الجیریا کے ’زومبی صدر‘ کے 82 سالہ دل کو کیا بات چلاتی ہے؟

عبد العزيز بوتفليقہ کے مطابق وہ ’اقتدار سے چمٹے ہوئے نہیں ہیں‘، انہیں قبر میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔

الجیریا کے 82 سالہ بیمار صدر عبد العزيز بوتفليقہ۔ تصویر: اے پی

آئیں مل کر دنیا کے چند ’معروف افراد‘ کی تعریف کریں۔ مثال کے طور پر الجیریا کے صدر عبد العزيز بوتفليقہ۔ آخر ان کے سوئے ہوئے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟ ایک ’زومبی صدر‘ کے 82 سالہ دل کو کیا بات چلاتی ہے؟ صدارت حاصل کرنے کی ان کی پانچویں کوشش کے خلاف احتجاج کرنے والے الجیرینز کو اب معلوم ہوا کہ وہ تابوتی رہنما کے طور پر ایک سال مزید صدر رہیں گے اور کسے معلوم شاید اس کے بعد ایک سال مزید بھی؟

لیکن عبد العزيز جیسے لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ان کے مطابق وہ ’اقتدار سے چمٹے ہوئے نہیں ہیں‘، انہیں قبر میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔

شیکسپیئر کے ہینری پنجم نے کہا تھا کہ ’بوڑھے بھول جاتے ہیں‘ اور جنگ کے دوران سفیر ڈف کووپر نے اسے اپنی یادداشتوں کے عنوان کے طور پر منتخب کیا۔ انہوں نے لکھا کہ خزاں ’ہمیشہ میرا پسندیدہ وقت رہا ہے۔۔۔ مجھے دھوپ سے محبت ہے لیکن میں تاریکی کے آنے سے خوفزدہ نہیں ہوتا‘، وہ مزید گیارہ برس تک زندہ رہے۔

ونسٹن چرچل 80 سال کے تھے جب 23 مارچ 1955 کی صبح دی گارڈین کی شہہ سرخی پڑھ کر وہ حیران رہ گئے کہ ’کابینہ نے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ لیا، کیونکہ ان کی صحت ان کے کام میں خلل ڈال رہی ہے۔‘

 ہاں ہم عبد العزيز کے الجزائر کی جانب تھوڑی دیر میں آ رہے ہیں۔ حسنی مبارک جنہیں 83 سال کی عمر میں 2011 میں عرب انقلاب نے آن لیا، جب وہ مزید سات ماہ اقتدار میں رہنے کی اپیل کر رہے تھے یا پھر سعودی عرب کے شاہ سلمان جو گذشتہ برس 83 کے ہوئے۔

یا فیلڈ مارشل صدر عبدل فتح السیسی جو ابھی محض 64 برس کے ہیں، لیکن جن کے لیے پارلیمان اور عدالتیں موقع دے رہی ہیں کہ وہ مصر پر 2030 میں بھی حکمرانی کر رہے ہوں۔ تب وہ 75 کے ہوں گے اوراس سے بھی زیادہ اگر وہ چاہیں تو حکومت کرسکتے ہیں۔

گارڈین کی شہہ سرخی پڑھنے سے دو سال قبل، چرچل کو 10 ڈاؤنگ سٹریٹ میں شدید دورہ پڑا تھا۔ ان کے کابینہ کے ساتھیوں نے اگلی صبح تک اسے نوٹ نہیں کیا اورعوام کو بتایا گیا کہ وہ بس تھکن کا شکار ہیں۔ ان کے جسم کا ایک حصہ فالج کا شکار ہوا تھا۔ شکر ہے خدا کا کہ انہوں نے پارلیمان میں اپنی آواز سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا، جس سے ان کا کھیل سمجھ آ جاتا۔

تین ماہ بعد ایک اور فالج کے حملے کے بعد چرچل نے روسیوں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس منعقد کرنے سے متعلق مارگریٹ ٹوریز کے سامنے ایک تقریر کی۔ وہ 50 منٹ تک کھڑے رہے اور ایک مرتبہ بھی نہیں لڑکھڑائے۔ دوسری صبح انہیں معلوم ہوا کہ انہیں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا ہے۔ بوڑھے آدمی ہمیشہ نہیں بھولتے اور نہ رخصت ہونے کو تیار ہوتے ہیں۔

اور پھر چرچل جو کابینہ کے اجلاسوں میں سو جایا کرتے تھے، گارڈین کی خبر کے 13 روز بعد چلے گئے اور ایڈن کو وزیراعظم بننے کا موقع ملا جنہوں نے سوئز کنال میں باقی ماندہ برطانوی راج کا کباڑہ کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چرچل نے 80 سال کی عمر میں استعفیٰ دیا (وہ 90 سال کی عمر میں چل بسے تھے) لیکن عبد العزيز 82 سال کی عمر میں حسنی مبارک والے کام کر رہے ہیں، انتخابات ملتوی کرکے جن میں اب وہ نہیں کھڑے ہوں گے اور ممکنہ طور پر سات ماہ بعد ہونے والے انتخابات تک صدر رہیں گے یا شاید 2020 تک۔ چرچل عمر رسیدہ تھے، لیکن عبد العزيز – ہمیں یہاں دیانتدار ہونا ہوگا – ایک لاش ہیں جن کا دل ابھی تک دھڑک رہا ہے۔ وہ بول نہیں سکتے، چل نہیں سکتے۔ حتیٰ کہ ان کے درباری نہیں بتا سکتے کہ انہیں سمجھ ہے یا نہیں۔

آئینی ہیرا پھیری کے بعد اگر وہ 2014 میں چوتھی مرتبہ منتخب ہوئے تھے تو مقامی کارٹون بنانے والوں نے انہیں اُسی وقت تابوت میں دکھانا شروع کر دیا تھا۔ الجیریا کے لوگوں کو کیوں ایک لاش منتخب کرنا پڑی؟ یہ سوال اُس وقت بھی پوچھا گیا تھا۔ یہ کسی قوم کی کتنی بےعزتی ہے۔

وہ یہ باتیں اس ’بے زبان عجوبے‘ کے جنیوا کے سپتال سے واپسی پر اس ماہ دوہرا رہے تھے۔ اس واپسی کے سفر کو اتنا خفیہ رکھا گیا کہ سوئس ہوائی اڈے پر طیارے سے کیمروں کو دور رکھا گیا۔ پھر بھی عبد العزيز نے اعلان کیا کہ اگر بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے ختم نہ کیے گئے تو ملک میں ’افراتفری‘ ہوگی۔     

اسی قسم کی دھمکی 2011 میں حسنی مبارک نے بھی دی تھی اگر انہیں اقتدار میں نہ رہنے دیا گیا۔ اس ہفتے کافی تاخیر سے نوجوان مظاہرین نے اُس وقت دھوکے کو بھانپ لیا جب انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا، جس کے دوران عبدالعزیز دارالحکومت الجیرز سے 14 میل دور زیرالدا کے مقام پر ایک کلینک میں صدر کے تمام اختیارات کے ساتھ زیر علاج رہیں گے۔

اسی قسم کی دھمکی 2011 میں حسنی مبارک نے بھی دی تھی اگر انہیں اقتدار میں نہ رہنے دیا گیا۔ اس ہفتے کافی تاخیر سے نوجوان مظاہرین نے اُس وقت دھوکے کو بھانپ لیا جب انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا، جس کے دوران عبدالعزیز دارالحکومت الجیرز سے 14 میل دور زیرالدا کے مقام پر ایک کلینک میں صدر کے تمام اختیارات کے ساتھ زیر علاج رہیں گے۔

ہمیں حق بجانب ہونا چاہیے۔ عبدالعزیز نے واضح طور پر نہیں بتایا کہ وہ اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ بول نہیں سکتے۔ یہ یقیناً ایک مسئلہ ہے۔ ان کی عمر کے دیگر افراد جیسے کہ چرچل کم از کم بول سکتے تھے یا ٹیٹو، جو اپنی گینگرین زدہ ٹانگ کو کاٹنے کے لیے تیار نہیں تھے اور پھر بہت دیر ہوگئی اور وہ اپنی 88 سالگرہ سے تین روز قبل انتقال کرگئے۔

کسی نے بھی اپنے جانے پر ’افراتفری‘ کی پیش گوئی نہیں کی تھی، تاہم سوئز اور یوگوسلاویہ کی تقسیم نے بتایا کہ انہیں ایسا کرنا چاہیے تھا۔ حسنی مبارک کے جانے کے بعد قدرے افراتفری ہوئی لیکن ایک سال کی جعلی اسلامی حکومت کے بعد، جس کے بعد السیسی نے تختہ الٹ دیا اور حسنی مبارک سے زیادہ مصریوں کے لیے ظالمانہ ’منتخب‘ آمریت نافذ کی۔

عبدالعزیز کا دوسرا مسئلہ، ان کی زبان بندی کے علاوہ خاموش، بدعنوان اور ظالم اقتدار ہے جس کا متبادل پانا مشکل ہوگا۔ اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ وہ اپریل کے انتخابات میں پانچویں مرتبہ لڑیں گے، اب جبکہ انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں تو شاید وہ ایسا نہ کرسکیں۔

ایک ایسا صدر جسے فوت ہوجانا چاہیے یا زیادہ بے رحم لوگ کہیں گے کہ جسے مر جانا چاہیے، اقتدار میں رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الجزائر کے جج وہاں کے نوجوانوں کے احتجاج میں ان کے ہمراہ ہوگئے۔ الجزائر کبھی بھی جمہوری نہیں رہا۔ اب وہ ایک نیوکریسی بن چکا ہے۔

الجزائر میں ہر کسی کو معلوم ہے کہ عبدالعزیز جس ’افراتفری‘ کی مبینہ طور پر بات کر رہے ہیں کبھی رونما نہیں ہوگی مگر اقتدار کے اندر ہوسکتی ہے اور جیسے کہ سب الجیرین جانتے ہیں کہ عبدالعزیز سے 21 سال چھوٹے ان کے بھائی سید کے ذریعے صدر کو تمام پیغامات پہنچائے جاتے ہیں۔

الجزائر میں ہر کسی کو معلوم ہے کہ عبدالعزیز جس ’افراتفری‘ کی مبینہ طور پر بات کر رہے ہیں کبھی رونما نہیں ہوگی مگر اقتدار کے اندر ہوسکتی ہے اور جیسے کہ سب الجیرین جانتے ہیں کہ عبدالعزیز سے 21 سال چھوٹے ان کے بھائی سید کے ذریعے صدر کو تمام پیغامات پہنچائے جاتے ہیں۔

1999 میں اقتدار میں آنے کے فوراً بعد سید نے دو مخالفین کا خاتمہ کیا، لیکن ان کے ساتھ جنرل احمد زاید صالح ہیں۔ یقیناً مشرق وسطیٰ کے بدترین جرنیلوں میں سے ایک اور سید کی اپنے بہترین کاروباری شخصیت علی حداد، یہ امیر لوگ ہیں جن کے فوج اور ارب پتی تاجروں میں دوست ہیں، جن کے سوئٹزرلینڈ میں ولاز اور مرکزی پیرس میں اپارٹمنٹس ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اقتدار کے میراث جرائم کیا ہیں۔

ان کے پاس فائلیں ہیں۔ 98-1990 کی خانہ جنگی کے بدترین سالوں سے جڑے جنرل توفیق، جنہیں سید کی مدد سے اپنی سائڈ پر لایا گیا ہے۔ فی الحال عبدالعزیز کو زندہ رکھنا چاہیے۔ کیا ان کی بھی یہی خواہش ہے؟ یہ بے معنی ہے۔ انہیں جانشین کے تعین تک زندہ رہنا چاہیے۔

اگر سنجیدگی کے لمحات ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سیاسی طور پر مردہ کو اقتدار زندہ کرسکتا ہے، لیکن حسنی مبارک کیوں اقتدار سے چپکے رہے، جب لاکھوں مصریوں نے ان کا استعفیٰ مانگا؟ کیوں بدبخت لوگ آسانی سے، سفارتی اور باعزت طریقے سے ریٹائر نہیں ہوتے؟ انہیں یقیناً موت کا خوف نہیں ہوتا۔ صدور قاتلوں کو متوجہ کرتے ہیں، ریٹائرڈ صدور نہیں۔

اس کی وجہ عرب صدارتی نظام ہے، جس میں خاندان کا مرد ہی آگے آتا ہے اور جس کے لیے اس کے لوگ کچلے ہوئے، تشدد کے مارے ہوتے ہیں اور جن کے ساتھ بچوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے، جنہیں ایک باپ جیسی شخصیت تحفظ فراہم کرتی ہے اور جس کی نافرمانی نہیں کی جاسکتی ہے۔

لیکن اس قسم کی تمام آمریتیں ہمیشہ مشکل میں اس وجہ سے ہوتی ہے کہ ان کے صدارتی باپ اپنے لوگوں میں سے نہیں بلکہ اپنے حیاتیاتی بچوں یا خاندان کو ان کے بعد اقتدار ملے۔ جب حسنی مبارک نے جذباتی انداز میں فروری 2011 میں تحریر چوک میں ’میرے بچو، میرے بچو‘ کہہ کر مخاطب کیا تو انہیں معلوم تھا کہ صرف ایک ’بچہ‘ ان کا بیٹا جمال ہی ان کی مراد ہے۔

تیونس کے بن علی کا خیال تھا کہ ان کا خاندان غیرمعینہ مدت تک حکمرانی کریں۔ اور یہی خلیج کے امیر اور شاہ بھی چاہتے ہیں۔ شام میں خلافت اصل میں اپنے رنگ میں آئی جب آئین میں تبدیلی کرکے بات کی صدارت نوجوان بشر الاصد کو دی گئی۔ یہ شام کی جنگ کے آغاز سے 11 سال پہلے کی بات ہے۔

الجزائر میں یقینا سید کو اپنے بھائی کی طویل عمری چاہیے۔ لیکن کیا یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں؟ یا پھر وہاں کے لوگوں کو عبدالعزیز کا انتظار کرنا پڑے گا کہ وہ اقتدار کا مستقبل ایک اور جعلی انتخابات سے قبل تعین اپنے فوجی اور تجارتی درباریوں سے طے کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ