طاہر شاہ اپنے گانے سے غائب، 'غلطی' کیا ہے؟

کافی انتظار کے بعد طاہر شاہ نے بالآخر اپنا نیا گانا 'فرشتہ' ریلیز کردیا، جس نے پاکستانی صارفین کو واقعی کرونا بھلا دیا۔

ماضی کے برعکس اس گانے کی ویڈیو اینیمٹڈ ہے، جہاں ایک موقع پر طاہر شاہ کہتے نظر آئے کہ 'ہم سب فرشتے ہوسکتے ہیں۔'(تصویر: ویڈیو سکرین گریب)

اپنے گانے 'آئی ٹو آئی' سے شہرت حاصل کرنے والے گلوکار طاہر شاہ نے جب 'اینجل' کے بعد اپنا تیسرا گانا ریلیز کرنے کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا صارفین بے صبری سے ان کے گانے کا انتظار کرنے لگے۔

پہلے پہل طاہر شاہ نے تین اپریل کو نیا گانا ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس گانے کی ریلیز کچھ روز کے لیے موخر کر دی اور پھر گذشہ روز 'فرشتہ' ریلیز کیا گیا۔

ماضی کے برعکس اس گانے کی ویڈیو اینیمٹڈ ہے، جہاں ایک موقع پر طاہر شاہ کہتے نظر آئے کہ 'ہم سب فرشتے ہوسکتے ہیں' جبکہ ویڈیو کے آخر میں دیے گئے پیغام کے مطابق: 'بچے اس زمین پر فرشتوں کی مانند ہیں،' تاہم گانے کی طرز کم و بیش ان کے پرانے گانوں جیسی ہی ہے۔

لیکن اس کے باوجود گانا ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ہر جانب موضوع گفتگو بن گیا اور پاکستانی ٹوئٹر صارفین کرونا (کورونا) وائرس کو چھوڑ کر طاہر شاہ کے گانے کے پیچھے پڑ گئے۔

ٹوئٹر صارفین نے گانے پر قسم قسم کی میمز بناکر اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا۔

طیب سہیل نامی ایک صارف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: 'حکومت کو چاہیے کہ یہ گانا گلیوں میں بجایا جائے تاکہ لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کیا جا سکے۔'

ملیحہ آصف نامی ایک صارف نے عامر خان کی مشہور فلم 'پی کے' کے ایک منظر کو اپنی ٹویٹ میں اس عنوان کے ساتھ پوسٹ کیا: 'فرشتوں نے بھی طاہر شاہ کا گانا فرشتہ سننے کے بعد کہا ہوگا، ہم کو ای گولہ پر نہیں رہنا۔'

یاسف نامی ایک صارف نے ٹویٹ کی: 'سائنس دان جس کووڈ 19 کی ویکسین پر کام کر رہے ہیں وہ طاہر شاہ ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'نئے گانے میں کچھ بھی نیا نہیں، طرز بھی پرانی ہے اور کارٹون ویڈیو بھی کچھ اچھی نہیں تھی اور طاہر شاہ بھی اس ویڈیو میں موجود نہیں۔'

یاد رہے کہ اس سے قبل اپنے دونوں گانوں کی ویڈیو میں مرکزی کردار طاہر شاہ نے خود ادا کیے تھے جس کے بعد انہیں شدید مذاق کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

چند سال قبل پاکستانی میڈیا کو دیے جانے والے انٹرویوز میں طاہر شاہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی موسیقی کا مقصد صرف لوگوں میں خوشیاں بانٹنا ہے اور وہ اپنے گانوں کے ذریعے لوگوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔

بظاہر ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ طاہر شاہ نے کرونا وائرس کے اس دور میں اپنا 'فرشتہ' بھی اسی لیے ریلیز کیا تاکہ لوگوں کا دھیان بٹ سکے، لیکن ٹوئٹر صارفین کا دھیان اور کہیں جائے یا نہ جائے غلطیوں کی جانب ضرور جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک صارف نے گانے کی ویڈیو میں موجود سفید گھوڑے کے بظاہر ٹوٹے ہوئے کندھے کے جوڑ کی جانب اشارہ کیا۔

ایک اور صارف نے لکھا: 'باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ گلابی مشروم کیوں؟'

کچھ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا 'فرشتہ' طاہر شاہ کے دوسرے گانے 'اینجل' کا اردو ترجمہ ہے؟

مکمل گانا یہاں انجوائے کریں:

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ