بہاولپور کا ’چنری گاؤں‘ جس کی چنریاں دنیا بھر میں مشہور ہیں

11 سال کی عمر سے ہی چنریاں بنانے والی امیر مائی کا کہنا ہے کہ پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں لیکن اب بہاولپور کی چنریوں کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔

بہاولپور کے نزدیک عباس نگر گاؤں چنری گاؤں کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں کی بنی ہوئی رنگ برنگی چنریاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔

چولستان میں چنری کا خاص مقام ہے اور شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

امیر مائی بچپن سے ہی خوبصورت چنریاں بناتی آئی ہیں جو اس کے علاقے کی خواتین خاص مواقعوں پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔ انہوں نے 11 سال کی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھا اور پھر اپنی اولاد کو سکھایا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی نانی اور والدہ چنریاں بنا کر بھارت تک لے کر جاتی تھیں بیچنے کے لیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں لیکن اب بہاولپور کی چنریوں  کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔‘

55 سالہ امیر مائی کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان صدیوں سے اس فن سے منسلک ہے اور انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سیکھایا ہے اور اب تقریباً پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہے۔

امیر مائی کا کہنا تھا: ’یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔ سب سے پہلے  ہم کپڑا لیتے ہیں، اگر پورا سوٹ بنانا ہو تو چھ سے آٹھ میٹر تک کپڑا لگتا ہے۔ اس پر سب سے پہلے ڈیزائین  بنایا جاتا ہے اور یہ  ہم اپنے ذہین سے بناتے ہے، ایک دوسرے سے مشورہ کر کے کے اس سوٹ یا چنری پر کون سا ڈیزائین یا رنگ اچھا لگے گا۔ ہمارے رنگ پائیدار  ہوتے ہیں۔ بہاولپوری چنری اپنے رنگوں ہی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔‘

 امیر مائی کا کہنا تھا کہ اتنی محنت کے باوجود اس کا معاوضہ اس طرح نہیں ملتا جتنا  ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق ایک چنری بنانے میں ایک سے دو دن لگ جاتے ہیں اور اس پر خرچہ چھ سو سے ایک ہزار روپے تک آتا ہے۔ ’لیکن ہمیں صرف اپنی محنت کی ہی بچت ہوتی ہے۔ ہم سے زیادہ اس سے فائدہ کاروباری لوگ اٹھاتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا