اپنے ڈی این اے پر بھروسہ رکھیں

ہم گوروں کی ہدایات پر آنکھ بند کر کے عمل کرنے کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ اب اپنا دماغ چلانے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں۔

کتنے ہی پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ایسے ہیں جو پاکستانی سائنس دانوں کی تحقیق کو غلط یا پھر کسی گورے کی کاپی پیسٹ ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں (روئٹرز)

لندن کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی کی ایک کلاس میں مختلف پیشوں سے منسلک طلبہ کو آرٹ آف ایکسپریشن یعنی ’اپنی سی کہہ دینے‘ کا ہنر سکھایا جا رہا تھا۔

دیوار پر ملٹی میڈیا کے ذریعے چھ سو سال پرانی ایک فرانسیسی مصور کی پینٹنگ کا عکس بکھرا ہوا تھا اور اس کے مختلف حصوں کو ڈیجیٹل عدسے کے ذریعے بڑا کر کے کچھ سمجھانے کی کوشش ہو رہی تھی۔

خاصی دیر تک اظہار بیان کی تاریخ کو کسی نہ کسی طرح بیان کرنے کا مبہم سا سلسلہ جب ذرا طویل ہونے لگا تو ایک لڑکی اپنی جھنجھلاہٹ سے تنگ آگئی۔ یہ انڈیا کے شہر گوا کی ایک صحافی تھی۔ اس نے عمررسیدہ پروفیسر کو بتایا کہ چھ سو سال قبل دہلی سلطنت قائم ہوگئی تھی اور اس زمانے سے بھی پہلے ہمارے خطے میں رقص، موسیقی، شاعری، مصوری کے ذریعے اظہار بیان کی تاریخ موجود ہے۔

اس نے کلاس روم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ فارسی اور عربی زبان میں شاعری کے ذریعے خبر کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی تاریخ تو اور بھی پرانی ہے۔

پروفیسر صاحب کھسیانے ہو چکے تھے۔ گوا کی لڑکی پروفیسر کو تاریخ کے اور بھی کئی پنے کھول کر پڑھنے کو کہہ رہی تھی۔ لندن کی اس کلاس میں تو جو ہوا سو ہوا لیکن ہمارے ارد گرد روز ہی یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمیں روز ہی اپنی کم مائیگی پر ٹھینگا دکھایا جاتا ہے لیکن گوا کی اس لڑکی کی طرح جواب دینے کی ہمت کسی میں نہیں۔

یہ جو خطہ جہاں ہم رہ رہے ہیں ایک تو ہمیں ہمارے گندمی اور سیاہی مائل رنگ نے مارا، اوپر سے ہم مسلمان ہو گئے یعنیٰ دوہرا احساس کمتری۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بات پہ ہم اکثر کا اتفاق ہے کہ ہم ایک نمبر کے دو نمبر لوگ ہیں لیکن ہمارے احساس کمتری کا یہ عالم ہے کہ ہم اب اس بات پر بھی اصرار کرتے ہیں کہ ہم ایشیائی اور خاص کر ایشیائی مسلمان ہمیشہ سے ہی ایسے ناکام، نکمے اور نکھٹو رہے ہیں اور یہ کہ ہم پاکستانی ایسے ناکام لوگوں کی فہرست میں ٹاپ پر ہیں۔

پاکستانی سوشل میڈیا کے افق پر مایوسی و یاسیت کے ایسے ایسے ستارے چمک رہے ہیں کہ ان کی واہ واہ کرنے والوں پہ حیرت ہوتی ہے۔ شدید ڈپریشن کا شکار ان لوگوں کا یہ وطیرہ ہے کہ یہ ہر اس چیز کو سند صداقت دیتے ہیں جس کا تعلق گوروں سے ہو۔ باقی سب گول مال ہے۔

کرونا وائرس کا شکار ہندو، مسلمان اور عیسائی سے لے کر ملحد تک ہیں۔ کرونا نے پنجے مشرق سے مغرب تک گاڑھ رکھے ہیں اور اللہ کی قدرت دیکھیں کہ پیلی رنگت کے چینیوں سے لے کر سفید فام امریکی تک سب یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ وبا کیسی ہے، کیا ہے یہ تو معلوم ہو گیا لیکن علاج  کیا ہوگا علم نہیں۔

اب یہ ہمارا قومی شغل ہے کہ ہم ہر اس ڈاکٹر یا محقق کا مذاق اڑائیں جو اس وائرس کا ممکنہ علاج ڈھونڈنے کی کوشش کرے۔ ہم گوروں کی دی ہوئی ہدایات پر آنکھ بند کر کے عمل کرنے کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ اب ہم دماغ چلانے کی زحمت کم کم ہی کرتے ہیں اور ہم میں سے جو کوئی دماغ سے کام لینے کی جسارت کرے اسے ہنسی ٹھٹول یا سازشوں میں اڑا دیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر روزانہ ہی کئی ایسے پاکستانی بائیولوجسٹ اور ڈاکٹرز کے انٹرویو آ رہے ہیں جو ذاتی وسائل سے تحقیق کر رہے ہیں۔ چند انجینیئرز کرونا سے بچاؤ کے لیے آلات بنا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے مقامی ڈیزائنر درزی نے تو کرونا سے بچاؤ کا لباس بھی مقامی طور پر تیار کر لیا البتہ ان کو نیچا دکھانا تو ہماری متاع حیات ہے۔

کتنے ہی پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ایسے ہیں جو کہ پاکستانی سائنس دانوں کی تحقیق کو غلط یا پھر کسی گورے کی کاپی پیسٹ ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تنقید کرنے والے خود کسی زندہ لاش سے زیادہ نہیں ہوتے یعنیٰ ان کے یہاں ہر درد کا درماں، ہر کھٹنائی میں رہبر اور ہر مشکل میں مشکل کشا صرف اور صرف مغربی تحقیق ہوتی ہے۔

ہمارے خطے کے لوگ صدیوں سے گرم مصالحوں اور جڑی بوٹیوں سے مستفید ہوتے رہے۔ حکیم سعید، حکیم اجمل جیسے دیگر کئی حکما جادو اثر دوائیاں بتا گئے۔ ہمارے پاس دوا بھی ہے اور غذا بھی کچھ، جو نہیں ہے تو وہ ہے اپنے آپ پہ اعتماد۔ اب لوگوں کو شفا سے زیادہ شوشا مرعوب کرتا ہے۔

بجائے اس کے کہ ہم اپنے پرکھوں کے طریقوں کو جدید دور میں تحقیق سے مزید نکھارتے، ہم نے اپنی ساری توانائیاں ایک دوسرے کو دھول چٹانے میں صرف کر دیں۔ ہم نے یہ جتانے میں صدیاں بتا دیں کہ اب اس قوم کی عقل شعور پر تالے لگ گئے ہیں اور آگہی کا دوسرا نام مغربی تعلیم ہے جس کی معراج انگریزی زبان بولنا ہے۔

ان دنوں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو دور بین سے چاند دیکھنے والے مولویوں سے ہی نہیں کچھ ایسے نام نہاد ماڈرن جاہلوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جو اس بات پر بضد ہیں کہ پاکستانی سائنس دان سوائے غیرملکی ریسرچ کی نقول بنانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر عطاالرحمٰن کی سربراہی میں کرونا وائرس پر سائنسی ریسرچ کمیٹی بنی، کمیٹی نے کرونا کے خدوخال پر کچھ نتائج نکالے، سب سے پہلے معترض وہ احساس کمتری کے مارے ہوئے ہیں جن کی سائنس پر معلومات صفر بٹا صفر ہیں۔

ہر اٹھائی گیرے، ہر عطائی کی دوائی میں شفا نہیں ملے گی مگر کرونا وائرس کے اس بے یقینی دور میں کم از کم اپنے ڈی این اے پہ بھروسہ کرنا سیکھیں۔ اسے فلسفیانہ انداز میں اقبال ’خودی‘ کے نام سے متعارف کروا گئے ہیں۔

وہ  افراد جنہیں اپنے مسلمان ہونے، گندمی نسل ہونے یا دیسی ہونے پہ کوئی شرمندگی ہے ان سےگزارش ہے کہ اپنی احساس کمتری کے طوق کو اپنی ہی گردن میں پڑا رہنے دیں۔ مایوسی اور کم مائیگی بھی ایک وبائی مرض ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ