عنقریب یوم خواتین ہم آزاد ایران میں منائیں گے: نور پہلوی

’خواتین کے عالمی دن کے موقع پر میں ایرانی خواتین کی قربانیوں اور ان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں۔‘

نور پہلوی اپنے والد رضا پہلوی کے ساتھ۔( ٹوئٹر)

گذشتہ برسوں کے دوران ایرانی انقلاب کے متاثرین کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے، کتنے ہی لوگوں کو گرفتار کیا گیا، تشدد کیا گیا اور قتل کیا گیا۔ ان معصوموں کو اپنے مذہبی عقائد یا جنسی رجحانات اور سیاسی عقائد کی وجوہات پر ایرانی حکومت نے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی حکومت نے ان تمام برسوں کے دوران ایرانی خواتین کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ہے۔ ذرا امام خمینی کی ابتدائی تحریروں پر نظر ڈالیں جن میں انہوں نے میرے دادا (شاہ ایران) کی رہنمائی میں ایرانی خواتین کی ہونے والی پیشرفت پر کس طرح کڑی تنقید کی۔ وہ ایرانی خواتین کی قانونی مساوات کو کبھی قبول نہیں کرسکے۔ ان کا مشن ان تمام کامیابیوں کو ختم کرنا تھا اور جو حکومت انہوں نے تشکیل دی ہے وہ گذشتہ 41 برس سے ایرانی خواتین کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن ایرانی خواتین کبھی خاموش نہیں رہیں اور نہ ہوں گی۔

چار دہائیوں تک ایرانی مزاحمت کاروں نے اپنے حقوق کے حصول کی کوشش کو ایک لمحہ بھی نہیں چھوڑا۔ جب بھی اور جہاں بھی ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے خاموش رہنے سے انکار کیا۔ رواں سال بھی ہمیں ایرانی خواتین کی مزاحمت اور طاقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ اس سال خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر میں ان کی قربانیوں اور ان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں۔ یہ خواتین اصلی ہیرو ہیں۔

ایتھینہ ایوین ایرانی جیل میں اپنی جوانی کھو رہی ہیں۔ ان کا ’جرم‘ خواتین اور بچوں کے حقوق کا دفاع کرنا تھا۔ یہاں تک کہ اس نوجوان عورت کو مناسب علاج کی سہولت بھی نہیں دی گئی۔ ان ساری ناانصافیوں کے باوجود انہوں نے بہادری سے اپنے مقصد کی پیروی کی ہے۔ جیل کی اونچی دیواروں کے پیچھے سے ایتھینہ نے ایک پیغام بھیجا ہے کہ وہ ایرانی خواتین اور دیگر مظلوم گروہوں کے لیے اپنی مہم کوکبھی نہیں روکیں گی۔

آئیے ایک اور بہادر خاتون شہناز اکمل کو دیکھیں ۔ مظاہروں کے دوران انہوں نے اپنے بیٹے مصطفی کریم بیگی کو کھو دیا لیکن ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا اور اپنی تکلیف اور غم کو اپنی اور دوسری پریشان ماؤں کے لیے توانائی کا ذریعہ بنا دیا۔ وہ مائیں جن کے بچے حکومت کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ شہناز اکملی رواں برس سوگوار ایرانی ماؤں کے لیے امن اور یکجہتی کا ایک ذریعہ رہی ہیں۔انہیں بار بار دھمکی دی گئی اور حتی کہ قید بھی کیا گیا لیکن انہوں نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری۔

فاطمہ سیپھری ان پانچ خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے گذشتہ سال حکومت کی جانب سے برتے جانے والے صنفی تعصب کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہیں مشہد میں قرآن پاک کی کلاس سے نکلنے کے بعد ایجنٹوں نے گرفتار کیا تھا ، اس وقت وہ قید میں ہیں۔ فاطمہ سیپھری بھی جرات سے تمام ایرانی خواتین کے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں اور دباؤ کے باوجود مقابلہ کر رہی ہیں۔

اسی طرح جوہر اشغی جیل میں قید اپنے بیٹے ستار بہشتی کے قتل کے بعد اب صرف ستار کی ماں نہیں رہیں، وہ بہت سے پریشان گھرانوں کی ماں ہیں جو اپنی والدہ کے دکھوں میں شریک ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کو دکھایا ہے کہ ہمت اور بہادری کسے کہتے ہیں۔

یہ صرف چند بہادر ایرانی خواتین کی مثالیں ہیں۔ ہزاروں دیگر مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ایسی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ وہ خواتین جو نومبر میں ہونے والے قتل عام میں ماری گئی تھیں وہ خاموشی سے لڑتی رہیں۔ ان کی تکلیف اور غصہ ناقابل تصور ہے اور ان کی ہمت ہمیں طاقت دیتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان خواتین کو کبھی بھی ایسی صورتحال سے دوچار نہیں ہونا چاہیے تھا، کاش ایسا نہ ہوتا۔ وہ بھی ایسا ہی چاہتی ہوں گی لیکن انہوں نے اس تکلیف کو برداشت کیا ہے اور اسے ہمارے قومی المیے یعنی اس صنفی تعصب کے خاتمے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ خواتین ہمارے ملک کی ہیرو ہیں اور خواتین کے اس عالمی دن پر انہیں یہ احساس ہوگا کہ ایرانی عوام ان کی جانب دیکھتے ہیں۔

ہم ایرانی خواتین کی یہ قابل ذکر طاقت ہرجگہ دیکھتے ہیں۔ اپنے حالیہ یونانی دورے میں ایرانی مہاجرین سے ملنے کے دوران میری والدہ نے ان خواتین سے ملاقات کی جن کو اپنی زندگی میں ناقابل تصور سانحات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے ان خواتین سے ملاقات کی جو بدسلوکی ، نفسیاتی خطرات ، منشیات کی لت اور بہت ساری دیگر پریشانیوں کا شکار رہی تھیں۔ وہ باتیں کرنے کے دوران ہنستی اور روتی رہیں۔ میری والدہ نے ان خواتین کے بارے میں مجھے جو کہانیاں سنائیں وہ حیران کن اور قابل احترام ہیں۔ ان کی مستقل مزاجی قابل ذکر ہے۔

یہ سب کچھ ایرانی خواتین کو خاموش کرنے میں حکومت کی چار دہائیوں کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ خواتین اپنے تمام تر اختلافات کے ساتھ ، انصاف ، مساوات اور آزادی کی جدوجہد میں اب زیادہ مضبوط اور متحد ہیں۔ بہت جلد ایک آزاد ایران میں ہم یہ عظیم ، عالمی یوم خواتین منائیں گے اور ایرانی خواتین کی عظیم جرات کو سلام پیش کریں گے۔ وہ دن اب زیادہ دور نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا