کھیلوں پر انحصار کرنے والے تاجر، ایجنٹ، کھلاڑی اور جواری خوف میں

کرکٹ کا کھیل بند ہو چکا ہے جو نیل کی آمدن کا بڑا ذریعہ تھا۔ اب ان کے لیے بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ سے وہ دور شروع ہوتا ہے، جس میں پورے موسم گرما کے دوران فرنچائز، ڈومیسٹک اور عالمی سطح پر شرطیں لگتی تھیں۔

برطانیہ میں کھیلوں کے لیے پرکشش موسم سرما اور گرما کے کھیلوں کے تمام مقابلے مؤخر ہو چکے ہیں اور شائقین گھروں میں بند ہیں۔ (تصاویر: اے ایف پی)

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے 'قومی ہنگامی حالت' اور کرونا (کورونا) وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے اعلان کو 10 روز سے زائد ہو چکے ہیں تاہم کھیل کی دنیا میں یہ اعلان اس سے ایک ہفتہ پہلے ہی کر دیا گیا تھا۔

پریمیئر لیگ نے اپنے دروازے 13 مارچ کو بند کردیے تھے۔ رگبی فٹ بال یونین نے چار دن بعد اس اقدام کی پیروی کی۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے 20 مارچ کو سیزن کا آغاز اپریل سے جون تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا جبکہ گذشتہ بدھ کو سب سے آخر میں متاثر ہونے والا ویمبلڈن  ٹینس چیمپیئن شپ کا بڑا ایونٹ تھا جس نے 29 جون سے شروع ہونا تھا۔

برطانیہ میں کھیلوں کے لیے پرکشش موسم سرما اور گرما کے کھیلوں کے تمام مقابلے مؤخر ہو چکے ہیں اور شائقین گھروں میں بند ہیں۔ باوجود اس کے کہ کھیلوں کی تمام سرگرمیاں غیرمعینہ مدت کے لیے بند ہو چکی ہیں، ان کے اردگرد کے معاملات کو اتنے ہی بہتر انداز میں جاری رہنا ہے جس قدر وہ رہ سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھیلوں نے ہمارے معاشرے میں کس قدر گہری جڑیں بنا لی ہیں۔ کھیلوں کی صنعت جس کا اکثر 'ایک تفریح' کے طور پر حوالہ دیا جاتا ہے معیشتوں (چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی) کے دل دھڑکن کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ صنعت اپنی فوری استعداد سے کہیں بڑھ کر اربوں کی کمائی کرتی ہے۔ کبھی اچھے وقتوں کی بدولت اور اب یقینی طور پر برے وقت کی وجہ سے۔

مستقبل میں جو اقدامات کیے جانے ہیں وہ بنیادی طور پر حکومتی قانون سازی کی بنیاد پر ہوں گے جو سیڑھی پر آہستہ آہستہ اوپر سے نیچے پہنچیں گے۔ التوا کی مدت جتنی طویل ہو گی اتنا ہی وہ لوگ مشکلات کا شکار ہوں گے جو سیڑھی پر زیادہ نیچے بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت جب کہ سیزن ختم ہو گئے ہیں، ایجنٹوں کے لیے عام طور پر مصروف سیزن کا آغاز ہو رہا ہے خاص پر ان ایجنٹوں کے لیے جو فٹ بال اور رگبی یونین سے وابستہ ہیں۔ کنٹریکٹس پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ کنٹریکٹ میں توسیع کی جا رہی اور رقوم کی منتقلی زیر بحث ہے۔

ہر لحاظ سے کوئی بھی سرگرمی نہ ہونے کے باوجود ایجنٹ پہلے سے کہیں زیادہ محنت کر رہے ہیں۔ بےیقینی کی فضا میں وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اپنے کلائنٹس پر صورت حال کو واضح کرنا ہے۔

بڑے ایونٹ پریمیئر لیگ کے بلبلے سے باہر، پریمیئرشپ رگبی اور کاؤنٹی کرکٹ کی ٹیمیں، جو کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ رکھ اور ضمانتیں دے سکتی ہیں، کے لیے حالات پہلے کبھی اس سے زیادہ خطرناک نہیں رہے۔

امریکی نیشنل فٹ بال لیگ (این ایف ایل) سے وابستہ کیم نیوٹن کے حالات ان لوگوں کے حالات کی واضح طور منظر کشی کرتے ہیں جن کے موجودہ کنٹریکٹ ختم ہونے والے ہیں۔

کرشماتی صلاحیتوں کے مالک امریکی کوارٹربیک کیم نیوٹن کو امریکی فٹ بال ٹیم کیرولائنا پینتھرز نے گذشتہ ہفتے الگ کر دیا تھا۔ 30 برس کی عمر میں بھی انہیں اہم کھلاڑی سمجھا جاتا ہے جو ایک بہتر انتظام میں مزید کئی برس تک کھیل سکتے ہیں۔

لیکن ایک وجہ جس کی بنا پر نیوٹن نے کسی دوسری فرنچائز کا حصہ بننے کے بجائے سیدھا آزاد ایجنٹ کے طور پر کام شروع کر دیا، یہ ہے کہ سماجی دوری کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی انہیں رویے اور جمسانی صحت دونوں کے جائزے کے لیے نہ لا سکا۔

یہاں فرق یہ ہے کہ نیوٹن دنیا کی بڑی لیگز میں سے ایک میں ایک کروڑ پتی شخص ہیں۔ پیشہ ور ایتھلیٹس کی اکثریت کو دولت کا اس قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔

جن ایجنٹوں سے دی انڈپینڈنٹ نے رابطہ کیا وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے بعض چھوٹے کھلاڑی خاص طور نوجوان اور وہ کھلاڑی جن کے کنٹریکٹ ختم ہونے والے ہیں، ان کے معاوضے میں کمی کر دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ بعد بعض کھلاڑیوں سے وعدہ خلافیاں بھی کی گئیں۔

ایک ایجنٹ نے کہا: 'پریمیئرشپ رگبی کلب میں میرے پاس ایک لڑکا آیا جس کے کنٹریکٹ کے آخری مہینے چل رہے تھے۔ حال میں ہی اسے دو سال کے  لیے کی گئی پیش کش واپس لے لی گئی ہے۔ اس کے بعد اسے ای میل ملی کہ کلب نے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے معاوضوں میں کمی کر دی ہے۔ جب تک انہوں نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی تھی انہیں احساس نہیں تھا، وہ یہ سب قبول کرنے پر مجبور نہیں تھے۔'

یہ صرف ایک مثال نہیں کہ ایجنٹ کا کردار ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔ ایجنٹ حضرات ایک ہفتے کے اندر سہولت کار سے معلم بن گئے ہیں۔

'بات یہ ہے' کوانٹم سپورٹ کے ڈائریکٹر جیمز ویلچ نے ان الفاظ کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا: 'کھلاڑی اپنے کنٹریکٹ یا حقوق کی باریکیاں نہیں جانتے، اس لیے جب اس قسم کی صورت حال پیدا ہوتی ہے جیسی کہ اس وقت ہے جس کی پہلےکوئی مثال نہیں ملتی، تو وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اندھیرے میں محسوس کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے خاص طور مایوس کن صورت حال ہو سکتی ہے کیونکہ کلب خود ابھی تک اس بات کی تیاری کررہے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔'

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے پیش نظر حکومت کا امدادی منصوبہ سب سے بڑی مثال ہے کہ موجودہ صورت حال کا کوئی نیا حل تلاش کیا جائے۔ ملازمین کو اگلے تین مہینے تک گھر بٹھانے کی صورت میں ایک کمپنی معاوضوں کے 83 فیصد تک کا دعویٰ داخل کر سکتی ہے۔ حکومتی امدادی پیکج کا مقصد کمپنیوں کو بےروزگار کرنے سے روکنا ہے، تاہم کھیل کی دنیا میں کھلاڑی طے شدہ مدت کے معاہدوں پر ہوتے ہیں۔

رگبی سے کرکٹ تک جہاں کلب مالیاتی دباؤ کو جلد برداشت کرلیتے ہیں، تمام پریمیئرشپ رگبی کلبوں، ایکسیٹر کو چھوڑ کر، کی طرف سے اخراجات میں کمی کے اقدام کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جب کہ یارک شائر اور گلے مورگن پہلی کاؤنٹیاں ہیں جنہوں نے کھیل میں مصروف نہ ہونے والے کھلاڑیوں کو گھر بٹھا دیا۔ کھلاڑیوں کے معاوضے 'باضابطہ' ملازمتوں کی تنخواہ سے مطابقت رکھتے ہیں، اگرچہ انہیں ایک لامحدود مدت کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

بعض کھلاڑی ان حالات میں اپنے آپ کو بےبس محسوس کرتے ہیں اور انہیں مستقبل کا خوف ہے۔ جس بات کا انہیں احساس نہیں ہے وہ یہ کہ ان پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ گھر بیٹھنا منظور کر لیں۔ بلاشبہ مسئلہ موجودہ نازک صورت حال میں مشکلات سے متعلق رائے کا ہے۔

معاملے کا ایک اور پہلو جسے اس وقت ایجنٹوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے  وہ یہ ہے ان کے کلائنٹس کو معلومات کس طرح مل رہی ہیں، چہ جائے کہ بس ان پر کارروائی کر دی جائے۔  

ویلچ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: 'بہت سے نوجوان کھلاڑی اپنی ٹیموں سے ملاقاتوں کے بعد خوف محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم سب کی صورت حال کو ذاتی طور پر، اور یہ کہ وہ اپنے کلبوں کے ساتھ کس جگہ کھڑے ہیں، جانتے ہیں۔ ہم کم از کم انفرادی سطح پر معاملات سے نمٹ سکتے ہیں۔'

'کھلاڑی درست کام کرنا چاہتے ہیں لیکن جو مسئلہ چل رہا ہے اور حقیقت میں پہلے سے درپیش ہے وہ یہ ہے کہ کھلاڑیوں پر کسی معاملے میں بطور گروپ دباؤ کا سامنا ہے۔ پلیئرز کرکٹ ایسوسی ایشن اور رگبی پلیئرز ایسوسی ایشن جیسے نمائندہ گروپ ان کے  لیے بہت محنت کر رہے ہیں۔ بطور ایجنٹ ہمیں انفرادی سطح پر اپنے کھلاڑیوں کی بھی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔'

اس وقت ویلچ جیسے ایجنٹوں کو ان مسائل سے روزانہ کی بنیاد پر نمٹنا پڑ رہا  ہے۔ ایجنسیاں دور سے کام کرنے کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ وہ بھی اپنی روٹی روزی کے لیے قطعی جوابات کی دعا کر رہی ہیں۔ دوسرے تمام لوگوں کی طرح وہ صرف ہاتھ پیر ہی مار سکتی ہیں اور دوسروں کی طرح دن میں زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر نظریں جمائے رکھتی ہیں کہ تھوڑی بہت معلومات اور ہمیشہ کی طرح کچھ مدد مل جائے۔

موجودہ دور میں معلومات کی طلب سوشل میڈیا پروڈیوسروں کو آگے لے آئی ہے، چاہے وہ بری خبر دینے میں پہل کریں یا اس کے ذریعے مدد کریں۔ کلب، لیگ اور فیڈریشن کے ایونٹس کے پیچھے موجود افراد کے لیے یہ پروڈیوسر کھیل کے کسی ایونٹ کے ملتوی یا منسوخ ہونے کی خبر کے لیے معلومات کا سب سے پہلا ذریعہ تھے۔

ان ایونٹس کے حوالے سے بحران کے عارضی حل کے دور کے بعد توجہ دلیرانہ محاذ کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔

ڈیجیٹل ایجنسی لائیووائر سپورٹ کے شریک بانی اور ڈائریکٹر پراناسونیجی، جن کے پاس کئی نام گرامی کلائنٹ ہیں کہتے ہیں: 'اس وقت کھیلوں کے معاملے میں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ شائقین کے علم میں ہے کہ ہم سفید جھنڈی نہیں لہرا رہے۔'

'اس طرح کے وقت میں بنیادی اصول تبدیل نہیں ہوتے۔ ساری بات مصروف رکھنے کی ہے۔ اب موزوں ترین وقت ہے کہ لوگوں سے ان کے پسندیدہ لمحات اور یادوں کے بارے میں پوچھا جائے اور بلاشبہ انہیں پیشرفت سے باخبر رکھا جائے۔ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں اندھیرے میں رکھا جائے۔'

اب تک یادِ ماضی خلا کو مؤثر انداز میں پُر کر رہی ہے۔ اصل میں آن لائن پرانے مواد کی بھوک اتنی بڑھ گئی ہے کہ ٹیلی ویژن کمپنیاں ان کی طلب پوری کر رہی ہیں اور ان کے تباہ شدہ شیڈول کی مرمت کر رہی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی 'میچ آف دا ڈے'کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کر رہا ہے جس میں پریمیئر لیگ کے پرانے میچوں پر توجہ دی جائے گی۔ آئی ٹی وی یورو 2020 کی جگہ یورو 96 کے میچ  دکھائے گا۔ وائٹ سکائی سپورٹس کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کا فائنل اور گذشتہ موسم سرما کی ایشز سیریز کا آخری دن دکھائے گا، جب بین سٹوکس نے وہ کر دکھایا تھا جس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

سونیجی کہتے ہیں: 'معاملہ کھیل کا ہو تو جو کچھ آپ دیکھ بیٹھے ہیں وہ سوشل میڈیا کا بہترین حصہ ہے۔ لوگ مکمل طور اجنبی لوگوں کے ساتھ کھیلوں کے حوالے سے اپنے پسندیدہ لمحات کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو ہمیشہ کے مقابلے میں اس وقت زیادہ قابل قدر ہے۔ اس کو قبول بھی کیا جا رہا ہے اور ہم سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔'

مارک جیووکس کو 'دا رِب مین'کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ وہ برطانیہ کے فٹ بال کلب ویسٹ ہام کے میچوں کے دوران ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک پسندیدہ فوڈ سٹال چلاتے رہے ہیں۔ ان کے لیے پیروں پر کھڑے ہونا آسان نہیں تھا لیکن اپنے باقاعدگی سے آنے والے مستقل گاہگوں اور متاثر کن آن لائن موجودگی کی بدولت ان کا کاروبار مارکیٹ میں لگنے والے سٹال سے ترقی کر گیا۔ سٹریٹ فوڈ کے منظر پر اس کاروبار کی ترقی کا راز بری طرح پوشیدہ رکھا گیا ہے۔

ویسٹ ہام کے مداح اور سیزن ٹکٹ ہولڈر مارک جیووکس میچ کے دنوں میں بولین ٹیورن کے عقب میں کام کرتے تھے۔ بعد میں وہ 17-2016  کے سیزن میں اپٹن پارک سے لندن سٹیڈیم منتقل ہو گئے۔ اب گراؤنڈ کے اطراف میں ان کے دو سٹال ہیں اور ویسٹ ہام کلب نے ان کی خدمات کو بولین بار کے گاہکوں کی مہمان نوازی کے لیے مخصوص سویٹ کے لیے درج کروایا ہے۔

جیووکس نے دی انڈپینڈنٹ کو دیے گئے انٹریو میں کہا: 'کاروبار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہمیں فی گیم ایک ہزار ڈشز کا نقصان ہوا ہے۔ فٹ بال کے شائقین، مارکیٹ کے لوگ اور کچھ دوسرے ریستوران جنہیں میں کھانا فراہم کیا کرتا تھا۔ پہلے واقعی بہت مصروفیت تھی، پھر اچانک ہم نے سب کچھ کھو دیا۔'

پریمیئر لیگ فٹ بال ختم ہونے کا مطلب ایک مقصد کے لیے جدوجہد بھی ہے۔ معمول کے دنوں میں جیووکس کو ہفتے کو کھیل شروع ہونے سے پہلے بدھ سے رات بھر کام کرنا پڑتا تھا۔ وہ دوپہر ایک بجے کے قریب ایک ٹن چانپیں تیار کر کے رکھ دیتے تھے اور عام طور پر کھیل کے آغاز پر اپنی نشست سنبھالنے تک تمام چانپیں فروخت ہو جاتی تھیں۔ بہت سے محاذوں پر فٹ بال کے کھیل کی کمی ہتھوڑے کی ضرب ثابت ہوئی ہے۔

دوسرے لوگوں کے برعکس جیووکس نے لاک ڈاؤن کے سرکاری اعلان سے قبل ہی کاروباری سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔ انہیں سپین میں رہنے والی اپنی بیوی بچوں اور دوستوں کے ذریعے جو کچھ یورپ میں ہو رہا تھا، اس کی شدت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ انہیں یہ عجیب لگا کہ حکومت نے آفت سے نمٹنے کے لیے پیشگی کوشش نہیں کی تھی۔ حالانکہ حالات سے بخوبی واقف ہونے کی بدولت انہیں یہ جاننے کا موقع مل گیا کہ بدترین حالات سے کس طرح نمٹنا ہے۔

وہ اب بھی اپنی کار کے ذریعے 'چند سو کلو چانپیں' ہیکنے وِک سٹیشن پر لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'مزاح کے طور پر یہ کافی ہے کہ میں لازمی کارکنوں میں شامل ہوں کیونکہ میں خوراک کی صنعت سے وابستہ ہوں۔' لیکن حالات کے مطابق ڈھلنے کا عمل بہت اہم ہے۔ اپنی چانپوں کی طرح وہ اپنی مختلف اقسام کی مرچوں والی چٹنیوں کے حوالے سے بھی مشہور ہیں جن کے کاروبار میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی جانب سے گھر پر خوراک ذخیرہ کرنے کے عمل میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔

ہفتے کو انہوں نے 15 منٹ میں اپنی تمام کرائسٹ آن اے بائیک، بیکن ہولی نامی چٹنیاں اور چانپیں فروخت کر دیں۔ پیر اور منگل کو بھی ان کا یہی معمول رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ  وہ جس طرح بن پڑے طلب پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

'آن لائن فروخت واقعی بہت اچھی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ میں اس مشکل وقت سے نکل جاؤں گا۔ میں واقعی خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوں۔ بہت سے ایسے تاجر جن کا فٹ بال کے شائقین پر انحصار تھا انہیں کئی سال تک سخت محنت کرنی پڑی اور اب سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ قطعی طور پر سب کچھ۔'

کھیلوں پر انحصار کرنے والے کسی تاجر پر ایسا وقت کبھی نہیں آیا۔ کُل وقتی جوا کھیلنے والوں کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں لیکن کئی اقسام کے کھیلوں کے موقعے پر کام سے سارا سال آمدن کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم یہ لاک ڈاؤن، جب فٹ بال کا سیزن موسم گرما کی منافع بخش کرکٹ میں ضم ہونے جا رہا تھا، اس سے زیادہ برا نہیں ہو سکتا تھا۔

ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ جوئے کی صنعت پر بھی برا وقت ہے جس کا نتیجہ خوش کن نہیں ہوگا، لیکن وہ لوگ جنہوں نے آگے نکلنے کے لیے محنت کی اور اس سے روزی کمائی، اب انہیں اس صورت حال کا سامنا ہے کہ انہیں مہینوں تک کوئی آمدن نہیں ہوگی۔ کسی حکومتی امداد کے لیے ان کے پاس بنیاد نہیں ہو گی۔

کرکٹ، فٹ بال اور سیاست میں ایکسچینج کے ذریعے شرطیں لگانے والے نیل مذاق میں کہتے ہیں: 'ویسٹ ہام کلب کے میرے دو کھلاڑیوں کو کھیل کے آغاز کے لیے زیادہ واک کرنے کا موقع ملے گا۔ مجھے باورچی خانے میں کچھ مزید مہارت حاصل کرنے کا وقت مل گیا ہے تاکہ میری بیوی تھوڑی سی وہ چائے پی سکے جو اس کے گھر آنے تک اس کے انتظار میں تھی۔'

 نیل 12 برس تک کسی وقفے کے بغیر جاری رہنے والی کُل وقتی تجارتی سرگرمی سے مکمل تعطل کی حالت تک آن پہنچے ہیں۔

کرکٹ کا کھیل بند ہو چکا ہے جو نیل کی آمدن کا بڑا ذریعہ تھا۔ ان کے لیے بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ سے وہ دور شروع ہوتا ہے، جس میں پورے موسم گرما کے دوران فرنچائز، ڈومیسٹک اور عالمی سطح پر شرطیں لگتی تھیں۔ کرکٹ سے پیسے کمانے میں سب سے بڑی رکاوٹ موسم ہے لیکن اس کے باوجود ایک ٹیسٹ میچ کے کسی نتیجے کے بغیر خاتمے کی صورت میں اوپر نیچے ہوتی قیمت یا کسی محدود اوور کے میچ کی فکسنگ کے معاملےمیں 'مکمل میچ مارکیٹ' سے منافع کمانے کا موقع ملتا ہے۔

'کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو سال کے 365 دن جاری رہتا ہے۔ آپ مان لیتے ہیں کہ اگلے روز ایک اور میچ ہو گا۔ پیسے کمانے کے حوالے سے برے دن کے  بعد  ایک بات جو میں اکثر اپنے آپ کو یاد دلاتا ہوں وہ یہ ہے کہ کل ایک اور میچ ہوگا۔'

نیل کے اندازے کے مطابق: اگر آئی پی ایل نہیں ہوتی جیسا کہ نظر آرہا ہے تو اس صورت میں ان دو مہینوں میں پانچ ہزار پاؤنڈ کا نقصان ہو گا اور ان کے اندازے کے مطابق دوسروں کو اس سے بھی زیادہ نقصان ہو گا۔

ایک اور ٹریڈر جن سے دی انڈپینڈنٹ نے رابطہ کیا، ان کا اندازہ تھا کہ انہیں تقریباً 40 ہزار پاؤنڈ کا نقصان ہو گا۔ آئی پی ایل کے ایک میچ کے لیے بیٹ فیئر ایکسچینج کے ذریعے ہونے والی اوسط ٹریڈنگ ایک پورے ٹورنامنٹ کے سات کروڑ پاؤنڈ کی اوسط کے برابر ہو سکتی ہے۔

دوسرے ٹریڈر اپنی مہارتوں کو کھیل سے الگ کرکے مختلف رنگ دے رہے ہیں۔ ایک تاجر نے کہا: 'میں مالیاتی اداروں اور سٹاک ایکسچینج کی طرف چلا گیا ہوں۔ سمت کی یہ تبدیلی کسی مارکیٹ میں داخلے کے بہترین مقامات اور اسی طرح فروخت کے مواقعے کی تلاش کے اعتبار سے بھرپور کوشش ہے۔' یہ ٹریڈر تسلیم کرتے ہیں کہ یہاں وہ لطف نہیں جو کھیل دیکھنے میں ہے لیکن انہیں اس حتمی نتیجے سے اتفاق ہے کہ پیسہ آ رہا ہے۔ یہی بات اہم ہے۔

نیل اگرچہ پریشان ہیں۔ 'جب تک کرکٹ کا کھیل واپس نہیں آتا میری کوئی آمدن نہیں ہوگی۔ میں مالی دھچکہ برداشت کر سکتا ہوں لیکن موسم خزاں تک کرکٹ نہ ہونے کی باتیں بہت پریشان کن ہیں۔ اگرچہ یہ صرف پیسے کے بارے میں نہیں ہے۔ میں جو کرتا ہوں مجھے اس سے محبت ہے اور پُر کرنےکے لیے یہ ایک بڑا خلا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کھیلوں میں ٹریڈنگ کرنے والے ایسے بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا ہے جو اس کام سے بہت کچھ کماتےہیں۔'

تمام حالات کا نچوڑ یہ ہے۔ ہم سب کا کھیلوں سے مفاد وابستہ ہے چاہے ہمارا خیال یہ ہو کہ ایسا نہیں ہے۔ کیریئر، روزی روٹی اور دماغی صحت کھیلوں کے نہ ہونے سے متاثر ہوئے ہیں۔ اگر آپ متاثر نہیں ہوئے تو یقیناً کوئی ایسا شخص متاثر ہوا ہوگا جسے آپ جانتے ہیں۔

ایجنٹوں سے لے کر میڈیا کے لوگوں، کیٹرنگ سے وابستہ افراد اور سپورٹس ٹریڈرز کے لیے ان پیشوں سے وابستہ ہونے کی وجہ ان کھیلوں کے قریب ہونا ہے جو انہیں اچھی لگتے ہیں۔ وہ اب تک کھیلوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔

اب دن خالی خالی محسوس ہوتے ہیں۔ حکومت کی ہدایت میں ہر تبدیلی یا کھیلوں کی تنظیموں کے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے تبدیل شدہ منصوبوں کے ساتھ، ہر لفظ پر ان افراد کو انتظار کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنا حوصلہ بلند اور سر پانی سے اوپر رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل