3000 سے زائد سول جج امیدواروں میں سے 28 کامیاب: وجہ کیا؟

حالیہ امتحان میں ناکام ہونے والے امیدوار نے سوال اٹھایا کہ سول جج کے لیے شیکسپئیر اور مولوی عبدالحق کی تحریروں کا امتحان کیوں ضروری ہے؟

(پکسابے)

لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی کمیٹی کی زیر نگرانی ہونے والے سول ججز کے امتحان میں حصہ لینے والے تین ہزار سے زائد امیدواروں میں سے صرف 28 امیدوار ہی کامیاب ہو سکے۔

کل 3165 امیدواروں میں سے 16مرد جب کہ صرف 12 خواتین ہی امتحان پاس کر سکیں۔

اسی طرح گذشتہ برس سول جج کے عہدے کے لیے  تحریری امتحان دینے والے چھ ہزار537 امیدواروں میں سے صرف 21 کامیاب ہوئے تھے اور چھ ہزار516 امیدوار ناکام ہوگئے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس کی وجہ دو سال پہلے بننے والی نئی پالیسی قرار دی جا رہی ہے۔ ناکام ہونے والے امیدوار اس پالیسی میں تبدیلی مگر سینیئر وکلا اس میں مزید بہتری کے خواہاں ہیں۔

نئی پالیسی ہے کیا؟

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے دو سال قبل سول ججز کی بھرتیوں کے لیے  پرانی پالیسی کو تبدیل کر کے نئی پالیسی تشکیل دی گئی تھی۔

رجسٹرارلاہور ہائیکورٹ بہادر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ماتحت عدالتوں سےعدالت عالیہ کے ججز کےسامنے پیش ہونے والے فیصلوں میں بہتری اور مقدمات کے التوا میں اضافے کو روکنے کے لیے سول ججز کی تعیناتی کے خواہش مند امیدواروں کے امتحانات لینے کا طریقہ کار تبدیل کیاگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے صرف دو پرچے ہوتے تھے اور سلیبس بھی کم تھا۔ اس وقت بھی امیدوار کے لیے  دو سال پریکٹس کی شرط تھی لیکن ان امتحانات میں امیدوار زیادہ کامیاب ہوتے تھے۔ پھر سات مختلف مضامین کے ساتھ سلیبس بڑھا کر امتحانات لینا شروع کیا گیا تو دو سال سے ہی امیدوار انتہائی کم تعدادمیں کامیاب ہورہے ہیں۔ پہلے اسامیاں بھی امتحانات سے پہلے مشتہر ہوتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا اس ناکامی کی وجہ سخت پالیسی ہوسکتی ہے لیکن پاس ہونے والے امیدواروں کی طرح محنت کی جائے تو کامیابی کا تناسب بڑھ سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناکام ہونے والے طلبہ کیا سمجھتے ہیں؟

سول ججز کی تقرری کے لیے  حالیہ امتحان میں ناکام ہونے والے امیدوار رفعت سلطان سپرا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معروف اکیڈیمیوں میں تیاری کے باوجود اتنی بڑی تعدادمیں طلبہ کی ناکامی سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ نئی پالیسی کتنی سخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل ایل بی کا امتحان پاس کرنے والے یہ سی ایس ایس لیول کا امتحان اس لیے  بھی پاس نہیں کر پا رہے کہ سلیبس میں قانون سے ہٹ کر مضمون،شاعری،اور تاریخ شامل کر دی گئی ہے۔

پہلے دو مضمون تھے اور تین دن میں امتحان ختم ہو جاتا تھا لیکن اب سات مضامین کے پرچے دینے میں پندرہ روز سے زائد عرصہ لگتا ہے۔ جو پریکٹسنگ وکیل ہیں ان کے لیے  مکمل تیاری مشکل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سول جج کے لیے شیکسپئیراور مولوی عبدالحق کی تحریروں کا امتحان کیوں ضروری ہے؟

رفعت سلطان نے کہا کہ اتنے سخت طریقہ کار سے پہلے نو ،نوسو امیدوار کامیاب ہوتے تھے۔ گزشتہ سال کامیاب صرف 21امیدوارہوئے تھے اور اسامیاں چھ سو سے زائد تھیں۔ اس سال خالی اسامیوں کی تعدادمیں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اب سول جج کی تقرری کا طریقہ کار اتنا مشکل بنایا ہے تو جو پہلے بنائے گئے ہیں ان سے بھی دوبارہ امتحان لیا جائے گا؟

انہوں نے کہا پہلے پانچ سالہ سوالیہ پرچوں سے تیاری آسان تھی اب وہ بھی نہیں ہوسکتی کیونکہ دو سال سے طریقہ مختلف ہے۔

سینئر وکلاء کی رائے:

سابق سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آفتاب احمد باجوہ نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ سول ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار مزید سخت ہونا چاہیے۔ نئی پالیسی بہترین اقدام تھا سب سے پہلے کیس سول عدالتوں میں جاتے ہیں اس لیے  ان عدالتوں میں سب سے بہترین اہلیت کے حامل ججز تعینات ہونے چاہئییں تاکہ مقدمات کے نچلی سطح پر ہی بہترین اور قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلے ہوں اور اعلی عدالتوں پر ان کا بوجھ نہ پڑے۔

لوگ ماتحت عدالتوں کے فیصلے سیشن ،ہائی کورٹس یا سپریم کورٹس تک لے کر جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے دو جونیئر وکلاء ایک لڑکا اور ایک لڑکی اس سال امتحان میں پاس ہوئے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے جیسے میں نے ان کو تیاری کرائی ہے۔ اسی دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ نئی پالیسی کے تحت بننے والے سول ججز کتنے اہل ہوں گے۔

آفتاب باجوہ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں ہمیشہ مقامی عدالتوں میں ججز کے تقرر کو زیادہ سخت بنایاجاتاہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں نہ صرف زیر التوا مقدمات کی تعداد ہزاروں میں ہے بلکہ سستا اور بروقت انصاف بھی دشوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ بہتر اور سخت طریقہ کار سے میرٹ پر تقرریوں کے بعد ہی نظام انصاف میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان