کرسی کے لیے دوڑیں

بعض اوقات عوامی بسوں میں کوئی سیٹ خالی مل جائے تو حیران مت ہونا کیونکہ اس کے پیچھے حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ یا تو سیٹ ہوادار نہیں ہوگی یا پھر اس سیٹ میں کوئی دوسرا مسئلہ ہوگا۔

کہنے کو تو یہ کرسی لوہے، سٹیل، لکڑی اور پلاسٹک کی ہوتی ہے (اے ایف پی)

آج صبح جامعہ جانے کے لیے گھر سے نکلی تو بس ذہن میں ایک ہی چیز تھی۔ ’یا اللّٰہ مجھے بس میں بیٹھنے کی جگہ مل جائے۔‘ فقط ایک کرسی کی خواہش لیے میں بس سٹاپ پہنچی۔

چند منٹ کے بعد بس رواں دواں آتی ہوئی نظر آئیں۔ میں بس کی جانب ایسے لپکی جیسے دکاندار گاہک کو دیکھ کر لپکتا ہے۔ خوشی اس وقت دگنی ہوگئی جب بس میں ایک خالی سیٹ نظر آئی۔

میں خراماں خراماں اس کی جانب بڑ رہی تھی کہ اچانک پیچھے سے ایک بیگ اس پر گرا اور ایک صاحبہ اس پر براجمان ہوگئیں۔ وہ میری جانب ایسی نگاہوں سے دیکھنے لگیں جیسے ایک گاڑی والا سائیکل پر جانے والوں کو دیکھتا ہے۔ خیر۔ ۔ ۔ میں وہیں رک گئی اور سیاستدانوں کی اس حالت کا بخوبی اندازہ ہوگیا جو ان کی الیکشن ہارنے کے بعد ہوتی ہے۔

بس چلنا شروع ہوگئی اور میں ان سوچوں میں کھو گئی کہ یہ کرسی کتنی اہم ہوتی ہے۔ کہنے کو تو یہ کرسی لوہے، سٹیل، لکڑی اور پلاسٹک کی ہوتی ہے۔ اس کی قیمت کا اندازہ اس کا بنانے والا بھی نہیں جانتا لیکن اس کا ضرورت مند اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ اس کرسی کے لیے لوگ ایوانوں میں آپس میں لڑتے ہیں۔ بوڑھے تو بوڑھے یہاں تو معصوم بچے بھی لڑائی کرتے ہیں فقط ایک کرسی کے لیے۔

کچھ عرصے قبل ہمارے گھر کزن صاحب اپنے دو عدد ہونہاروں کے تشریف لائے۔گھر میں موجود ایک کرسی دیکھ کر جو ہنگامہ شروع ہوا اللّٰہ جانتا ہے۔ نوبت یہ آئی کہ ہم نے وہ کرسی دوچھتی پہ ڈال دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعض اوقات عوامی بسوں میں کوئی سیٹ خالی مل جائے تو حیران مت ہونا کیونکہ اس کے پیچھے حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ یا تو سیٹ ہوادار نہیں ہوگی یا پھر اس سیٹ میں کوئی دوسرا مسئلہ ہوگا۔ اکثر بس میں ایسی شخصیت سوار ہوتی ہیں جو ساری سیٹیں بھری دیکھ کے اچھی خاصی حالت کو بگاڑ لیتی ہیں۔ ہائے ہوئی۔ ۔ ۔ بس ہلتی بھی ہے تو وہ نازک ہستی سیٹ پر بیٹھی شخصیت پر ایسے گر جاتی ہے کہ جیسے ان میں دم ہی نہ ہو۔ آخر ان کی یہ حالت دیکھ کر ایک خدا ترس بندا انہیں اپنی سیٹ پر بیٹھنے کی دعوت دیتا ہے اور وہ ہستی اپنا تمام درد بھلائے سیٹ پر ایسے براجمان ہوتی ہیں کہ جیسے کوئی بندہ نوکری میں محنت کے بعد ترقی ملنے کے بعد کرسی پر بیٹھتا ہے۔

بچپن کا یہ واقعہ اچھے سے یاد ہے کہ سکول کے ابتدائی دنوں میں کبھی چھٹی نہیں کی کیونکہ اس کے پیچھے ایک راز ہے۔ شروع کے دنوں میں طالب علم اپنی سیٹیں مخصوص کر لیتے ہیں اور وہ پھر پورا سال اس پر بیٹھتے ہیں۔ اچھے بچے ہمیشہ آگے بیٹھتے ہیں تو شرارتی بچے زیادہ تر پیچھے بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور پھر ہم جیسے رہ جاتے ہیں تو وہ درمیان کی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں کیونکہ اس کا ایک فائدہ ہوتا ہے کہ آپ اچھے بچوں کہ ساتھ پڑھائی کر لیتے ہو اور شرارتی بچوں کے ساتھ شرارت بھی۔

ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک پیچھے سے دھکا لگتا ہے اور آواز آتی ہے۔ بی بی! کن سوچوں میں گم ہو، جامعہ آگئی ہے اور میں نے اسی وقت اپنے قدموں کو 100 کی رفتار پر سیٹ کر دیا آخر کلاس میں پسندیدہ کرسی بھی تو چاہیے تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی