عوام کے سامنے حکومتی عہدیدار بے بس

خیبر پختونخوا کے عوام کا بڑا حصہ کرونا وائرس کو وبا ماننے پر تیار ہی نہیں اور اسے مذاق سمجھ رہے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ ہیں جو اسے یہود و ہنود کی سازش گردانتے ہیں جس کی وجہ سے وہ احکامات ماننے کے لیے آمادہ نہیں۔

عوام کرونا وائرس کو کچھ زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ (وسیم خٹک)

ایک طرف انڈپینڈنٹ اردو ایک سال کا ہو گیا تو دوسری جانب گھر میں قرنطینہ ہوئے ایک مہینہ ہو گیا ہے۔ تو سب سے پہلے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھیوں کومبارکباد، اُس کے بعد قرنطینہ کے لمحات پھر شئیر کریں گے۔

 اس دفعہ خیبر پختونخوا کے عوام کے گھروں میں نہ رہنے پر تھوڑی بہت بات ہو گی کہ لوگ کیوں کر گھروں میں ٹک کر نہیں بیٹھتے اور وہ کیا وجوہات ہیں جس سے حکومتی مشینری بھی بے بس ہو گئی ہے۔ حالانکہ حکومتی ہدایات بہت سخت بھی ہوں گی مگر پشاور اور دیگر اضلاع میں لوگوں کا جم غفیر بازاروں میں یوں ہی فضول مٹر گشت کرتی نظر آتا ہے جن کا کوئی کام ہی نہیں ہے کیوں کہ اکثر مارکیٹس بند ہیں۔

اس حوالے سے عوامی نقطہ نظر جانا گیا جس میں وہ اسے ابھی تک مذاق ہی سمجھ رہے ہیں حالانکہ پشاور میں سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی خیبر پختونخوا میں ہو رہی ہیں۔ اب چونکہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ بھی شروع ہو گیا ہے اس لیے بازاروں میں مزید بھیڑ بھاڑ بھی شروع ہوجائے گی اور مساجد میں نمازیں پڑھنے میں بڑے شہروں میں پہلے سے پابندی لگی ہے مگر چھوٹے قصبوں میں ابھی تک کوئی بھی مسجد بند نہیں ہوئی اور نہ ہی لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت بند کی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا بڑا حصہ کرونا وائرس کو وبا ماننے پر تیار ہی نہیں اور اسے مذاق سمجھ رہے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ ہیں جو اسے یہود و ہنود کی سازش گردانتے ہیں جس کی وجہ سے وہ احکامات ماننے کے لیے آمادہ نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب حکومت نے لاک ڈاﺅن سخت کرنے کے احکامات جاری کیے تو تما م اضلاع میں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ گھروں میں رہیں تو اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنروں، اسسٹنٹ کمشنروں، ڈی پی اورز اور پولیس سٹیشنوں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ عوام کو زبردستی گھر میں بٹھائیں مگر عوام نے ایک کان سے بات سنی تو دوسرے سے نکال دی۔

اسسٹنٹ کمشنروں نے جرگے بلائے جو گاﺅں کی سطح پر میں عوام کو بات پہنچانے کا آسان اور موثر ذریعہ ہے۔ مشران سے کہا گیا کہ نماز جمعہ سمیت دیگر نمازیں گھروں میں پڑھیں تو اُن کا موقف سامنے آیا کہ یہ امریکیوں کی سازش ہے، دیکھا اب ہمیں نمازوں سے بھی منع کیا جا رہا ہے۔

جب کچھ اضلاع میں کرونا کے پازیٹیو کیس تبلیغی جماعت کے افراد میں نکلے اور انہیں حکومتی اداروں کی جانب سے قرنطینہ میں ڈالنے کی ہدایات دی گئیں تو عوام کا کہنا تھا کہ امریکی گشت سے ڈرتے ہیں اس لیے انہوں نے تبلیغی جماعت کے افراد میں خود ہی کرونا کے کیس نکالے ہیں کیونکہ تبلیغ سے یہودیوں کو خطرہ ہے باقی لوگوں میں ابھی تک کورونا وائرس کیوں نہیں نکل رہا ہے؟

کرونا وائرس سے سب زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ مزدوروں کا ہے، خاص کر دیہاڑی دار مزدور۔ پختون چونکہ اپنے رسم اور رواج کو فالو کرنے والے لوگ ہیں جس پر وہ کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مذہب بھی ایک رواج کا حصہ بن گیا ہے۔ جس پر وہ کوئی بات نہیں سننا چاہتے۔ اگرخیبر پختونخوا کے علاقوں میں آپ کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے تو وہ آپ سے ناراض ہو کر تاحیات دشمنی بھی کر سکتا ہے۔ جنازہ پڑھنے نہ جانا دشمنی کے مترادف ہے۔

اس بارے مں بانڈہ داﺅدشاہ ضلع کرک کے اسسٹنٹ کمشنر عید نواز شیرانی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے عوام میں آگاہی مہم چلائی جس میں علاقے کے مشران کو شریک کیا اور علاقے کے علما سے بات چیت کی، مساجد میں پولیس کے ذریعے گھر سے باہر نہ نکلنے کے لیے اعلانات کیے، ویڈیو کلپس بنا کر شئیر کیے گئے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’مساجد میں ہم نے نماز پڑھنے کے لیے ایس او پیز بنائے۔ ٹی ایم اے کے ذریعے جگہ جگہ اگاہی کے لیے بینرز لگائے۔ بینکوں سمیت کوئی بھی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جس میں ہم نے آگاہی کے لیے منصوبہ بندی نہ کی ہو۔ سینٹائزر جتنے ہو سکے تقسیم کیے۔ مگر بات وہی پر آ جاتی ہے کہ غریب لوگ ہیں وہ باہر روزگار کے لیے نہیں نکلیں گے تو کیا کریں گے؟ اس لیے عوام بہت کچھ جان کر سمجھ کر بھی اپنی من مانی کررہے ہیں۔ اب چونکہ رمضان کا مہینہ ہے اس لیے اب ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔ پھر بھی ہم عوام کو کہتے ہیں پلیز گھر پر رہیں۔‘

ہنگو میں تعینات ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دوست صاحبزادہ سلیم کا کہنا تھا کہ عوام میں شعور کا فقدان ہے جس میں تعلیم کی کمی بھی ایک عنصر ہے۔ ہماری جانب سے یعنی حکومت کی جانب سے ہم نے اپنی بہت کوشش کی کہ عوام گھر سے باہر نہ نکلیں مگر ہم بھی ان کے سامنے بے بس ہو گئے ہیں کیونکہ لوگ اسے سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہے حالانکہ خیبر پختونخوا میں کیسز بہت زیادہ ہو رہے ہیں۔ ہمیں گھروں میں رمضان کا مہینہ گزارنا ہو گا، تبھی بات بنے گی۔‘

اس طرح دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا بھی یہی ایک موقف تھا کہ عوام کے سامنے ہم لوگ بے بس ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ