کرونا وائرس متاثرہ فرد سے کتنا فاصلہ طے کر سکتا ہے؟

یہ وائرس ہوا میں کئی گھنٹوں تک معلق رہ سکتا ہے، برعکس کھانسی اور چھینک کے دوران خارج ہونے والے قطروں کے جو فوری طور پر زمین پر گر جاتے ہیں۔

چین میں  خواتین کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر سماجی دوری کے اصول پر عمل کرتے  ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

امریکی ادارے یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنڑول اینڈ پروینشن کے مقالے میں شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق کے مطابق کرونا (کورونا) وائرس متاثرہ فرد سے چار میٹر یعنی 13 فٹ تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔

جمعے کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں ہسپتال سے حاصل کردہ کرونا وائرس کے مریضوں کے نموںوں کے مطابق یہ وائرس متاثرہ فرد سے 13 فٹ تک کے فاصلے کو متاثر کرسکتا ہے۔ یہ فاصلہ چھ فٹ کی اُس حد سے دو گنا زیادہ ہے جو موجودہ گائیڈ لائنز کے مطابق سماجی دوری کے اصول کی بنیاد ہے۔

تحقیق کے سامنے آنے کے بعد اس وائرس کی منتقلی کے بارے میں کی جانے والی بحث میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سائنس دانوں کہنا ہے کہ اس فاصلے پر موجود وائرس کی کم مقدار ضروری نہیں کہ خطرناک ہو۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس تحقیق کی سربراہی بیجنگ کی ملٹری میڈیکل سائنسز کی ٹیم کر رہی تھی۔ تحقیق کے دوران استعمال کیے جانے والے نمونے چین کے شہر ووہان کے ہوشینشن ہسپتال میں زیر علاج رہنے والے 24 مریضوں سے حاصل کیے گئے تھے۔ یہ مریض اس ہسپتال میں 19 فروری سے 2 مارچ تک زیر علاج رہے تھے۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ وائرس کی زمین پر موجود مقدار بہت زیادہ تھی جس کی وجہ شاید کشش ثقل ہو اور ڈراپ لیٹس (قطروں) کا ہوا کے دباؤ میں زمین پر گرنا بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر کے ماؤس، بستر کی ریلینگ اور دروازوں کے دستوں پر بھی اس وائرس کی بڑی مقدار پائی گئی۔

تحقیق کے مطابق آئی سی یو کے نصف سے زائد میڈیکل سٹاف کے جوتوں کے تلوؤں میں بھی وائرس کی مقدار پائی گئی۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ طبی عملے کے جوتے بھی اس وائرس کو پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ٹیم نے وائرس کے ایروسول ہونے پر بھی تحقیق کی جس کے مطابق یہ وائرس ہوا میں کئی گھنٹوں تک معلق رہ سکتا ہے، برعکس کھانسی اور چھینک کے دوران خارج ہونے والے قطروں کے جو فوری طور پر زمین پر گر جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیق کے دوران سامنے آیا کہ وائرس سے متاثرہ ایروسول مریض سے کم سے کم سے 13 فٹ تک ہوا میں نچلی سطح تک موجود رہ سکتے ہیں جبکہ اونچائی میں یہ فاصلہ 8 فٹ ہے۔

تحقیق میں حوصلہ افزا طور پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ علاج کے دوران عملے کا کوئی فرد اس وائرس سے متاثر نہیں ہوا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں تو اس وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ تحقیق میں مریض کے گھر میں تنہا رکھنے کی حکمت عملی کو بھی ناکافی قرار دیا گیا۔

تاہم کرونا وائرس کے ہوا کے ذریعے منتقلی کے حوالے سے سائنس دان ابھی تک تقسیم ہیں اور اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ یہ وائرس ہوا کے ذریعے کس حد تک نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس خطرے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ امریکی محکمہ صحت حکام کی جانب سے عوام کو اس بارے میں مزید احتیاطی تدبیر کے طور پر باہر جاتے ہوئے ماسک پہننے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ سانس لینے اور بات کرنے کے دوران اس وائرس کی منتقلی سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب امریکہ میں کووڈ 19 کے ٹیسٹ عام ہونے کی وجہ سے سائنس دان اس بات کی تنبیہ کر رہے ہیں کہ بعض افراد کا ٹیسٹ منفی آنے کے باوجود وہ اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں ٹیسٹ کے لیے زیادہ تر پی سی آر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ انسان کے بلغم میں کرونا وائرس کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن انفیکشیس ڈیزیز سپیشلسٹ پریا سمپتھکمار کے مطابق: 'اس کا انحصار بہت ساری چیزوں پر ہے کہ یہ ٹیسٹ اس وائرس کی نشاندہی کر پاتا ہے یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی شخص وائرس سے کتنا متاثر ہے، یہ ٹیسٹ کیسے کیا گیا اور نمونوں کو کتنی دیر تک رکھنے کے بعد ان کا ٹیسٹ کیا گیا۔'

پریا سمپتھ کمار کا کہنا ہے کہ 'اندازے کے مطابق اگر کیلی فورنیا میں مئی تک کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں 50 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے تو مطلب ہم نے چار کروڑ لوگوں کے ٹیسٹ کیے ہیں جن میں سے 20 ہزار کا ٹیسٹ منفی آنا متوقع ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس وائرس کی تشخیص کے لیے صرف ٹیسٹ سے کچھ زیادہ کیا جا سکے۔ کسی متاثرہ فرد کی علامات، ان کی سفری تفصیلات اور اس کے علاوہ مزید ٹیسٹ کرنا بھی لازمی ہے۔'

یہ وائرس چار مہینے سے انسانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کے حوالے سے کی جانے والی تمام تحقیق ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق