'چودہ دن مزید'  کرونا وائرس پر پہلا پاکستانی ناول 

 یہ حمزہ حسن شیخ کا ناول ہے جس کے کردار خود بولتے ہیں اور انسان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ اُسے پڑھا اور محسوس کیا جائے۔

اس ناول میں انسانی لالچ، خود غرضی اور لاپروائی کے موضوع کو بنیاد بنایا گیا ہے کہ کس طرح جدید دور میں آزاد ہونے کے باوجود تمام انسان کیسے قیدیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ (تصویر: حمزہ حسن شیخ   فیس بک)

کچھ لوگ لگتے نہیں ہیں مگر وہ اتنے کری ایٹیو ہوتے ہیں کہ تخلیق کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور تخلیق بھی ایسی کہ بندہ انگشت بدنداں ہوجاتا ہے ۔

ایسے ہی تخلیقی ذہن کے مالک ہمارے ایک دوست حمزہ حسن شیخ ہیں، جن کو ہم بچوں کا لکھاری سمجھتے تھے کیونکہ ہم دونوں نے ساتھ میں ہی چھوٹی عمر میں بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمارے ہم عمر کھیلوں میں مصروف ہوا کرتے تھے مگر ہم نے ایک نیا روگ پالا تھا، بچوں کے صفحات میں لکھنا اور اپنا نام اخبارات میں دیکھنا۔

یوں یہ سفر جاری رہا۔ ہم دونوں کی ملاقات بھی ابھی تک نہیں ہوئی حمزہ نے ایجوکیشن کا شعبہ چنا، ہم نے صحافت کی، پھر ہم بھی ٹیچنگ میں آگئے ۔ حمزہ نے میری طرح لکھنا نہیں چھوڑا اور لکھتے گئے۔ اتنا لکھا کہ مجھے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مجھے حمزہ پر رشک آرہا ہے کہ حمزہ حسن شیخ نے اپنی ساری بچوں کی کہانیاں، افسانے اور انگلش شاعری کی کتابیں شائع کی ہیں جبکہ اس معاملے میں ہم سست واقع ہوئے ہیں بلکہ زیادہ تر ریکارڈ گما بیٹھے ہیں۔

تو اب جب دنیا کو وبا نے گھیرا تو ملائیشیا میں موجود حمزہ حسن شیخ نے قرنطینہ کے دنوں میں کرونا کے حوالے سے ناول لکھنا شروع کیا۔ ناول لکھنا کوئی آسان کام نہیں مگر داد دیتا ہوں حمزہ حسن کو کہ اس وبا کے دنوں میں اس نے یہ مشکل ٹاسک شروع کیا اور ناول مکمل بھی کردیا ۔

ایک ایسے وقت میں جب اس وبا نے پوری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک سب کو ایک صفحے پر لاکھڑا کردیا۔ حمزہ حسن شیخ نے پوری دنیا کے تناظر میں وبا کی پوری تصویر کو ایک پلاٹ میں واضح کرتے ہوئے زندگی کے کردار مختلف پہلوؤں سے دکھائے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناول میں حمزہ حسن شیخ کا سارا زور پلاٹ پر ہے۔ انہوں نے کردار بھی پلاٹ کو مدنظر رکھ کر تخلیق کیے۔ یعنی یہ ناول اس زمانے کی زندگی اور معاشرے کی سچی تصویر ہے، اس کو ہم ناول کی بجائے اگر ناولٹ کہہ لیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کیونکہ ناولٹ بھی ناول کی طرح کا ہی ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں‌ کہ ناولٹ اور ناول میں‌ صرف اتنا فرق ہے کہ ناول پوری زندگی پر تفصیل سے لکھا جاتا ہے جب کہ ناولٹ ناول کے مقابلے میں بہت مختصر ہوتا ہے۔

وبا کے دنوں میں جب پوری دنیا لاک ڈاؤن کا شکار تھی، حمزہ حسن شیخ نے دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں رہنے والے کرداروں کو آپس میں ایک دوسرے سے رابطے میں رکھا۔ اس ناول کے چار بڑے کردار حیدر، علینور، فیروزہ اور میرس ہیں جو انڈونیشیا، قازقستان، سپین اور ووہان میں مقیم ہیں جبکہ کچھ اور چھوٹے کردار بھارت، ایران، جرمنی، فرانس، اٹلی میں بھی نمودار ہوتے ہیں۔

'Fourteen days more' یعنی '14 دن مزید' کے نام سے اس ناول میں انسانی لالچ، خود غرضی اور لاپروائی کے موضوع کو بنیاد بنایا گیا ہے کہ کس طرح جدید دور میں آزاد ہونے کے باوجود تمام انسان کیسے قیدیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔

'14 مزید دن' کی کہانی یہی ہے کہ انڈونیشیا میں مقیم حیدر اپنی دوست فیروزہ کو ملنے کے لیے قازقستان جانے کے لیے تیار ہوتا ہے کہ اس کی فلائٹ کینسل ہو جاتی اور کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر انڈونیشیا کو ایک ماہ کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ وہ فیروزہ کو ساری حقیقت سے آگاہ کرتا ہے تو وہ اس کے نہ آنے پر اداس ہو جاتی ہے۔ فیروزہ کا ایک بھائی علینور چین کے شہر ووہان میں زیر تعلیم ہے جبکہ دوسرا بھائی میرس سپین میں قالینوں کا کاروبار کرتا ہے۔ وہ دونوں بھائیوں کے ساتھ رابطے میں ہوتی ہے اور حیدر کو سب آگاہ کرتی رہتی ہے۔

حیدر کا سارا دن اکیلے فلیٹ میں گزرتا ہے جہاں انسانی آواز تک سنائی نہیں دیتی یہاں تک کہ کسی پرندے کی آواز بھی نہیں۔ اس تنہائی میں صرف فیروزہ کا ساتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ حیدر بھی اپنے گھر اور دوستوں کے بارے فکر مند ہوتا ہے۔ پاکستان میں پھیلتی وبا کی خبریں اس تک بھی پہنچتی ہیں تو وہ بلبلا اٹھتا ہے، کہیں پر لوگوں کی بے پروائی تو کہیں پر صحت اور ڈاکٹروں کے مسائل۔

دوسری جانب ووہان میں حالات کی شدت پر فیروزہ اور اس کے گھر والے اس کے بھائی علینور کو کہتے ہیں کہ وہ فوراً ووہان چھوڑ کر واپس قازقستان پہنچے جہاں حالات ٹھیک ہیں۔ فیروزہ کا دوسرا بھائی میرس بھی علینور کو واپس پہنچنے کا کہتا ہے۔ وہ سپین میں مطمئن ہوتا ہے کہ یورپ اس وبا سے محفوظ ہے۔ علینور کو آخری سرحدی گاؤں تک گاڑی ملتی ہے لیکن پھر سرحد تک 90 کلومیٹر وہ پیدل یا ٹرکوں پر طے کرتا اور جیسے تیسے اپنے ملک پہنچ جاتا ہے لیکن راستے میں ایک مسافر سے وہ وبا کا شکار ہو جاتا ہے۔

ووہان سے ایک جہاز سپین جاتا ہے اور وہاں اور باقی یورپ میں وبا پھیل جاتی ہے۔ میرس کو جب تک پتہ چلتا ہے تو سارے ایئرپورٹ بند ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ قازقستان نہیں پہنچ پاتا۔ فیزورہ علینور کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہے لیکن وہ وبا سے بے خبر ہوتی ہے۔ دونوں بہن بھائی اس کا شکار ہوتے ہیں اور ساتھ میں والدین بھی۔ ہسپتال جانے سے پہلے وہ حیدر کو اپنی بیماری کی خبر کرتی ہے اور پورے گھرانے کو ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔

اس سے ایک دن پہلے میرس بھی اس کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کا پورا خاندان بھی وبا کی زد میں آ جاتا ہے۔ ان کا انٹرنیٹ بند ہوتا ہے اس لیے وہ گھر خبر نہیں کر پاتے۔ حیدر فیروزہ کی بیماری کا سن کر بہت بےچین ہوتا ہے لیکن فیروزہ اس کے کسی میسج کا جواب نہیں دیتی کیونکہ اس کا موبائل گھر رہ جاتا ہے۔ میرس اور اس کا پورا خاندان سپین میں وفات پا جاتا ہے۔ فیروزہ اور علینور قازقستان میں وفات پا جاتے ہیں جبکہ ان کے والدین صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

حیدر کا فیروزہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا کیونکہ چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا موبائل بند ہو کر میز کے نیچے گر چکا ہے اور اس کے والدین بھی اسے نہیں ڈھونڈ پاتے۔ حیدر کی پاگلوں جیسی حالت ہے لیکن وہ ریڈ الرٹ زون میں ہے اور کہیں بھی جانے کا کوئی موقع نہیں کیونکہ فلائٹس بند ہیں اور پھر وہ ایک جزیرے پر مقیم ہے۔ وہ اپنے کمرے میں اکیلا بار بار فیروزہ کا نمبر ڈائل کر رہا ہے جبکہ باہر اعلان ہو رہا ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کا دورانیہ مزید 14 دن بڑھا دیا گیا ہے۔

یہ حمزہ حسن شیخ کا ناول ہے جس کے کردار خود بولتے ہیں اور انسان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ اُسے پڑھا اور محسوس کیا جائے۔ کرونا کے دنوں میں پوری دنیا میں لکھا جانے والا یہ پہلا انگریزی ناول ہے جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے، تو ابھی ایمازون پر جاکر کرونا کے حوالے سے پاکستانی نوجوان ناول نگار کا یہ ناول آرڈر کیجیے اور اپنے قرنطینہ کے دن انجوائے کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ