'دن رات بھی ڈیوٹی کرنی پڑی تو کریں گے لیکن کرونا سے لڑیں گے'

دلارم خان کی کہانی جو ضلع دیر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بطور ایمبولینس ڈرائیور کام کرتے ہیں اور کرونا کے مشتبہ مریض قرنطینہ شفٹ کرنا اور ان کے سیمپل اسلام آباد یا پشاور لے جانے کی ڈیوٹی کرتے ہیں۔

'جب گھر جاتا ہوں تو گھر والوں کو خوف ضرور ہوتا ہے  کیوں کہ ہمارا کام کرونا کے مشتبہ مریضوں کو ایمبولینس میں شفٹ کرنا ہے، لیکن گھر والوں کو ساری احتیاطی تدابیر بتا دی ہیں اور میں بھی کوشش کرتا ہوں کہ گھر والوں کو ملنے سے پہلے نہا کر کپڑے بدل لوں ۔’

یہ کہنا تھا دلارم خان کا جو  ضلع دیر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بطور ایمبولینس ڈرائیور کام کرتے ہیں اور ضلعے میں کرونا کے مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ شفٹ کرنا یا مریضوں کے نمونے اسلام آباد اور پشاور لے جانے کی ڈیوٹی کرتے ہیں۔

کرونا سے بچاؤ کی کٹ میں ملبوس دلارم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عام دنوں میں ہم مریضوں کو ضلعی ہسپتال سے بڑے شہروں میں شفٹ کرتے ہیں لیکن ابھی چونکہ کرونا کی وبا پھیلی ہے تو زیادہ تر کام کرونا کے مشتبہ مریضوں کو شفٹ کرنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے بتایا کہ ہمیں کرونا میں مبتلا ہو جانے کا خوف ضرور ہوتا ہے اور گھر والوں کو بھی یہ خوف ہوتا ہے لیکن قوم کے خاطر ہم ڈیوٹی کر رہے ہیں اور اس بیماری کا مقابلہ کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ڈیوٹی کا دورانیہ زیادہ ہوگیا ہے لیکن اس کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں، ہم ڈیوٹی کریں گے اور انشااللہ اس وبا کا مقابلہ کریں گے۔'

انھوں نے عوام سے درخواست کی کہ گھروں میں رہیں اور بلا ضرورت باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ہم عوام ہی کے لیے باہر ہیں اور ڈیوٹی کر رہے ہیں۔

ہسپتال عملے کو کرونا سے بچاؤ کی کٹس فراہم کیے جانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ انہیں کٹ دی گئی ہے اور محکمے  اور ہسپتال کی جانب سے یہی ہدایات ہیں کہ وہ کرونا کے مشتبہ مریضوں کو شفٹ کرنے کے دوران کٹ پہنیں گے تاکہ عملہ اس سے بچ سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت