'ڈاکٹروں کو شرم آنی چاہیے، کیا ہر ڈاکٹر حفاظتی کٹ پہن کر پھرے گا؟'

ینگ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کا آئسولیشن وارڈز میں کام کرنا مشکل ہو گا جبکہ صوبائی وزیر صحت کہتی ہیں کہ وہ ڈاکٹروں کی کام نہ کرنے کی بات پر شرمندہ ہیں۔

اگر میںخود ہر ہسپتال میں جا سکتی ہیں تو انہیں (ڈاکٹروں کا) کیا مسئلہ ہے: ڈاکٹر یاسمین راشد (تصویر بشکریہ اے پی پی )

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کم از کم 450 ہو گئی ہے۔

صوبہ پنجاب میں یہ تعداد 30 کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مریض ایران سے تفتان بارڈر کے ذریعے پاکستان آنے کے بعد بذریعہ سڑک پنجاب میں داخل ہوئے۔

ان مریضوں کو ڈیرہ غازی خان میں موجود 800 بستروں پر مشتمل قرنطینہ مرکز میں 14 روز کے لیے گروپوں کی شکل میں رکھا جا رہا ہے۔

ان مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں میں بھی اپنی حفاظت کو لے کر تشویش کی لہر موجود ہے۔ پنجاب کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اس وبا سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔

دو روز قبل ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن پنجاب نے اعلان کیا کہ وہ ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں کام نہیں کریں گے، جسے ہڑتال کی کال سمجھا گیا۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر اور گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چئیرمین ڈاکٹر سلمان حسیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں وضاحت کی کہ دراصل انہوں نے ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں کام نہ کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی قواعد پرعمل کرتے ہوئے کیا۔

'وبا کے دوران آؤٹ ڈور بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلنے کا خدشہ کم کیا جاسکے۔ آؤٹ ڈور میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض آتے ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ کون وائرس کا شکار ہے، اس طرح ہم دوسرے لوگوں کو بھی خطرے میں ڈال دیں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کو جو سہولیات دیے جانے کا ذکر ہو رہا ہے اس میں سچائی نہیں۔ 'ہمیں کسی قسم کی سہولت نہیں دی جا رہی، آئسولیشن وارڈز میں کام نہ کرنا شاید ہماری مجبوری بن جائے۔'

ڈاکٹر سلمان حسیب نے سوال کیا کہ ایران سے آنے والے زائرین میں سے 70 فیصد ی وائرس سے متاثر ہیں اور سب سے زیادہ زائرین پنجاب آئے ہیں، وہ سب کہاں ہیں؟ 'پنجاب حکومت ان زائرین کو ڈھونڈ ہی نہیں کر سکی۔'

گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین نے الزام لگایا کہ 'پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نہ قابلیت رکھتی ہیں، نہ اہلیت اور نہ ہی ان کی صحت ان ذمہ داریوں کی اجازت دیتی ہے، ان سے یہ وبا پنجاب میں کنٹرول کرنا مشکل ہے۔'

ڈاکٹر سلمان نے شکایت کی کہ صوبائی حکومت نے کرونا وبا کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور گرینڈ ہیتھ الائنس کو شامل نہیں رکھا اور اب صوبائی وزیر صحت 'ہمیں باقاعدہ دھمکیاں دے رہی ہیں کہ ڈاکٹر مرتے ہیں تو مرجائیں ہم نے آپ سے ہر صورت کام لینا ہے۔'

انہوں نے الزام لگایا کہ 'وزیر صحت ناقص پالیسیاں بنانے کی عادی ہیں۔ وہ نہ کبھی اچھی ڈاکٹر تھیں اور اب نہ اچھی وزیر ثابت ہوئیں۔'

ینگ ڈاکٹرز کے خیال میں پنجاب حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹر سلمان کے مطابق محکمہ صحت کو فوری طور پر بین الاقوامی گائیڈ لائنز کے مطابق تمام پیرا میڈیکل سٹاف، نرسسز اور ڈاکٹرزکو سہولیات مہیا کرنی چاہییں اور آئسولیشن وارڈز کو ہسپتالوں سے باہر منتقل کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ پورے پنجاب میں صرف 600 وینٹی لیٹرز ہیں۔ 'بین القوامی قواعد کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں جتنے بیڈ ہوں، اس کے 10 فیصد وینٹی لیٹرز انتہائی نگہداشت وارڈز میں ہونے چاہییں۔'

'اگر پورے پنجاب کے ہسپتالوں میں 45 ہزار بیڈز ہیں تو ہمیں 4500 وینٹی لیٹرز چاہییں جبکہ وبا کی صورت میں کم از کم 25 ہزار وینٹی لیٹرز ہونے چاہییں۔'

انہوں نے محکمہ صصحت کو مشورہ دیا کہ وہ ہسپتالوں کے طبی عملے کو اعتماد میں لیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ہسپتالوں کے داخلی دروازوں پر مریضوں کی سکریننگ کی جائے اور جس مریض کو بخار، نزلہ اور کھانسی ہو، اسے کسی بھی فلٹر کلینک میں بھیج کر آئسولیٹ کیا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیشتر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو کوئی کٹس مہیا نہیں کی گئیں جبکہ چند ایک ہسپتالوں میں دس،دس کٹس دی گئیں اور وہ بھی صرف ماسک کی صورت میں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام طبی عملے کو عالمی میعار کی کٹس فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کرونا وبا سے نمٹنے کی تیاریوں میں صوبہ پنجاب کم از کم تین سے چار ہفتے صوبہ سندھ سے پیچھے ہے۔

'ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سکریٹریٹ میں بیٹھے 'بابوؤں' کی نا اہلی ہے اور حکومت کو ان کے تبادلے نہیں بلکہ ایک، دو کو نوکری سے فارغ کرنا چاہیے۔

'اسی طرح چیزیں بہتر ہوں گی۔ ابھی تو کرونا وائرس پنجاب میں ٹھیک سے سامنے آیا ہی نہیں۔ اگر یہ بڑھتا ہے تو نہ جانے ہم کیا کریں گے؟'

صوبائی وزیر صحت اس حوالے سے کیا کہتی ہیں؟

ڈاکٹر یاسمین راشد سے ڈاکٹروں کے الزامات پر اپنے ردعمل میں کہا کہ 'ینگ ڈاکٹرز اور گرینڈ ہیلتھ الائنس والے میرے خلاف باتیں کرتے رہیں لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔'

'میں 10 مرتبہ بتا چکی ہوں کہ ساری حفاظتی کٹس تیار ہیں، تمام ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز اور ہائی ڈپینڈینسی وارڈز بن چکے ہیں، اب اگر کوئی کام نہیں کرنا چاہتا تو ہم اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔'

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ہسپتالوں میں کتنی حفاظتی کٹس مہیا کی گئیں تو انہوں نے برہمی سے کہا 'کیا ہر ڈاکٹر کٹ پہن کر پھرے گا؟'

وزیر صحت نے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو مہیا کی جانے والی حفاظتی کٹس کے اعداد و شمار نہیں بتائے بلکہ کہا 'کافی کٹس ہیں۔ اب میں آپ کو گن کرنہیں بتا سکتی کہ کس ہسپتال کو کتنی کٹس دی ہیں، البتہ ہم نے جتنی ضرورت ہے، اتنی کٹس مہیا کر دی ہیں۔'

جب وزیر صحت یاسمین راشد سے پوچھا گیا کہ کہیں ینگ ڈاکٹرز 'پنجاب میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن ایکٹ 2019' کو بنیاد بنا کر آپ کے خلاف محاذ تو نہیں کھڑا کر رہے؟ تو ان کا جواب تھا 'کرلیں محاذ کھڑا۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس وقت ملک ایک قومی بحران میں ہے۔ ان ڈاکٹروں کو شرم آنی چاہیے۔'

'میں اس بات پر شرمندہ ہوں کہ ڈاکٹرکام نہ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں ان ینگ ڈاکٹرز کی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ سارے ہسپتال چل رہے ہیں اس وقت کوئی ہسپتال بند نہیں ہوا ان کی وجہ سے۔'

وزیر صحت کہتی ہیں کہ اگر وہ خود ہر ہسپتال میں جا سکتی ہیں تو انہیں (ڈاکٹروں کا) کیا مسئلہ ہے۔ 'جو تصویر کشی ڈاکٹرز کررہے ہیں وہ غلط ہے، انہیں پوری حفاطت مہیا کی جائے گی۔'

انہوں نے کہا کہ 'سارے ہسپتال کے عملے کو احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آئسولیشن وارڈز ہسپتالوں کے اندر ہی رہیں گے، انہیں شہر سے باہر کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی صحت