قرنطینہ میں اکٹھے رہنے والے جوڑے علیحدگی اور لڑائی سے کیسے بچیں

قرنطینہ میں پرامن زندگی گزارنے کے خواہش مندوں کے لیے ماہرین نفسیات و ازدواجیات کے چند مشورے۔

(پکسابے)

23 مارچ کو برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی پابندی لگی، غیرضروی سفر روک دیا گیا اور لوگوں سے کہا گیا کہ اگر وہ چند مخصوص شرائط پر پورا نہیں اترتے تو گھر میں رہیں۔

ان شرائط میں خوراک یا ادویات کی خریداری، لازمی کارکن کی حیثیت سے کام پر جانے کے لیے سفر اور ایک بار گھر سے نکل کر ورزش کرنا شامل ہے۔

اب ہم سے بہت سے لوگ مکمل طور پر گھر سے کام کر رہے ہیں یا بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں کیونکہ سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ ان حالات کے ہمارے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

چاہے وہ گھر سے کام کرنے والا کوئی جوڑا ہو، بچوں والا ایک پورا خاندان ہو جسے تفریح کی ضرورت ہے یا ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ہوں جنہیں مل کر رہنا مشکل لگتا ہو، کسی کو بھی اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ لاک ڈاؤن کی پابندی مزید کتنی دیر تک رہے گی۔

لیکن طلاق کے معاملات نمٹانے والے وکلا آئیسولیشن کی وجہ سے اس سال آگے چل کر راستے جدا ہونے کے واقعات میں اضافے کی پیش گوئی کر چکے ہیں۔

تعلقات کے شعبے کے فلاحی ادارے'ریلیٹ'کے سربراہ ایڈن جونز کہتے ہیں: 'موجودہ حالات جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ان میں نکالنے کے لیے تعلقات کا کردار بہت اہم  ہوگا لیکن اپنے طور پر اختیار کی گئی آئیسولیشن، سماجی دوری اورمالی وسائل جیسے مسائل کے بارے میں پریشانی تعلقات پر دباؤ میں اضافہ کر دے گی۔'

تو ان حالات میں کیسے یقینی بنائیں کہ کشیدگی پیدا نہ ہو اور اگر ہو جائے تو جلدی سے ختم کیسے ہو سکتی ہے؟

٭اپنے پارٹنر کے ساتھ رویوں میں  تبدیلی٭

دوسرا کیا محسوس کر رہا ہے اس بارے میں مفروضے قائم نہ کریں

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کی پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ اس سے پہلے آپ بہت سی آزمائشوں سے نمٹنے ہوں گے لیکن ممکن ہے کہ موجودہ حالات آپ کے لیے نیا تجربہ ثابت ہوں۔ تعلقات زوجین کی ماہر ایفاڈروری کہتی ہیں کہ مسئلے کا حل یہ ہے کہ یہ فرض نہ کیا جائے کہ کوئی دوسرا فرد ان حالات میں وہی محسوس کرے گا جیسا آپ کرتے ہیں۔ 'ہم اکثر محسوس کرتے ہیں کہ دوسروں کے جذبات اور خیالات بھی وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔'

'مفروضے ناراضی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ وہ جھوٹی توقعات کو جنم دیتے ہیں۔ مفروضے کی بجائے بات چیت کریں اور ذہن پڑھنے سے گریز کریں۔ ہم میں سے کوئی بھی اس وقت موجود حالات سے نہیں گزرا تو بس ان میں یہی بہتر ہے۔'

رابطے قائم رکھیں

اتنا کچھ  ہو رہا ہے اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس صورت حال میں کھل کر بات چیت مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ خوف زدہ یا پریشان ہوں تو۔ لیکن ڈروری کہتی ہیں کہ تمام وقت اپنے تعلق کو مضبوط رکھنا اہمیت کا حامل ہے۔ 'زیادہ بےچینی طاقتور منفی ردعمل، غصے یا مایوسی کو جنم دے سکتی ہے۔ جب ان جذبات کا سامنا ہو تو کوشش کریں اور اپنے جواب کے بارے میں محتاط رہیں۔

'اگر آپ اپنی بےچینی اور اس کے ردعمل کے مسئلے سے دوچار ہیں تو ایسی صورت میں بہترین عمل دوسروں سے رابطہ کرنا ہے۔ اپنے پیاروں کو یہ بتائیں کہ آپ مشکل صورت میں مبتلا ہیں اور آپ ایسے ردعمل کا اظہار کر سکتے ہیں جو آپ کے مزاج کا حصہ نہیں ہے۔ یہ آپ کے شدت والے ردعمل کا جواز تو نہیں ہو گا لیکن سامنے والوں کو آپ کی حالت جاننے میں مدد ضرور دے گا۔

جب آپ دباؤ کا شکار ہوں تو الزام اور جوابی الزام کے کھیل میں پڑ جانا آسان ہو جاتا ہے اور اس سے کسی کی مدد نہیں ہوتی۔

تعلقات کے شعبے میں نفسیاتی معالج کیٹ مویل نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: 'رابطہ اہم بات ہے۔ کوشش کریں اورایک دوسرے کے ساتھ اتنا واضح ہوں جتنے ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ مایوسی یا دباؤ کا شکار ہیں تویہ بتانے کے لیے آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں'میں'کے لفظ سے شروع  ہونے والےبیانات کا سہارا لیں۔ 'میں محسوس کر رہا ہوں'کہنا'آپ یہ، میں وہ'یا'آپ مجھے محسوس کروا رہے ہیں۔'کے بیانات سے مختلف ہے۔ جب ہم دباؤ کا شکار ہوتے ہیں بلیم گیم میں پڑ جانا آسان ہوتا ہے لیکن اس سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا۔

تسلیم کریں گے کہ حالات صبر آزما ہوں گے

فلاحی ادارے'ریلیٹ'سے تعلق رکھنے والے ایڈن جونز کہتے ہیں کہ اب اپنے آپ کو کچھ وقت  دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ہر کسی کے لیے غیرمعمولی وقت ہے۔'اس کو دنیا میں موجود بہترین قوت ارادی کے ساتھ سمجھیں۔ ان حالات میں جھگڑے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اہمیت اس بات کی ہے آپ ان کے ساتھ کس طرح نمٹتے ہیں۔ اگر آپ بحث اور توتکار میں پڑنے کے عادی ہیں تو تسلیم کریں کہ آپ یہ عادت اس سوچ کو منتقل کر سکتے ہیں جو آپ کی وائرس کے بارے میں ہے۔

'ہو سکتا ہے کہ آپ  صورت حال کے بارے میں اس قدر جاننا ہوں جتنا ممکن ہو جب کہ  ہو سکتا ہے کہ آپ کا پارٹنر ہر دن ویسا ہی لے جیسا وہ ہے۔ یاد رکھیں کہ تناؤ والے حالات سے نمٹنے کے مختلف طریقے ہیں اورجو طریقہ آپ نے اختیار کیا ہے صرف وہی نہیں ہے۔'

بڑے مسائل کو التوا میں رکھیں

جونز کہتے ہیں کہ اگرچہ موجودہ کشیدہ صورت حال میں کچھ کشیدگی کی توقع کی رکھنا معمول کی بات ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اس موقعے کو تعلقات کے جاری تمام مسائل سامنے لانے کے استعمال نہ کریں۔ کچھ باتوں کو آئندہ کے لیے رکھنے کی ضرورت ہے۔ 'موجودہ صورت حال سے نمٹتے وقت بڑی اور مشکل بحث کو التوا میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ خاص طور پر درست عمل ہے جب  آپ میں سے ایک بیمار ہے یا اس کے خیال میں اس کے جسم بیماری کی علامات موجود ہیں۔'

'ہو سکتا ہے کہ آپ کے والدین بوڑھے ہوں یا دوسرے رشتہ داروں کے صحت کے مسائل ہوں اور آپ ان لوگوں کے بارے میں خاص طور پر پریشانی کا شکار ہوں۔ اگراس وقت آپ کے پارٹنر کو ان لوگوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے تو آپ کو یہ بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنی لڑائیوں کا انتخاب کریں اور ان کا جائزہ لیں کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ اس وقت ان پر بات کی جائے۔'

یقینی بنائیں کہ آپ تمام وقت کام ہی نہیں کرتے رہتے

اگر آپ اور آپ کا پارٹنر گھر سے کام اور باہمی تعلق کے درمیان توازن رکھنے میں مشکل کا شکار ہیں تو پھراب سے آئندہ کے لیے زیادہ واضح 'گھر کی زندگی' اور'کام کی زندگی'کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔

مویل کہتی ہیں کہ شروع میں دونوں کو الگ الگ کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور اس کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

'اگر آپ گھر سے کام کر رہے ہیں اس صورت میں بھی گھر اور زندگی کو منظم کرنا ہو گا۔ اس کے لیے وقت مقرر کریں۔ ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ گھر کوئی کباڑ خانہ ہے جسے صاف کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ کام'کام کے اوقات'کے بعد کرنے کا ٹھوس فیصلہ کریں۔ ہم سے بہت سے لوگوں کو گھر سے کام کرنے میں مشکل کا سامنا ہو گا کیونکہ اس سے ہمارے کرنےکی صلاحیت مختلف انداز میں محدود ہو جاتی ہے اس لیے گھر کے اضافی دباؤ کو کام کے دباؤ میں شامل کرنے کی کوشش نہ کریں۔

جوڑں کو مشورے دینے والے مَرے بلیکٹ کہتے ہیں: 'اگر آپ گھر سے کام کر رہے ہیں تو ایک معمول بنانے کی کوشش کریں۔ تمام دن پاجامہ پہن کر کام  نہ کریں۔ کام میں وقفے یقینی بنائیں۔ چائے، کافی اور کھانے کا وقفہ۔ اگر آپ کے پاس باغٖ ہے تو تازہ ہوا کے لیے وقفہ کریں۔ سارا وقت کام نہ کریں۔'

مویل بھی  اکٹھے ہو کرمشترکہ مشاغل اور سرگرمیوں کی سفارش کرتی ہیں تا کہ آپ کے پاس کچھ ایسا ہو جو آپ شیئر کر سکیں۔ یہ صرف گھر کام کاج ہی نہیں بلکہ نیٹ فلکس کی نئی سیریز بھی ہو سکتی ہے۔

پورے خاندان کے لیے ایک معمول بنائیں

جب آپ کا تمام دن چار دیواروں کے اندر گزر رہا ہوتو اس صورت میں کوئی معمول بنانے مشکل ہو سکتا ہے  لیکن طویل مدت کی کامیابی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ ڈروری کہتی ہیں:'دماغ کو ترتیب پسند ہے اور وہ بے ترتیبی سے نفرت کرتا ہے اس لیے کچھ معمولات اپنائیں تا کہ وہ اُسے سکون ملے۔ مویل متفق ہیں: 'اپنا لیے معمول بنائیں۔ بچے خاص طور پر ایک معمول میں رہتے ہوئے ترقی کرتے ہیں لیکن یہ بالغ افراد کے لیے بھی مددگار ہیں۔ اگر آپ میں سے ایک سے زیادہ افراد گھر کام کر رہے تو صورت حال خاص طور پر مشکل ہو جائے گی اس لیے اکٹھے اور الگ ہونے کا وقت طے کرنے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور صبح گیارہ بجے آپ سب اکٹھے بیٹھتے اور کافی پیتے ہیں۔'

خاندان کے اہداف اور توقعات کا تعین کریں

جوڑوں (couples) کے مسائل کا علاج کرنے والی ڈاکٹر کلانیت بن آری کہتی ہیں اب ہم جانتے ہیں کہ ہو سکتا ہے  کہ ہمیں طویل عرصے تک گھر میں رہنا اور اپنے خاندان خاص طور پر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر طے کرنے پڑے کہ ایسا کس طرح ہو گا۔

مثال کے طورپر بچوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ اس دوران اپنا ہوم ورک کریں گے یا کپڑےاور برتن دھونے میں مدد دیں گے۔ وہ کہتی ہیں: 'اگر آپ اور اپ کا پارٹنر اب گھر سے کام کر رہے ہیں تو آپ کو خیال رکھنا ہو گا کہ یہ آپ کے درمیان موجود خاموش معاہدے میں  تبدیلی آئی ہے۔ توقعات کے بارے میں بات کریں۔ اور اگر آپ بعض ذمہ داریوں کوتبدیل کرنا چاہتے ہوں تو اس بارے میں بات کریں۔'

بن آری کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ وقت خاندان کی سطح پر کوئی منصوبہ بنانے کا اچھا موقع ہے۔ 'یہ سب کو مصروف کرنےکا بہترین طریقہ ہے اور وہ کام کریں جو آپ برسوں سے کرنا چاہتے تھے لیکن یہ نہیں سوچا ان لیے آپ کے پاس وقت ہے۔ اپنے خاندان کی پرانی تصاویر کو البموں میں جمع سجائیں۔ یہ گزرے وقت کو یاد کرنے ، جوڑنے اور وقت بتانے کا بہترین طریقہ ہے۔

گھر کے حصوں کو مخصوص کریں

ماہر نفسیات لُوسی بیرسفورڈ کہتی ہیں کہ چاہے ایک بیڈروم کے فلیٹ میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں آپ کو اس کے مختلف حصوں کو'کام' ، 'آرام' ، 'تنہائی' اور'میل جول'کے مقامات میں تقسیم کرنا چاہیے۔

'اگر آپ اکیلے نہیں رہتے تو تیزی سے بیٹھیں اوران مقامات کے بارے میں قواعدوضوابط بنائیں تا کہ آپ کے پارٹنر یا فلیٹ میں ساتھ رہنے والے یا بچے کو معلوم ہو کہ کون سا کام کس جگہ ہو رہا ہے۔ آپ رفع حاجت کے لیے کچن میں نہیں جائیں گے۔ اس طرح سب کو جاننے کی ضرورت ہے کہ'وہ صوفہ آرام کے لیے ہے کام کے  لیے نہیں۔

'مویل  مختلف جگہوں پر سرگرمی کے مقام بنانے کا مشورہ دیتی ہیں۔ 'اس سے کو یہ محسوس کرنے میں مدد ملے گی کہ آپ کاموں کو مختلف اندازمیں انجام دے رہے ہیں۔ کتاب یا مطالعے کے لیے جگہ مختص کریں۔ ایک آرٹ کارنربنائیں اور کھیلوں کی جگہ طے کریں۔ بلیکِٹ کہتے ہیں کہ مقامات مخصوص کرتے وقت یہ ایک اچھا خیال ہو گا کہ'ٹائم زون'بنا دیا جائے۔ ضروری نہیں کہ یہ صرف بچوں کے لیے ہو۔'وہ کہتےہیں: 'جب ہم ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کے لیے رہنے کا موقع اہم ہوتا ہے۔ وقفہ کر کے ٹائم زون میں جائیں اور کچھ ایسا کام کریں جو آپ اپنے لیے کرنا چاہتے ہوں۔ چاہے یہ ڈائری لکھنے کا عمل ہو یا تیزی سے گزرتا ہوا کوئی ٹیلی ویژن شو ہو۔

کرونا (کورونا) وائرس سے متعلق بچوں کے سوالات کے جواب سے گریز مت کریں

شائد بہت سے والدین کو محسوس ہوتا ہو کہ وہ کرونا (کورونا) وائرس کے بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔ خاص طور پر جب آپ اسی کی وجہ سے ابتدا میں ہی گھر میں محصور ہوں۔ لیکن اگر بچوں کے سوالات جائز ہوں اور آپ ان کا جواب دینے سے انکار کر دیں گے تو اس سے تناؤ بڑھے گا۔

ڈروری کہتی ہیں: 'بچے سمجھدار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس بہت سے سوال ہوں گے۔ سوالات پوچھنے پر انہیں خاموش کروا دینے سے صرف الجھن، پریشانی اور بے چینی بڑھے گی۔ جو کچھ ہو رہا ہے بچوں کے ساتھ حقیقت کو سامنے رکھ کر بات کرنے سے ان مسائل کی شدت کم ہو گی۔ بچوں کے رویے سے اپنے لیے رہنمائی لیں اورتیاری کریں لیکن سوالوں کا فوری طور پر جواب نہ دیں۔

ایک دوسرے سے مہربانی کے ساتھ پیش آئیں

قطع نظر اس کے کہ خود ساختہ آئیسولیشن کے دوران آپ اپنا گھر کس کے ساتھ  شیئر کر رہے ہیں، ہر تعلق کو مہربانی کے ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بریسفورڈ کہتے ہیں: 'اس بات کو سمجھیں کہ ہر کوئی کچھ دباؤ محسوس کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ  بچے جو سکول کی چھٹی سے خوش ہوتے ہیں انہیں احساس ہو جائے گا کہ اس تمام صورت حال کا پس منظر منفی ہے۔ شکریہ ادا کرنے کی مشق کریں اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کا روزنہ شکریہ ادا کریں۔

'جس صورت حال سے آپ نمٹ رہے ہیں اس کے پیش نظر ہر روز اپنی پیٹھ تھپتھپائیں اور ان لوگوں کے ساتھ بھی ایسی ہی فراخ دلی کا مظاہرہ کریں جن کے ساتھ آپ رہ رہے ہیں۔ اگر آپ کو ایسا لگے کہ آپ کسی پر چیخنے والے ہیں یا اپنے آپ کو کم تر سمجھنے لگیں تو'پانچ سیکنڈ کے سانس'کی ترکیب سے کام لیں۔ پانچ سیکنڈ تک سانس اندر کھینچیں، اسے پانچ سیکنڈ کے لیے روکے رکھیں اور پانچ سیکنڈ میں باہر نکالیں۔'

 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی گھر