نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے دکھا دیا کہ کرونا بحران سے کیسے نمٹنا چاہیے

پچاس لاکھ آبادی پر مشتمل نیوزی لینڈ وہ ملک ہے جہاں کرونا وائرس کے 1239 کیس ہیں اور صرف نو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے ایک دن پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے (اے ایف پی)

نیوزی لینڈ میں کرونا (کوورنا) وائرس سے ایک بھی ہلاکت ہونے سے پہلے ہی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی گئی وہ دنیا میں سب سے زیادہ سخت تھی۔

ملک میں چوتھے درجے کا لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے ملکی سرحدیں، سکول اور کاروبار بند کر دیے گئے اور لاکھوں لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا۔

اُس وقت بعض حلقوں نے ان اقدامات کے بہت زیادہ سخت ہونے پر سوال اٹھایا تھا لیکن وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں ملک میں عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی تفصیلات کے بارے میں مختصر طور پر بتایا۔ یہ وہ اشارہ تھا جس کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا کرونا وبا کے ملک سے مکمل خاتمے کا منصوبہ درست انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

نیوزی لینڈ، جس کی آبادی 50 لاکھ ہے، وہ ملک ہے جہاں کرونا وائرس کے 1239 کیس ہیں اور صرف نو ہلاکتیں ہوئی ہے۔

جیسنڈا آرڈرن کی حکمت عملی کو تیز اور شفاف قرار دے کر اس کی اسی طرح تعریف کی گئی، جس طرح مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ میں ہونے والے قتل عام کے معاملے سے نمٹنے کے ان کے انداز کو سراہا گیا تھا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہو گئی ہیں لیکن ایسا کس طرح ہوا کہ وہ کامیاب رہیں جب دنیا کے بہت سے رہنماؤں نے اس معاملے میں غلطی کر دی؟

وائرس کے خاتمے کی حکمت عملی

نیوزی لینڈ کی کامیابی کا راز 'خاتمے' کی نام نہاد حکمت عملی ہے۔ بہت سے ملکوں کی کوشش تھی اور اب بھی ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری تک سماجی دوری کے ذریعے قابو پایا جائے۔

تاہم مارچ میں وزیراعظم آرڈرن نے ایک واضح منصوبے کی تفصیلات بتائیں جس کا مقصد نیوزی لینڈ کی سرحدوں کے اندر کرونا کو مکمل ختم کرنا تھا۔

ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا۔ مرکزی اور مقامی حکومت، ہنگامی سروسز اور دفاعی فورس کو خود بخود اختیارات منتقل ہو گئے تاکہ وہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو روک سکیں جو شہریوں میں وائرس کی منتقلی کا سبب بنے۔

نیوزی لینڈ نے 19 مارچ سے غیرملکیوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں حالانکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو سیاحت پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ سالانہ 40 لاکھ بین الاقوامی سیاح یہاں آتے ہیں۔

جیسنڈا آرڈرن نے 21 مارچ کو مکمل لاک ڈاؤن کے اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا: 'ہم سختی کریں گے اور جلدی کریں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دوران برطانوی وزیراعظم بورس جانس ملک میں اسی قسم کے اقدامات کی مزاحمت کر رہے تھے۔

دو دن بعد دوسرے سے تیسرے درجے پر آتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ملک کو مزید دو دن دیے کہ چوتھے درجے کے لاک ڈاؤن کی تیاری کر لی جائے۔

انہوں نے کہا: 'اس وقت ہمارے ملک میں 102 کیس ہیں جو ایک وقت اٹلی میں بھی تھے۔'

سپر مارکیٹیں اور ادویات کی دکانیں واحد کاروبار تھا جسے کھلا رکھا جانا تھا۔ وزیراعظم نے کہا: 'گھر پر رہیں، زندگیاں بچائیں۔' جن لوگوں نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی انہیں ہیلتھ ایکٹ آرڈر کے تحت چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔

محض 10 دن میں کرونا وائرس کے کیسوں میں کمی آنا شروع ہو گئی حالانکہ ٹیسٹوں میں بڑے پیمانے میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔

اس کے باوجود جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی سے پہلے نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن کے چار ہفتے مکمل کیے جائیں گے جو وائرس کے 14 روز تک زندہ رہنے کے دو مکمل ادوار بنتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی آک لینڈ یونیورسٹی کے سائنسی گروپ کے سربراہ شون ہینڈی حکومت کو مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اگر وزیراعظم تیزی سے نہ سوچتیں تو بلاشبہ ملک کو انہی حالات کا سامنا ہوتا جن کا اس وقت برطانیہ، اٹلی اور سپین کو ہے۔

ہینڈی وضاحت کرتے ہیں: 'اگرچہ ابتدا میں وبا کے مقابلے کے لیے دوسرے بہت سے ملکوں کے نسبت نیوزی لینڈ کی تیاری کم تھی لیکن آرڈرن مشیروں کی صحیح ٹیم کو اکٹھا کرنے اور ان کے مشوروں پر اعتماد اور تیزی سے عمل کر رہی تھیں۔'

امداد تک آسانی سے رسائی

نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن سے پہلے کاروبار، معمر شہریوں اور کم آمدن والے خاندانوں کی مراعات میں اضافے، خود ساختہ آئسولیشن کی وجہ سے کام کرنے سے محروم افراد اور وائرس کے ٹیسٹ اور انتہائی نگہداشت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 12.1 ارب نیوزی لینڈ ڈالرز کے کرونا وائرس پیکج کا اعلان کیا گیا۔

ابتدا میں یہ امدادی پیکج ہمسایہ ملک آسٹریلیا کے اعلان کردہ پیکج سے کم تھا جو اُس وقت سے اب تک 320 ارب آسٹریلوی ڈالرز ہو چکا ہے۔ اور امریکہ میں'اہل امریکیوں' کی اکثریت دو کھرب امریکی ڈالرز کے اُس پیکج میں سے اپنے حصے کا انتظار کر رہی ہے جس کی منظوری سینیٹ نے گذشتہ ماہ مارچ میں دی تھی۔

تاہم نیوزی لینڈ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے ایک ہفتے سے کم میں 5.3 ارب نیوزی لینڈ ڈالرز کا پیکج جاری کر دیا گیا۔

کاروباری لوگ 12 ہفتے کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سبسڈی کے اہل تھے (کل وقتی عملے کے لیے 585.80 ڈالرز فی ہفتہ اور جزوقتی عملے کے لیے 350 ڈالرز فی ہفتہ)۔  تاہم اس لیے کرونا وائرس کی وجہ سے آمدن میں 30 فیصد کمی ظاہر کرنے کی شرط عائد کی گئی تھی۔

نیوزی لینڈ کے بہت سے شہریوں نے کہا کہ انہیں ایک صفحے کے سادہ درخواست فارم پر آن لائن درخواست دینے کے بعد دو دن میں بینکوں کے ذریعے یکمشت ادائیگی کر دی گئی۔

وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا: 'متاثرہونے والا ہر فرد اس منصوبے کے لیے اہل ہے۔'

جیسنڈا آرڈرن نے قوم پر یہ زور بھی دیا کہ وہ ریٹائرمنٹ پیکج سے فنڈ کے اجرا سے گریز کریں۔ انہوں نے مزید کہا: 'اس راستے پر جانے سے پہلے آپ کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ آپ تمام اُس امداد تک رسائی حاصل کریں جو حکومت پہلے ہی فراہم کر چکی ہے۔'

ذہنی صحت کے منصوبے

آرڈرن کی قوم کی ذہنی صحت پر گہری نظر ہے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت کرونا وائرس کے امدادی پیکج کے تحت 50 کروڑ نیوزی لینڈ ڈالرز ذہنی صحت کی تین نئی ایپلی کیشنز کے لیے فنڈ کی فراہمی کی خاطر استعمال کر رہی ہے۔ یہ ایپلی کیشنز اپریل کے وسط میں متعارف کروائی گئی تھیں۔

پہلی ایپ مینٹیمیا نام کی تھی جسے نیوزی لینڈ کی قومی رگبی یونین ٹیم 'آل بلیکس' کے لیجنڈ اور ذہنی صحت کے مشیر سر جان کِرون اور ذہنی صحت کے ماہرین نے تیار کیا تھا۔ یہ ایپ صارفین کو مشورے اور طریقے بتاتی ہے جن کی مدد سے وہ اپنی ذہنی صحت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

میلن نامی دوسری ایپ 13 سے 24 سالہ صارفین کو صحت کی خبروں، وسائل اورخود آگاہی کے طریقوں کے بارے میں بتاتی ہے۔

اور آخر میں 'سٹئینگ آن ٹریک' نامی ایپ ایک ای تھراپی کا ذریعہ ہے جو ذہنی دباؤ اور روز مرہ کی زندگی میں رکاوٹ کے مسائل سے نمٹنے کا عملی حل بتاتی ہے۔

جیسنڈا آرڈرن نے قوم پر یہ زور بھی دیا کہ حال ہی میں ماں بننے والی خواتین پرتوجہ دی جائے کیوںکہ وہ موجودہ صورت حال میں ذہنی صحت کے معاملے میں بڑے خطرے سے دوچارہو چکی ہیں۔

جیسنڈا نے کہا: 'میں جانتی ہوں کہ بہت سی نئی مائیں بچے کی پیدائش کے بعد بلاشبہ طویل عرصے تک گھر میں رہیں گی لیکن لوگوں کو چاہیے کہ ان سے ملتے رہیں، ان کے زیادہ رابطے ہوں اور ان کی زیادہ مدد کی جائے۔

'میں بڑے دائرے میں موجود لوگوں سے کہتی ہوں کہ وہ رابطے میں رہیں۔ ایک دوسرے تک پہنچیں اور ایسے خاندانوں کی خبر گیری کریں اور دیکھیں کہ ان کا کیا حال ہے۔'

حقیقی معنوں میں اظہار یکجہتی

آرڈرن نے 15 اپریل کو اعلان کیا کہ وبا سے متاثر ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وہ اور دوسرے وزرا چھ ماہ تک 20 فیصد کم تنخواہ لیں گے۔

وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں وضاحت کی: 'پورے نیوزی لینڈ میں مختلف عہدوں پر فائز لوگوں کے گروپوں کے درمیان فاصلہ ختم کرنے کا کوئی وقت آیا ہے تو وہ موجودہ حالات ہیں۔'

کمی کے بعد جیسنڈا کی تنخواہ 47 ہزار نیوزی لینڈ ڈالرز رہ جائے گی۔ ہر وزیر کی تنخواہ تقریباً 27 ہزار جب کہ نائب وزیر اعظم ونسٹن پیٹرس کی تنخواہ تقریباً ساڑھے 33 ہزار نیوزی لینڈ ڈالرز ہو گی۔

آسٹریلیا میں وزیراعظم سکاٹ موریسن نے یہ کہنے میں جلدی کا مظاہرہ کیا کہ وہ نیوزی لینڈ کی پیروی نہیں کریں گے اور تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ آسٹریلوی ڈالرز سالانہ کی پوری تنخواہ لیتے رہیں گے۔ اسی روز ایک ریڈیو انٹرویو میں انہوں نے کہا: 'یہ کوئی ایسی بات نہیں جو زیر غور ہو۔'

مسلسل شفافیت اور مزاح

نیوزی لینڈ میں چار ہفتے کے لاک ڈاؤن کے دوران، جس کی پابندیوں میں آنے والے ہفتوں میں کمی آئے گی، آرڈرن نے صورت حال کے بارے میں تازہ اطلاعات فراہم کیں۔ اس مقصد کے لیے چاہے انہوں نے پریس کانفرنس کو ذریعہ بنایا ہو یا ڈھیلی ڈھالی ٹی شرٹ کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر آئی ہوں۔

بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ شہریوں کو صورت حال سے مسلسل آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت سادہ زبان استعمال کرتی ہیں۔ قوم کو گھر پر رہنا چاہیے۔ اپنے گھر کے'بلبلے' سے باہر کسی سے رابطہ نہ رکھیں اور مہربانی سے پیش آئیں۔ اس زبان کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے ملک کی 'تخلیقی، عملی اور ملک سے محبت' پر مبنی تہذیب پر زور دیا: 'مضبوط بنیں، شفقت سے پیش آئیں اور کرونا وائرس کے خلاف متحد ہو جائیں۔'

لیکن وبا کی وجہ سے بڑھتی ہوئی بے چینی کے ساتھ ساتھ انہیں یقین بھی تھا کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں کچھ مزاح اور ہلکا پھلکا آرام لانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ وہ نوجوان شہریوں کو یقین دلائیں گی کہ 'ایسٹر بنی' اور 'ٹوتھ فیری' 'لازمی کارکنوں' میں شامل ہیں جو ان کے گھر آئیں گے۔

جب ایک صحافی نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ خوف زدہ ہیں تو ان کا جواب دوٹوک تھا: 'نہیں، کیونکہ ہمارے پاس منصوبہ موجود ہے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین