’بہتر افغانستان پالیسی کے لیے ضیا دور کی سیاست سے نکلنا پڑے گا‘

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہو گا کہ پاکستان افغانستان سے متعلق اپنی پرانی پالیسی اور سیاست پر نظر ثانی کرے۔

سیاست دان، محقق اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکن افرسیاب خٹک نے کہا ہے کہ افغانستان کے لوگوں میں ان کے ملک سے متعلق پاکستان کی سیاست میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اور اسلام آباد کو اس سوچ کو غلط ثابت کرنا چاہیے۔

افراسیاب خٹک بدھ کی رات افغانستان سے واپس آئے ہیں۔

افراسیاب خٹک دوسرے پاکستانی پختون سیاسی رہنماوں کے ہمراہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی دعوت پر ان کی بحیثیت صدر حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے کابل گئے تھے۔

حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے کابل جانے والے پختون رہنماوں میں عوامی قومی پارٹی کے رہنما آفتاب احمد خان شیرپاو، پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر اور فیصل کریم کنڈی، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی غلام احمد بلوروغیرہ شامل تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے کسی نے ڈاکٹر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب میں اسلام آباد کی نمائندگی نہیں کی تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں افراسیاب خٹک نے کہا کہ افغانستان سے متعلق پاکستان کا ہمیشہ بہت اہم کردار رہا ہے۔

اور اسی وجہ سے افغانستان میں امن کی واپسی کے حوالے سے اسلام آباد پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانوں میں پاکستان کی افغانستان سے متعلق سیاست سے متعلق بہت تشویش پائی جاتی ہے۔

افراسیاب خٹک کے خیال میں افغانوں میں پائی جانے والی تشویش میں کافی وزن بھی پایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ماضی میں افغانستان سے متعلق پاکستان کی سیاست کا مقصد پڑوسی ملک میں سٹریٹیجک گہرائی حاصل کرنا رہا ہے۔ جو بہت غلط تھا۔

ان کا کہنا تھا: اسلام آباد کی اس پالیسی نے بنیادی طور پر پاکستان کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہو گا کہ پاکستان افغانستان سے متعلق اپنی پرانی پالیسی اور سیاست پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے اسلام آباد کے پالیسی سازوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: پاکستان کو ایسی پالیسی بنانا چاہیے جو افغانوں کا دل جیتے اور انہیں دوست بنائے۔ نہ کہ دشمن۔

افراسیاب خٹک نے اس سلسلے میں مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں بہت سارے ایسے مشترکات ہیں۔ جو دنیا کے دوسرے دو پڑوسی ملکوں کے درمیان دیکھنے میں نہیں آتے۔

اور ان مشترکات کے باعث دونوں پڑوسیوں میں دوستی کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ تاہم یہ ممکن تبھی ہو گا اگر پاکستان افغانستان سے متعلق اپنی پالیسیوں اور سیاست میں تبدیلی پیدا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کو ضیا الحق دور کی سیاست سے بہرحال نکلنا پڑے گا۔

افراسیاب خٹک نے مزید کہا کہ پاکستان کے علاوہ ایران پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

افراسیاب خٹک نے کہا کہ افغانستان میں جنگیں لڑنے والے پاکستان اور ایران میں قیام کرتے رہے ہیں، دونوں ممالک کو یہ سلسلے بند کرنا ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور ایران کسی کو اجازت نہ دیں کہ ان کی زمین افغانستان میں کسی کے حق یا مخالفت میں استعمال ہو۔ کیوں کہ ایسی صورت حال میں پراکسی وارز (بالواسطہ جنگیں) شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے جن کا افغانستان سے تو تعلق نہیں ہوتا لیکن وہ اسے اور وہاں رہنے والوں کو متاثر ضرور کرتی ہیں۔

افراسیاب خٹک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان کے لوگ امن کے حامی ہیں اور غیر ملکی مداخلت بند ہونے کی صورت میں وہاں امن ضرور آئے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوسرے افغان دھڑے ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کو مان لیں گے اور سیاسی استحکام پیدا ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: افغانستان میں امن کی واپسی کے لیے اہم چیز خود افغانوں کے درمیان بات چیت کے عمل کا شروع ہونا ہے۔

کامیاب بین الافغان مذاکرات ہی افغانستان میں امن کی واپسی کی ضمانت  ہیں۔ اور انہی مذاکرات پر منحصر ہو گا کہ افغانستان میں امن کی واپسی ممکن ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ دراصل افغانستان سے امریکی 

فوجوں کی واپسی سے متعلق ہے۔ اس کا براہ راست تعلق افغانستان میں امن کے قیام سے نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان