دو تصویریں، دو کہانیاں

ویسے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ عمران خان جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے مسئلے کو جیسے تیسے حل کرنے کے بعد اب لمبی تان کر سو سکتے ہیں۔ یا جب چاہیں نیند سے اٹھ کر ملک کو چلا سکتے ہیں۔

کرونا کی وجہ سے ہمیں کتنا فالتو وقت مہیا ہو گیا ہے اس کا اندازہ آپ چند روز پہلے دو تصاویر پر ہونے والی گرما گرم بحث سے لگا سکتے ہیں۔

اس بحث میں عملا پاکستان کے ہر اہم شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ماسوائے ان شہریوں کے جن کو اس وقت جان، مال اور گھر بار کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ایک تصویر میں قومی بحرانوں سے نپٹنے والے ادارے کے فوجی سربراہ بغلوں میں ہاتھ دیے اپنی کرسی کی پشت کے ساتھ کمر لگائے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے ساتھ اپنے دفتر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ چند ایک حلقوں نے اس منظر میں سے طاقت اور غلبے کے پہلو نکالتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ کیسے سویلین نمائندگان کو غیرسنجیدگی کی مار مار کے کمتر ثابت کیا جاتا ہے۔

بعض کو اس میں تمام اسمبلی کی ہتک کا زاویہ نظر آیا۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ سوری صاحب چوں کہ اکثر اپنے عہدے  کی وجہ سے تمام اسمبلی کے وقار کے تحفظ کا کردار ادا کرتے ہیں لہذا ایک فوجی افسر کی جانب سے ظاہرا ان کو اتنے 'ہلکے' انداز سے لیے جانے کا معاملہ سنجیدہ تنقید کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ایک ایسا ملک جس کی تاریخ میں وزیر اعظموں کو لٹکانے اور ووٹوں کے ذریعے طاقت میں آنے والوں کی درگت بنانا عام واقعات کے زمرے میں آتا ہو ایک تصویر پر اس قسم کے اعتراض حیران کن حساسیت سے کم نہیں۔ اور ویسے بھی کسی کو کیا پتا کہ اس ملاقات میں حقیقت میں کیا ہوا تھا؟ ایک لمحے سے کم عرصے میں منجمد کیا ہوا ایک انداز تمام روداد کیسے بیان کر سکتا ہے؟

ہو سکتا ہے کہ سوری صاحب کی اتنی عزت کی گئی ہو جتنی ان کی پارٹی میں بھی نہیں ہوتی۔ عین ممکن ہے کہ ان کی خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ آنے دی گئی ہو اور ان کو مکمل طور پر مطمئن کر کے واپس پروٹوکول کے ساتھ بھیجا گیا ہو۔ اور ویسے بھی اپنی عزت و بے عزتی کے معاملات سوری صاحب خود بہتر جانتے ہیں۔ اگر ان کو اس تصویر میں کوئی غیرمعمولی پیغام نظر نہیں آیا تو خواہ مخواہ بال کی کھال اتارنے کا کیا فائدہ؟ مگر پھر کرونا (کورونا) اور لاک ڈاؤن  نے فرصت اوقات کی جو مجبوری پیدا کی ہے اس کو نبھانا بھی تو ہے۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے۔

اس سے بھی کہیں سنجیدہ اور باریک زاویوں سے بنی ہوئی بحث فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کی اس تصویر پر شروع ہوگئی جو کرونا سے نمٹنے والی پالیسی کے حوالے سے ایک نشست کے بعد جاری ہوئی۔ اس تصویر میں جنرل صاحب بظاہر ماتھے پر تیور چڑھائے سیدھے اسد عمر کی طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ وزیر اعظم بظاہر سامنے ایک خالی جگہ کو گھورتے ہوئے کچھ ایسی کیفیت میں نظر آ رہے ہیں جس میں اعتماد اور اطمینان کم اور پریشانی اور کوفت غالب ہے۔

حزب اختلاف کے کئی اہم رہنماؤں نے اس تصویر کے ساتھ مجھ سمیت کئی صحافیوں کو امید سے بھرے  ہوئے سوال بھجوائے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ ’بتائیں اب کیا ہونے والا ہے؟ تصویر میں دونوں خوش نظر نہیں آ رہے۔‘ پی ٹی آئی کے بعض ممبران بھی وقتی پریشانی کا شکار ہو کر اپنے محدود ویٹس ایپ گروپس میں اس تصویر کو بار بار بھیج کر خاموش قسم کی سن بن لینے کی کوشش میں مصروف نظر آئے۔

بعض تجزیہ نگار، جو پہلے سے ہی پنڈی، آبپارہ اور بنی گالہ کے درمیان کشمکش کو ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس تصویر کے بعد مزید متحرک ہو گئے۔ ایک نے لکھا ’کھیڈ مک گیا‘ دوسرے نے لکھا ’ایک پیج تھا جو اب پھٹ گیا ہے۔‘ اور تو اور بیچارے مختارے کے نام سے عجیب و غریب پیغامات تشکیل و تحریر کر کے درجنوں کی تعداد میں سوشل میڈیا پر گھمائے گئے۔ اور ابھی بھی یہ طوفان بدتمیزی جاری ہے۔

اس مضمون کو تحریر کرتے کرتے تین پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جو اس تصویر کی خصوصی اہمیت کے بارے میں میرے خیالات سے مستفید ہونے پر مصر ہیں اور جب ایک کو میں نے یہ کہہ کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کی کہ اس میں مجھے کوئی خاص بات نظر نہیں آ رہی تو وہ ناراض ہوئے اور اگلے پیغام میں یہ شکوہ کر دیا کہ میں ان سے حقیقت چھپا رہا ہوں۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں ان کو کیسے یقین دلاؤں کہ سوری صاحب والی تصویر کی طرح اس میں بھی کوئی ایسا پہلو پوشیدہ نہیں ہے جس کو جان کر آپ ملک میں اگلے چند ماہ کے حالات کی خبر لے پائیں۔ ہمیں یہ مثبت سوچ پالنی چاہیے کہ جنرل باجوہ شاید تیور نہیں چڑھائے ہوئے تھے بلکہ تمام توجہ سے اس میٹنگ میں ہونے والی گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ عمران خان کی کوفت بھی شاید ان کے دل میں قوم سے ہمدردی کے جذبات کا عکس تھا جو اب تعمیراتی پیکج کی صورت میں کھل کر سب کے سامنے آ گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ درست ہے فوج کی تجویز سے ایک نیا ادارہ ’این سی او سی‘ کی صورت میں سامنے آ گیا ہے جہاں سے کورونا سے لڑنے کی اصل پالیسی کا اجرا ہو رہا ہے۔ لیکن جب ڈی جی آئی ایس پی آر اور فردوس عاشق اعوان اکھٹے بیٹھ کر پریس کانفرنس کر رہے ہیں تو اس شک کو بےبنیاد ہی قرار دینا چاہیے کہ ایک پیج کی دال میں کچھ کالا گھس آیا ہے۔ اور پھر عمران خان کے قریبی ذرائع یہ اصرار کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ایسے موافق اور مدافعت سے عاری دوستانہ نظام پر غصہ کریں۔

وہ جو کہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ وہ جس وزیر کو چاہتے ہیں وہ حاضر ہو جاتا ہے۔ جس فورم پر چاہیں خطاب کر دیتے ہیں۔ جس معاملے کو اہم جانیں اس پر پالیسی والا بیان جاری کر دیتے ہیں۔ کوئی روک نہیں۔ کوئی ٹوک نہیں۔ محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے ہو کر سلام پیش کرتے ہیں۔ دعائیں دیتے ہیں اور ہر دوسرے روز یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ اس ملک کی سلامتی کے لیے کتنے ناگزیر ہیں۔

ویسے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ عمران خان جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے مسئلے کو جیسے تیسے حل کرنے کے بعد اب لمبی تان کر سو سکتے ہیں۔ یا جب چاہیں نیند سے اٹھ کر ملک کو چلا سکتے ہیں۔ وہ جس کو چاہیں نواز دیں۔ جس کو چاہیں بچا لیں۔ دوست مستفید ہو رہے ہیں تو خیر ہے۔ دہری شہریت والے، سرخ، نیلے ، پیلے، کالے، سفید جو قریب ہے اس کو چاندی کروا سکتے ہیں۔ قرضہ بڑھے یا روپیہ قلا بازیاں کھائے۔ پشاور کی بس سروس لٹکی رہے یا عوام کا بھرکس نکلے وزیر اعظم کے ہاتھ سے ہونے والی کوئی غلطی کسی خمیازے کا باعث نہیں بن سکتی کیونکہ انہوں نے ’ڈیلیور‘ کی ہے۔ لہذا تصاویر پر نہ جائیں۔ ہاں مگر چینی بحران کی رپورٹ ضرور پڑھیں۔ اصل خبر وہاں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ