جھوٹی تسلیاں مسائل کا حل نہیں

پی ٹی آئی، پی پی پی اور ن لیگ کے پاس ہمارے مسائل کا حل نہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اقتدار کے کھیل میں امیر اور مقتدر اشرافیہ سے اتنے معاہدے کیے کہ یہ کوئی سخت فیصلہ نہیں کرسکتے۔

نیا میثاق جمہوریت ملک کے مسائل کا حل نہیں۔ ہمیں اب ایک نئی عوامی جمہوریہ ترتیب دینی ہوگی(اے ایف پی)

عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک کامیاب کپتان رہے ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے کبھی کوئی میچ، ٹورنامنٹ یا ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری۔

عمران خان خود کو قوم کے سامنے کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جیسے انہوں نے زندگی میں کبھی ہار نہیں دیکھی اور اب حکومت کی ناقص کارکردگی کے باوجود قوم کو یہی کہتے ہیں کہ وہ صبر کریں اور ان پر اعتماد کریں کیونکہ وہ کرکٹ کی طرح آخر میں جیت جائیں گے مگر قوم کو چاہیے کہ ان کے ہارے ہوئے میچ بھی ذہن میں رکھے۔

جو ورلڈ کپ وہ جیتے اس میں کچھ قدرت کا بھی عمل دخل تھا۔ اگر کچھ میچ بارش کی نذر نہ ہوتے تو شاید پاکستان اس کپ کے فائنل میں نہ ہوتا۔ اسی لیے شاید اپنی حکومت کی کامیابی کے لیے بھی انہیں قدرت کا کرشمہ چاہیے۔
کبھی انہیں سمندر میں بے انتہا تیل نظر آتا ہے اور کبھی بلوچستان کی پہاڑیوں میں بے شمار سونا۔ اللہ کرے کہ یہ سب حقیقت ہو جائے مگر مسائل کا حل عقل اور دانش میں ہے، خواب دیکھنے میں نہیں۔ دور رس اصلاحات کے بغیر نہ ہماری حکومتی کارکردگی ٹھیک ہو سکتی ہے اور نہ معیشت۔ 
پچھلے کئی مہینوں میں ہم نے حکومت کو بار بار یاد دلایا کہ روپے کی قیمت میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت میں کمی وقتی ہے اور اگر ہم نے صحیح فیصلے نہ کیے تو معیشت مزید خراب ہو گی، مگر نااہل اور ناکارہ حکومت پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ خوشی کے شادیانے بجاتے رہے اور قوم کو جھوٹا دلاسہ دیتے رہے کہ حالات ٹھیک ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب ڈالر ایک دفعہ پھر 159 روپے کا ہو چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ قیمت 165 کی سطح تک جا سکتی ہے۔ جب ہمارے ٹیکس کی مد میں اضافہ نہ ہو، برآمدات نہ بڑھیں، حکومت کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہوں اور جب حکومتی قرضہ قلیل مدتی اور انتہائی مہنگی شرع پر لیا جائے تو معیشت اور روپیہ کیسے مضبوط ہو گا؟

ایسی صورت میں یہ امید رکھنا کے وقتی بہتری پائیدار رہے گی ایک دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔ تیل کی قیمت میں بے انتہا کمی ایک موقع ہے جو ضائع ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن موجودہ حکومت کی خراب کارکردگی کے جواب میں یہ بیانیہ پیش کر رہی ہے کہ ان کے پانچ سالہ دور میں معیشت صحیح سمت میں تھی جو قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ یہ درست ہے کہ ان کے دور میں بجلی کے نئے کارخانے لگے اور مزید سڑکیں بنیں مگر معیشت میں کلیدی تبدیلیاں وہ نہ لا سکے۔
انہوں نے نہ برآمدات کی فروغ کے لیے کام کیا اور نہ اس بات کو یقینی بنایا کہ ملک میں سرمایہ کاری ہو تاکہ نئی صنعتیں لگیں اور مزید نوکریاں پیدا کی جا سکیں۔
ٹیکس کی مد میں بھی کوئی خاص کام نہیں ہوا اور نہ ہی حکومت کے خرچوں میں کمی ہو سکی۔ ان کی سب سے اہم ناکامی یہ بھی تھی کہ ریاستی اداروں اور بیوروکریسی میں اصلاحات نہ کر سکے۔ نیب اس کی ایک مثال ہے جس پر وہ آج خود بھی شرمندہ ہیں۔ 
میں اس بات پر قائل ہوں کہ پی ٹی آئی، پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے پاس ہمارے مسائل کا حل نہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اقتدار کے کھیل میں انہوں نے ملک کی امیر اور مقتدر اشرافیہ سے اتنے معاہدے کیے ہیں کہ یہ کوئی سخت فیصلہ نہیں کرسکتے جس کی اس ملک کو ضرورت ہے۔ 
جب بھی یہ کوئی اہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے ایسی چیزیں رکھی جاتی ہیں کہ انہیں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ مجھے اس بات کے شواہد دینے کی ضرورت نہیں وقتاً فوقتاً مسلم لیگ ن کے سیاست دان خود ہی اپنی ماضی کے غلط فیصلے قبول کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ نواز شریف نے سخت فیصلوں کی کوشش نہیں کی مگر آخر کار انہیں پیچھے ہٹنا پڑا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی پارٹی کے پاس اس ملک کے مسائل کا حل نہیں۔ 
میں آپ کو بار بار یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ سیاسی اصطلاحات کے مذاکرات کے لیے ہم ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ اب شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے بیانات کو لے لیں جس میں وہ ایک نئے میثاق جمہوریت پر مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ مگر پچھلا میثاق جمہوریت کا معاہدہ قوم کو کیا دے گیا جو پی پی پی اور ن لیگ نے کیا تھا۔
یہ آپس میں باریاں لیتے رہے اور قوم اسی طرح مسائل کا شکار رہی۔ نیا میثاق جمہوریت ملک کے مسائل کا حل نہیں۔ ہمیں اب ایک نئی عوامی جمہوریہ ترتیب دینی ہوگی۔ مجھے ان تینوں سیاسی پارٹیوں سے اختلاف ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان سے مذاکرات کو رد کرتا ہوں۔ یہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک حقیقت ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ بیٹھ کر ہی نئی جمہوریہ ترتیب دینی ہوگی مگر ان کے ماضی اور حال کے غلط فیصلوں کے بعد انہیں اس بات کا اختیار نہیں دے سکتے کہ یہ آپس میں بیٹھ کر اقتدار کی میوزیکل چیئر کھیلتے رہیں اور عوام پستی رہے۔ ایسا کرنا اس ملک کے ساتھ دغا بازی ہو گی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر