لاک ڈاؤن میں نرمی: کہیں رقص تو کہیں سرکس

چین کے شہر ووہان میں زندگی معمول پر آ رہی ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بڑی عمر کے جوڑے شام کو باہر نکل کر رقص کرتے ہیں۔

چین کے شہر ووہان میں زندگی معمول پر آ رہی ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بڑی عمر کے جوڑے شام کو باہر نکل کر رقص کرتے ہیں۔

تاہم کئی لوگ ابھی بھی ایسے خبروں سے خوف زدہ ہیں کہ ابھی بھی کرونا وائرس سے متاثر لوگ ان کے ارد گرد موجود ہیں۔

ووہان میں لاک ڈاؤن جنوری میں لگا تھا اور حال ہی میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے۔

دوسری جانب چند یورپی ممالک نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی ہے۔

ڈنمارک کے سرکس آرٹسٹ گلیوں میں نکل رہے ہیں کیونکہ دس سے کم لوگوں کو ایک ساتھ جمع ہونے کی اجازت ملی ہے اور پرائمری تک کے سکول کھولے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم نائٹ کلب، ریسٹورانٹ، مساج سینٹر حجام اور شاپنگ سینٹر فی الحال بند ہیں۔

اسی طرح سے آسٹریا میں حکومت نے چار سو مربع فٹ کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی ہے تاکہ لوگ شاپنگ کے لیے آئیں تو فاصلہ رکھ سکیں۔

ادھر سپین  میں لاک ڈاؤن میں نرمی یقینی بنانے کے لیے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرونا کے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کا انتظام کر رہی ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کے پہلے مرحلے میں حکومت کی کوشش ہے کہ 62 ہزار افراد کے تین، تین ہفتے کے فاصلے سے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

جبکہ ایران جو کہ چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ایشیائی ملک ہے میں سرکاری دفاتر کھول دیے گئے ہیں۔

سرکاری دفاتر کھلنے سے دارالحکومت تہران کی سڑکوں پر ایک مرتبہ پھر سے رش دیکھا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا