے مطابق قطر نے کرونا وائرس کے خدشے کے باعث پیر کو پاکستان، بھارت، چین، مصر، ایران، عراق، لبنان، بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن، جنوبی کوریا، سری لنکا، شام اور تھائی لینڈ سمیت 15 ممالک سے آنے والی پروازوں اور ان ممالک کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی ہے۔

قطر نے اپنی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے توسط سے علیحدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ منگل سے تمام سکول اور یونیورسٹیاں بند کر رہا ہے۔

قطر کی اس پابندی کے بعد پاکستان سے دوحہ کے لیے پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن کو معطل کر دیا گیا۔ پی آئی اے اسلام آباد، لاہور اور پشاور سے دوحہ کے لیے پروازیں چلاتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح سعودی عرب نے پیر کو کورونا وائرس سے متاثرہ 14 ممالک کے لیے سفری پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق  کورونا وائرس کے خدشات کی وجہ سے پیر کو سعودی عرب نے بحرین، مصر، فرانس، جرمنی، عراق، اٹلی، کویت، لبنان، عمان، سپین، جنوبی کوریا، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ فضائی اور سمندری سفر منقطع کر دیے۔ اس سے قبل سعودی عرب نے اپنی زمینی سرحدوں کو بھی بند کردیا تھا۔

اس کے علاوہ ، سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے وائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کو 10 ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔

دنیا بھر میں اس مہلک وائرس کے ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ اس وبا سے 38 سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امید افزاں بات یہ ہے کہ اس وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 62 ہزار کے قریب ہے۔ 

چین کے بعد وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی کے وزیر اعظم نے اس وبا پر قابو پانے کے لیے پیر کو تقریباً پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جس سے کروڑوں افراد اپنے گھروں اور علاقوں میں محصور ہو گئے۔

اس کے علاوہ ملک میں سفر اور سماجی اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

دو روز قبل ملک کے ایک شمالی علاقوں، جو ملک کا ایک چوتھائی حصہ ہے، میں بھی ان سخت اقدامات کا نفاذ کیا گیا تھا جس کے تحت چھ کروڑ اطالوی باشندوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔

منگل سے عائد ہونے والی ملک گیر پابندیوں کا اطلاق 3 اپریل تک جاری گا اور اس دوران سکول، یونیورسٹیاں اور شام کے وقت پب، رستوران اور کیفے بند رہیں گے۔

اٹلی میں یہ نئی پابندیاں ایک ایسے وقت عائد کی گئی ہیں جب پیر کی شام تک ایک ہزار آتھ سو سات مزید تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے اور ملک میں  وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد سات ہزار ایک سو 72 ہو گئی۔ دنیا میں چین کے بعد کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے سب سے زیادہ افراد اٹلی میں موجود ہیں جہاں اب تک مرنے والوں کی تعداد463 ہوگئی ہے۔    

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر ان کی انتظامیہ کانگریس سے پےرول ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر فوری اقدامات کو منظور کرے گی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اقدمات صحت عامہ اور معاشی بد نظمی کی وجہ سے اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس وبا کے مارکیٹس پر منفی اثرات کے خدشات کو زائل کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں کافی حد تک چھوٹ دینے کے خواہاں ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان تجاویز کا خاکہ پیش کرنے کے لیے منگل کو ایک پریس کانفرنس کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان