کرونا لاک ڈاؤن: طلبہ کے لیے مشکل بھی، موقع بھی

آپ لوگ یقیناً پڑھ پڑھ کر تنگ آ چکے ہوں گے، مگر ایک بات یاد رکھیں اگر آپ نے اس وقت اپنی محنت کو نظرانداز کر دیا تو آپ کے مستقبل پر بُرا اثر پڑے گا۔

آپ لاک ڈاؤن کے دنوں میں روازنہ  چار سے پانچ گھنٹے پڑھائی کو ضرور دیں(اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وائرس سے صرف حکومتیں اور ادارے ہی پریشان نہیں بلکہ ایک بہت بڑا طبقہ جو اس ساری صورت حال سے متاثر ہوا ہے وہ ایسے طالب علموں کا ہے جو کہ رواں سال بورڈ کے امتحان دینے والے تھے۔ اِن بچوں کا پورا ایک شیڈول ہوتا ہے جس کے مطابق وہ پڑھائی کرتے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال فروری کے بعد کسی نہ کسی بورڈ کے امتحان ہو رہے ہوتے ہیں، جن میں وفاق، میٹرک، انٹر، کیمبرج اور دیگر بورڈ شامل ہیں۔  تقریباً تین چوتھائی طالب علم ایسے ہوتے ہیں جن کی کم و بیش تقریباً تمام تیاری مکمل ہوچکی ہوتی ہے اور وہ بس اسی انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ان کے پیپر شروع ہوں اور کب وہ فارغ ہوں۔

چنانچہ ایسی صورت حال میں جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو بچے پہلے تو خوش ہوئے کہ چلو پڑھائی کے لیے مزید وقت مل گیا، مگر جوں جوں کرونا وبا کی صورتِ حال غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے، اُن طلبہ کی اکثریت ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ پڑھائی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

ان میں سے بیشتر کا یہی سوچنا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، بعد میں پڑھ لیں گے۔ طالب علموں سے گزارش ہے کہ حالات بیشک اس وقت خراب ہیں اور آپ لوگ بھی پڑھ پڑھ کر تنگ آ چکے ہوں گے، مگر ایک بات یاد رکھیں اگر آپ نے اس وقت اپنی محنت کو نظرانداز کر دیا تو آپ کے مستقبل پر بہت بُرا اثر پڑے گا۔

آپ کو ایک سنہرا موقع ملا ہے، حالات کو مثبت طور پر سوچیں کیونکہ ہر ایک کو ایسے مواقع نہیں ملا کرتے۔ چنانچہ آپ اِس سے فائدہ اٹھائیں اور جو بھی آپ کے ویک پوائنٹس ہیں ان پر توجہ دیں۔

بے شک ایسے موقعے پر جب پورا خاندان ایک ساتھ ہو اور سب بڑے بوڑھے آپس میں گفتگو کر رہے ہوں تو آپ کا بھی دل چاہتا ہوگا اُن کے ساتھ بیٹھنے کا، باتیں کرنے کا اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلنے کا۔

آپ یہ سب کام ضرور کریں مگر دن میں کسی بھی وقت چار سے پانچ گھنٹے اپنی پڑھائی کو ضرور دیں۔ کوئی بھی ایک مضمون اٹھا لیں ایک ہفتے تک اُسے دہرائیں، پُرانے پرچوں کو حل کریں۔ کچھ نہ کچھ پڑھائی سے متعلق کرتے رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ یہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا بھی سنہرا موقع ہے۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے آن لائن لیکچرز اور ویڈیوز دیکھیے۔ خاص طور پر خان اکیڈمی اور یوٹیوب پر ہر موضوع پر لیکچر موجود ہیں۔ ان سے بھی آپ کو بڑا فائدہ ہو گا اور جو آپ نے پڑھا ہے، وہ اچھی طرح سے ذہن نشین ہو جائے گا۔ 

ایسا نہ ہو کہ کل کو آپ پچھتائیں کہ میرے پاس وقت بھی تھا پھر بھی اپنی سوچ کے مطابق کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

ایک پریشانی جس کی بہت سے طالب علوں کو شکایت ہوتی ہے کہ گھر میں ہر وقت کا شور ہے۔ ہم کس وقت پڑھیں؟ تو اِس کا ایک عام سا حل یہ ہے کہ یا تو آپ صبح فجر میں اٹھیں، نماز کے بعد پڑھنے کے لیے بیٹھ جائیں۔ یہ نہیں کر سکتے تو رات کو سب کے سونے کے بعد گھر کا کوئی بھی کونا منتخب کر کے اُس وقت پڑھیں۔ یہ دو بہترین وقت ہیں جس دوران گھر کا کوئی فرد آپ کو تنگ نہیں کرے گا۔

یاد رکھیں اگر آج آپ نے وقت کو نظرانداز کر دیا تو یہ وقت بھی آپ کو نظرانداز کر دے گا اور آپ کے اپنے مستقبل کے تمام اہداف آپ کے ہاتھوں سے ریت کی طرح سے پھسل جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس