'لڑکا بننے کا شوق تو تھا ، اب سر پہ پڑی ہے تو لڑکا بننا بھی پڑا'

والد کے انتقال کے بعد عائشہ نے نہ صرف اپنا نام بلکہ اپنی مکمل پہچان بدل ڈالی۔ ان کا نیا نام علی رضا تھا۔  نام ہی نہیں ان کی ہمت، ان کا کا کام، ان کا حوصلہ اور ان کی سوچ سب مردانہ تھی۔ 

والد کے انتقال کے بعد عائشہ نے نہ صرف اپنا نام بلکہ اپنی مکمل پہچان بدل ڈالی۔ ان کا نیا نام علی رضا تھا۔  نام ہی نہیں ان کی ہمت، ان کا کا کام، ان کا حوصلہ اور ان کی سوچ سب مردانہ تھی۔ 

نئے نام نے ان میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ انہوں نے اپنے بال فوجی ہیئر سٹائل میں کٹوا ڈالے۔ علی نے اپنا لباس مکمل طور پر بدل ڈالا۔ اب وہ لڑکوں کے سے کھلے کھلے شلوار قمیص پہنا کرتے تھے۔ گلے میں ایک رومال ہر وقت جھولتا رہتا تھا۔ سردیوں گرمیوں میں بڑی سی جیکٹ سے خود کو ڈھانپ کے رکھتے تھے۔

ظاہری تبدیلیاں تو ایک طرف، نئی پہچان نے ان کی قوت فیصلہ بھی مردوں کی سی کر دی۔

علی کی بہن وحید اخر بتاتی ہیں : 'علی ان کے گھر کا سربراہ ہیں۔ ہمارے فیصلے وہی کرتے ہے۔۔ بڑی بڑی کچہریوں میں وہ ہماری نمائندگی کرتےہیں۔ خاندان کی شادی بیاہ کی تقریبات پران کے گھر کی طرف سے جاتے ہیں۔ ۔کسی رشتہ دار کی وفات پر تعزیت کے لیے بھی وہی جاتے ہیں۔ ان کا فیصلہ ہمارے گھر میں بہت محترم تصور کیا جاتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو علی کہتے ہیں۔'

علی کی والدہ صغراں بی بی بتاتی ہیں کہ کہ ان کے شوہر خورشید احمد ایک طویل عرصہ سے چکوال کے اس گاوں میں چکی چلایا کرتے تھے۔ لوگ ان کے پاس آٹا پسوانے آتے تھے۔ جب تک حیات رہے کاروبار وسیع رہا۔ اور مرنے کے بعد گویا مشکلات نے ان کے گھر کا راستہ ڈھونڈ لیا تھا۔ خورشید احمد کی وفات اچانک دل کے دورے کے باعث ہوئی۔

 علی کی والدہ بتاتی ہیں  کہ ان کے خاندان میں لڑکوں کو ایک عجیب و غریب بیماری ہو جاتی ہے ۔ جس میں چھ سال کی عمر میں لڑکوں کے ہاتھ پاوں مڑ جاتے ہیں اور وہ معذور ہو جاتے ہیں سولہ برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔ علی کے بھائیوں کو بھی وہی بیماری تھی۔ ان کے پٹھے کمزور ہو گئے تھے۔ اور سولہ برس تک پہنچتے ہی دونوں بھائی فوت ہو گئے۔ والدہ بتاتی ہیں کہ علی کے بڑے بھائیوں کے اچانک مرنے کا غم ہی علی کے والد کی موت کا سبب بنا۔ 

والد کی وفات کے بعد اچانک علی کے سر پرگھر بھر کی بھاری ذمہ داری آن پہنچی۔ علی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے اور اس وقت اٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ مرحوم باپ نے اپنے پیچھے آٹا پیسنے والی چکی چھوڑی تھی۔  یہ چکی اس خاندان کے مشکل وقت کی ساتھی تھی۔ اور اسی چکی پر اس گھر کا چولہا چلتا تھا۔ علی کے والد حیات تھے وہ ان کے ساتھ مل کرشوق سے چکی چلاتے تھے۔ علی دانے اٹھانے ، چکی میں دانے ڈالنے اور پھر پسا آٹا بوریوں میں منتقل کرنے میں باپ کی مدد کیا کرتے تھے۔

وہ والد کے ہمراہ  پہاڑوں سے لکڑیاں توڑ کر لایا کرتے۔ کیونکہ اس وقت چکوال کے اس گاؤں میں گیس کی سہولت میسر نہیں تھی۔  آگ جلانے کے لیے وہ صبح سویرے باپ کے ساتھ سنگلاخ چٹانیں عبور کرتے لکڑیاں توڑنے پہنچ جاتے۔ موسم کی شدت ان پر اثر نہیں کرتی تھی۔ 

علی کی والدہ صغراں بی بی  کی آنکھوں کے سامنے گزرا ماضی کسی فلم کی مانند چلنے لگتا ہے۔  آنکھوں میں آنسو لیے ان کے پاس کہنے کو ہزارہا باتیں ہیں۔ مگرزبان پر تشکر اور صرف 'میرا علی۔'

'گھر کے تمام کام علی خود کرتا تھا۔  وہ اپنے والد کے ساتھ فصلیں کاٹتا ، گندم کاٹٹتا اور پھر گھر لا تا۔ چکی میں باپ کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ اللہ بخشے اس کے والد کہتے تھے کہ علی میرا پتر اے (علی میرا بیٹا ہے)۔ وہ اسے لڑکیوں والے کپڑے پہننے نہیں دیتے۔ ایک بار اس نے سکول کا لڑکیوں والا سوٹ پہنا تھا، والد نے جب اسے لڑکیوں کے کپڑوں میں دیکھا تو کہا  کہ یہ کپڑے  فورا بدل لو'

علی کی منجھلی بہن ارم خورشید  بتاتی ہیں کہ والد اور بھائیوں کی موت کے بعد گھر کا سارا بوجھ کسی نے تو اٹھانا تھا۔ وہ سب بہنیں اور ان کی والدہ اکیلی ہو گئیں ۔ گھر میں مرد نہ ہونے کے باعث گھر کی کفالت مشکل ہوگئی۔  حالات بدلے تو گھر میں مرد کی کمی شدت سے محسوس ہوئی اس وقت علی نےاپنی تعلیم  اور اپنے مستقبل کو فراموش کر کے ایک بڑا فیصلہ لیا۔ وہ لڑکا بن گئے اور گھر کی بند چکی چلا دی۔

گاوں والوں کو چکی دوبارہ فعال ہونے کا علم ہوا تو سب نے ان کی چکی کا رخ کر لیا۔ علی کا کاروبار بھی چلنے لگا۔ ارد گرد کے گاوں سے بھی لوگ آنے لگے ۔

آٹا پسوانے کے لیے آنے والے گاہک گندم کے بورے لاتے۔ علی دانے پیسنے کے بعد آٹے کو تولتے اور فی من پسوائی کی رقم وصول کرتے۔ 

ان کی چکی میں روئی دھننے اور سرسوں کا تیل بنانے والی مشین بھی موجود تھی۔ وہ یہ دونوں مشینیں بخوبی چلاتے ہیں۔ ان مشینوں پر لوگوں کی رضائیوں کے لیے روئی دھنی بھی جاتی ۔اور سرسوں کا تیل بھی نکالا جاتا تھا۔ یہ سب کا علی کیا کرتے تھے۔

لڑکی سے لڑکا بننے کا سفر آسان نہ تھا

علی کی ایک اور بہن وحید اخترکا کہنا تھا کہ عائشہ سے علی بننے تک ان کی بہن کو بے شمار مسائل اور دشواریوں کا سامنا کرنا کرنا پڑا۔

سکول میں لڑکوں کے کپڑے پہننے اور لڑکوں کے سے بال کٹوانے پر لڑکیوں نے گروپ بندی شروع کر دی۔ کلاس میں یا کلاس سے باہر انہیں 'علی عائشہ' کے نام سے پکارا جاتا۔ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے لڑکیاں 'علی عائشہ' کی آواز ضرور کستیں۔

 میٹرک امتحانات میں علی کو  دوسرے گاوں میں پرچے دینے جانا پڑا، مگر وہاں رول نمبر سلپ پر لکھے نام عائشہ کی وجہ سے سپرٹینڈینٹ نے انہیں کمرہ امتحان میں بیٹھنے نہیں دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ رولنمبر سلپ میں عائشہ لکھا ہے یہ تو ایک لڑکا ہے ۔ 

علی بتاتے ہیں کہ جب انہیں امتحان دینے سےروکا گیا تو پریشانی میں انہوں نے رونا شروع کر دیا ۔ بعد ازاں امتحانی مرکز کے قریب ایک سرکاری اسکول کے پرنسپل انکے جاننے والے تھے جنہوں نے سپریٹینڈینٹ سے بات کر کے انہوں پرچے میں بٹھوا دیا۔  لیکن اس دوران علی کا کافی وقت بھی ضائع ہو گیا۔۔ 

’دوپٹہ پہنو گی تو ہی آئی ڈی کارڈ بنے گا‘

علی نےانڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب وہ اپنا شناختی کارڈ بنوانے نادرا دفتر پہنچے تو نادرہ افسران نے ان کا شناختی کارڈ بنانے سے انکار کر دیا۔  وجہ پوچھنے پرنادرہ افسران کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے بال کٹے ہیں اور سر پر دوپٹہ نہیں ہے۔  اسی لیے ان کا شناختی کارڈ بھی نہیں بن سکتا۔  وہ سخت پریشانی کے عالم میں واپس گھر لوٹے۔ اگلی بار وہ اپنی بہن کے ساتھ دوبارہ نادرا کے دفتر پہنچے ۔ دوسری بار پھر نادرا افسران نے وہی بات دہرائی۔  علی کی بہن نے منت سماجت کر کے شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا والوں کو راضی کیا۔  نادرا افسران نے شرط عائد کی کہ اگر وہ سر پر دوپٹہ لیں گی تو ہی ان کا شناختی کارڈ بنے گا ۔ مجبورا انہوں نے کسی خاتون کے رومال کو سر پر پہن کر تصویر اتروائی اور تب کہیں جا کر ان کا شناختی کارڈ بنایا گیا۔

لوگوں کا تحقیر آمیز رویہ

علی کے لڑکوں والے حلیے کے باعث اکثر لوگوں انہیں مذاق کا نشانہ بھی بناتے تھے۔  کچھ لوگ ان کے نام پر اور کچھ نام کی تبدیلی پر چوٹ کرتے۔ خاص طور پر جو خواتین آٹا پسوانے کے لیے چکی پر آتی وہ علی پر تنقید کرنا فرض اول سمجھتیں ۔ 

علی کی والدہ بتاتی ہیں کہ پہلے پہل زیادہ قریبی رشتہ داروں کی جانب سے باتیں بنائیں گئیں ۔ ایک بہت قریبی رشتہ دار نے تو علی کی کردار کشی شروع کر دی۔ پہلےعلی کے موبائل رکھنے پر اعتراضات لگائے بعد ازاں لڑکوں کے ساتھ دوستی پر نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ گھٹیا الزام بھی لگائے۔

علی کو صرف اپنے خاندان والوں سے ہی نہیں گاؤں والوں کی طرف سے تحقیر آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ۔  ان کی بہن ارم خورشید بتاتی ہیں: 'پہلے پہل علی  باتیں سن کر غصے میں آ جاتا تھا اور لڑا کرتا تھا۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اکثر لوگوں کی پتائی بھی کرچکا ہے  مگر پھر آہستہ آہستہ اس نے لڑنا چھوڑ دیا ۔ جو قریبی رشتہ دار اس پر سب سے زیادہ پابندیاں لگاتا تھا۔ اسے بھی نظر انداز کرنے لگا ۔ بعد میں بلانا بھی چھوڑدیا۔'

'جاہل لوگ آکر اسے جان بوجھ کر تنگ کرتے ہیں ۔ ایک خاتون آٹا پسوانے آتی ہے جان بوجھ کر کہتی ہے کہ آو میں تمہیں اپنی بہو بنا لوں،  ہم نے اس عورت کو  روکا جب ہمیں کوئی تکلیف نہیں تو اسے کس بات کا مسئلہ ہے۔ اب ہم اپنے بھائی کے لے خود لڑتے ہیں۔ علی بھائی ہے ہمارا'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علی کی والدہ بتاتی ہیں کہ ارم خورشید  کے دبئی پلٹ شوہر نے چار سال پہلے ساس کی باتوں میں آکر بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ اس مشکل مرحلے میں علی نے اپنی بہن کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اور اسے گھر لے آیا ۔ اس کی اور اس کی بیٹی کی تمام ذمہ داری خود اٹھا لی ۔ میری بیٹی علی کو پاپا کہتی ہے۔ اور سمجھتی بھی ہے۔ اب علی دیگر بہنوں کے پانچ بچوں سمیت ان کی بیٹی کو موٹر سائیکل پر لے کر اسکول چھوڑنے جاتا ہئ اور واپسی بھی لاتا ۔ ان ماں بیٹی کو مکمل خرچہ علی اٹھا رہے ہیں۔ 

'ابھی بھی لوگ باتیں کرتے ہیں جان بوجھ کر اسے تنگ کرتے ہیں ، ایک بار ایک خاتون  آٹا پسوانے آئی ، معمولی سی بات پر اس نے علی کو کوسنا شروع کر دیا۔ اور اسکی جنس کے حوالے سے اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔'

علی نے جب انہیں ٹوکا تو کہتیں لڑکی ہو کر اتنی باتیں کرتی ہو، ہم نے کہا  یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ اسی طرح جو لوگ آتے ہیں وہ آٹا پسوانے کے بعد یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ علی من من کی بوریاں اٹھا کر ان کے گھر یا گاڑی تک پہنچا کر بھی آئے۔ اور علی اپنے ماہانہ ایام میں بھی یہ بوجھ اٹھاتا ہے اور وزن اٹھانے سے ہچکچاتا نہیں۔ 

علی کی بات کرتے کرتے ان کی بہن رونے لگیں۔ بھائی سے محبت میں ان کی آنکھیوں سے زارو قطار آنسو چھلکتے رہے۔

 'علی کے علاوہ ہم پانچ بہنیں ہیں۔  سب بہنیں اپنے اپنے گھر کی ہوگئی ہیں ، طلاق ملنے کے بعد میں بلڈ پریشر اور ڈپریشن کے باعث شدید بیمار ہوگئی میرے ہاتھ پاوں کام کرنا چھوڑ گئے ۔

 میرے بھائی کو ہمت دی اللہ نے اس نے میرا علاج کروایا ۔ اور ابھی تک کروا رہا ہے ۔ یہ ہمارے پیچھے اپنی زندگی خراب کر رہا ہے۔  اس کی حق ہے خوشیاں دیکھنے کا۔ مگر وہ ہمارے لیے وہ زندگی جی رہا ہے جو اس کا حق نہیں ہے۔'

علی کی امی بتاتی ہیں کہ ہم علی کا لڑکی سے لڑکا بننے کے لیے آپریشن کروانے پنڈی کے ہسپتال میں بھی گئے تھے۔ وہاں کے معروف ڈاکٹر سے مشورہ کیا، ہم جاننا چاہتے تھے کہ کیا آپریشن کے بعد یہ لڑکے میں بدل جائیں گے ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ وہ آپریشن کردیں گے۔ جس کے لیے دس لاکھ روپے کی رقم درکار ہوگی ۔ مگروہ انہیں گارنٹی نہیں دیے سکتے کہ آگے ان کی نسل بڑھتی بھی ہے یا نہیں ۔ لیکن اگر آپریشن کامیاب نہیں ہوا تو پھر وہ لڑکی بھی نہیں رہیں گے۔ 

ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم آپریشن نہیں کروائیں گے۔  

علی کی والدہ  مسکراتے ہوئے بتاتی ہیں: 'علی رات کو میسج پر لڑکیوں سے باتیں کرتا  ہے۔ لڑکیوں سے دوستی کر رکھی ہے۔ مگر لڑکیوں کو علی کے بارے میں پتہ نہیں ہے اور وہ لڑکا سمجھ کر ہی بات کرتی ہیں ۔ ایک لڑکی سر عام والدین کے ساتھ آگئی کہ میں نے علی سے شادی کرنا ہے۔  اب ہم ان کو کیا بتاتے کہ اس کی شادی علی سے نہیں ہو سکتی۔ اورکیوں نہیں ہو سکتی۔' 

مگر اس کے ساتھ دکھی ماں کے دل میں یہ خواہش بھی ہے کہ انکی خواہش سچ ہو جائے کہ کاش کچھ معجزہ ہو جائے۔

'اللہ دنیا کو کرشمے دکھاتے ہیں میری  بھی دعا ہے کہ اللہ مجھے کرشمہ دکھائے اور میرا علی لڑکا بن جائے۔'

علی کی والدہ نے اپنا گھر بار اور والد کا ترکہ سب کچھ علی کے نام کر دیا ہے۔ ان کی بہنوں نے اپنے اپنے حصے کی جائداد علی کے نام کروا دی ہے۔

’ہم سب بہنوں نے اپنا حصہ علی کے نام کر دیا ہے، اور نہ ہم نے حصہ نہیں لینا  ہے ۔ یہ سب کچھ علی کا ہے ۔ ہمارا کچھ  بھی نہیں ہے  وہ ہمارے لیے اپنی زندگی برباد کر رہا ہے ہم اسکو کچھ نہیں دے سکتے کیا؟‘

علی بتاتے ہیں کہ جب پہلے پہل انہوں نے کام شروع کیا  تو انہیں ہاتھوں ، بازوں اور پیروں میں  بہت درد ہوتا تھا ۔ مگر پھر آہستہ آہستہ ٹھیک ہو گیا ۔ پھر انہیں عادت پڑ گئی۔ اب گندم لانا، لے جانا، اٹھانا، کچھ بھی ان کے لیے مشکل نہیں ہے۔  

 آٹا پیس پیس کر انہیں آٹے کی الرجی بھی ہوگئی ۔ انہیں سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آٹا پیسنے کے دوران ناک کے ذریعے آٹا ان کی سانس کی نالی میں مسئلہ پیدا کرتا ہے ۔ پھر انہیں چھینکیں آنے لگتی ہیں۔ جتنی دیر وہ آٹا پیستے ہیں چھینکیں مسلسل آتی رہتی ہیں۔

علی نے کام کا ایک مخصوص لباس بنا رکھا ہے، جس کے ساتھ مخصوص جوتے بھی ہیں ۔ کام سے پہلے وہ یہ لباس ، جوتے اور ماسک پہنتے ہیں تاکہ ان کو کم چھینکیں آسکیں ۔ دانوں سے بھرے  کنستر وہ مشین میں ڈالتے ہیں اور مشین چلا دیتے ہیں ایک طرف پسوائی ہو رہی ہوتی ہے تو دوسری جانب لوگوں کے پسے ہوئے آٹے کو تول کر پسوائی وصول کرتے ہیں ۔ علی ایک من کی ایک سو ساٹھ روپے پسوائی لیتے ہیں ۔ وہ ایک دن میں دس سے بارہ من آٹا پیستے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ مہنگائی میں اضعافہ ہونے کے باعث ہر ماہ مشینیں چلانے کے باعث پینتیس سے چھتیس ہزار روپے بل وپڈا کو ادا کرنا پڑتا ہے۔

علی بتاتے ہیں کہ کام کے دوران دو سے تین بار کچھ لوگوں نے ہراساں کرنے کی کوشش کی مگر وہ خاموش نہیں رہے ۔ انہوں نے اپنی والدہ کو بتایا اور پھر سب گھر والوں نے ان کا ساتھ دیا۔  

ماہرین نفسیات اورصنفی تضاد

علی کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے ماہر نفسیات ڈاکٹر طاہرہ رباب علی کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ پیدائشی طور کوئی بھی بچہ مرد عورت یا تیسری جنس ہوتا ہے۔

لیکن معاشرہ ان کو صنف کی سمجھ یا صنف کا کردار  دیتا ہے ۔ مثلا مرد اپنے آپ کو مرد اور عورت اپنے آپ کو عورت سمجھے۔  اور یہ معاشرے کی طرف سے دیے جانے والے کردار کے باعث ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی لڑکی یا لڑکے کو معاشرہ اور اس کے گھر والے مخالف صنف کا کردار دیتے ہیں۔  تو بچہ اپنے آپ کو وہی مخالف صنف سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ جیسے کے علی کے ساتھ ہوا ہے۔ 

'ہمارے معاشرے میں جن گھروں میں لڑکیاں زیادہ ہوتی ہیں ۔ وہاں کسی ایک لڑکی کو بیٹے کا کردار دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ کبھی اپنی مردانہ خصوصیات کو معاشرے میں ظاہر کرتی ہے ۔ تو ماں باپ ان کو روکنے کی بجائے اس کو سراہتے ہیں کہ یہ ہمارا بیٹا ہے ۔ اور پھر آہستہ آہستہ وہ لڑکی خود کو لڑکا تصور کرنا شروع کر دیتی ہے۔'

یعنی  پھر جب بچہ اپنے آپ کو مخالف صنف کے طور پر سمجھنا شروع کر دیتا  ہے اور اس میں قدرتی طور پر اسی کا رجحان ہوتا ہے ۔ کونکہ ہر مرد اور عورت مردانہ اور زنانہ ہارمونز کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اور جس میں جو ہارمون غالب آجاتا ہے بچہ اپنے آپ کو وہی سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس صورتحال کا شکار ہونے والے بچے اپنے ہی جیسی صنف کی طرف کشش محسوس کرتے ہیں ۔ جیسے کے علی کو اپنے جیسی لڑکیوں کے ساتھ ہے۔  

اور اس کیفیت کو  جینڈر ڈسپرونیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

'اس کیفیت میں مبتلا انسان اپنے صنف اور جنس کے انتشار میں مبتلا ہوتا ہے۔ جس کا دنیا کے مختلف ممالک میں علاج کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی بچہ اس کیفیت یعنی جینڈر ڈسپرونیا میں مبتلا ہو تو اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ مگر اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ فرد پانچ ماہر نفسیات سے اپنی تشخیص کروائے ۔ اور جب وہ پانچوں ماہر نفسیات اس بات کی تصدیق کر دیں کہ واقعی انسان جینڈر ڈسپرونیا میں مبتلا ہے تو کورٹ  اس کو اجازت دیتی ہے تاکہ وہ اپنے اس مسئلے کا علاج کروائے۔'

اسی حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے جب  گنگارام ہسپتال کے رجسٹرار سائکیٹری ڈپارٹمینٹ ڈاکٹر سید عمر شاہ سے بات کی انہوں نے بتایا کہ عائشہ کا علی میں تبدیل ہونا کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ وہ کردار ہے جو عائشہ کو معاشرے نے دیا۔ سائکیٹری میں اس خاص نوعیت کو جینڈر ڈسفوریا بھی کہا جا سکتا ہے۔ جس میں بچہ اس کردار کو نبھاتا ہے جو اسے معاشرے سے ملتا ہے یعنی یہ پیدائشی اور اور خود سے منتخب کی گئی صنف  میں تضاد ہوتا ہے۔ ایسا اس صورت حال میں ہوا کرتا ہے جب پیدائشی صنف کچھ اور ہو اور وہ بڑے ہو کر اپنی مخالف جنس سے تصور کریں ۔ یعنی جس طرح ہمارے قدامت پسند معاشرے میں کسی جگہ لڑکیاں بہت زیادہ پیدا ہو جائیں تو وہاں لڑکیوں سے لڑکوں کی امید کی جائے تو ان میں سے ہی کوئی ایک اپنے اندر مخالف سمت کی خصوصیات پیدا کر لیتی ہیں ۔ یعنی وہ اپنے لڑکوں والی عادات کو اختیار کر لیتی۔ یہ وہ کردار ہوتا ہے جو معاشرہ ان سے امید کرتا ہے۔

اور جب وہ اپنے آپ کو بدلتی ہیں تو معاشرہ اس پر بھی انہیں تضحیک کا نشانہ بناتا ہے۔ جس سے ان کا وہ تعمیری کردار جو وہ معاشرے کے ساتھ مل کر ادا کر سکتی ہیں ۔ وہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ ان میں ڈپریشن اور ذہنی انتشار بڑھ جاتا ہے۔  کام سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے اور بھوک کم ہو جاتی ہے۔ 

ڈاکٹر سید عمر شاہ کا کہنا تھا کہ ایسے کرداروں کے لیے ضروری ہے کہ گورنمنٹ اور معاشرے کا فرض ہے کہ پالیسی بنائی جائے ۔ اگر کوئی اپنے جنس سے مطمئین نہیں ہے تو اس کی تشخیص کی جائے کہ اسے کیا پریشانی ہے۔ اور پھر اس کے معاشرے کی جانب سے دیے گئے کردار کواگر وہ خود سے بدلنا چاہتے ہیں تو  انہیں ماہر نفسیات سے سے رابطہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ ان مشکلات اور پریشانی میں کمی واقع ہو سکے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی