نیوزی لینڈ: ’وی سلوٹ یو جیسنڈا‘

کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد ایک شخصیت جو بھرپور اور مناسب انداز میں صورتحال سے نمٹتے دکھائی دیں وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن تھیں۔

انتہائی برے حالات میں ان کا پیغام واضح تھا، ان کا ایک ایک لفظ مناسب اور ان کا انداز بیان پراعتماد دکھائی دیا۔ وہ ایک ایسی مضبوط خاتون کے طور پر سامنے آئیں جن کے بظاہر صورت حال قابو میں تھی۔ سانحہ عالمی تھا تو ردعمل بھی مدلل۔ اتنے ظالمانہ واقعے کی تفصیلات میڈیا کو بار بار اخباری کانفرنسوں میں دینی والی اس خاتون کی آواز ایک مرتبہ بھی نہیں لرزائی۔

کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد ایک شخصیت جو بھرپور اور مناسب انداز میں صورتحال سے نمٹتے دکھائی دیں وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن تھیں۔ حملے کے فورا بعد پہلی اخباری کانفرنس سے متاثرہ خاندانوں سے اسلامی لباس میں ملاقات کی وجہ سے ان کی دنیا بھر میں میڈیا نے تعریف کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرائسٹ چرچ میں گذشتہ جعمے کو دو مساجد پر ہوئے حملے میں مرنے والوں کی تعداد ہسپتال میں زیر علاج ایک زخمی کے چل بسنے سے اب پچاس ہوگئی ہے۔ 

اڑتیس سالہ جیسنڈا کیٹ لوریل آرڈرن دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک سے ہیں جہاں وہ تیسری خاتون ہیں جو اس اعلی ترین عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔ انہوں نے 26 اکتوبر 2017 کو یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ اس کے علاوہ دنیا کی کم عمر ترین خاتون وزیر اعظم یعنی 37 سال کی عمر میں بنیں اور وہ پاکستان کی بےنظیر بھٹو کے بعد دوسری خاتون وزیر اعظم بنیں جنہوں نے اس عہدے پر رہتے ہوئے بیٹی کو جنم دیا۔ انہوں نے جون 2018 میں بیٹی کی پیدائش پر یہ اعزاز حاصل کیا۔

وہ لیبر پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ نیوزی لینڈ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین سیاسی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ نیوزی لینڈ کو دنیا میں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں ایک خاتون نے دوسری کو انتقال اقتدار کیا۔ تاہم اس کے باوجود جیسنڈا نے 8 مارچ 2019 کے عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو مزید آگے لانے کا پیغام دیا۔

اڑھائی لاکھ سے زیادہ ٹویٹر پر ان کے فالورز رکھنے والی اس سیاستدان نے انتخابی سیاست کا آغاز 2008 میں عام انتخابات میں حصہ لے کر کیا۔ 2001 میں انہوں نے گریجویشن کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم ہیلن کلارک کے دفتر میں بحثیت ریسرچر کام کیا۔  

ہیلمٹن، نیوزی لینڈ میں ایک پولیس افسر کے ہاں پیدا ہونے والی جیسنڈا کو شاید اعتماد سے بولنے کی صلاحیت اپنے والد سے ورثے میں ملیں۔ وہ مسلم برادری سے اظہار افسوس اور یکجہتی کے لیے اسلامی لباس پہن کر پہنچیں۔ سیاہ لباس میں ملبوس سر پر دوپٹہ لیے جیسنڈا آرڈن نے مسلمان خواتین کو گلے لگایا اور ہمدری کے دو لفظ بولے جو ان عورتوں کو شاید کبھی نہ بھولیں۔ انہوں نے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کو دہشت گردی قرار نہ دینے اور اس کی مذمت نہ کرنے والے امریکی صدر بھی ایسا جواب دیا جس پر سب انہیں داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ ٹرمپ نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟ جس پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے مشورہ دیا کہ امریکہ تمام مسلمانوں سے محبت و ہمدردی کا اظہار کریں۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے گفتگو اور واقعے کے دس گھنٹے بعد ٹرمپ نے دوسرا ٹویٹ کیا اور قتل عام کی مذمت کر دی۔

اپنے کردار اور گفتار سے وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ایک مرتبہ پھر اس مردانہ نکتہ نظر کی نفی کر دی کے شاید خواتین مشکل حالات میں درست فیصلے نہیں کرسکتی ہیں۔ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے حقوق انسانی کے ایک کارکن اور صحافی مجیب الرحمان نے ایک ٹویٹ میں جسنڈا کو امن کا سفیر قرار دیا اور تعریف کی۔  انہوں نے جسنڈا کو سلوٹ بھی کیا۔

امریکی سے نونیت سنگھ نرولا نے ایک ٹویٹ میں جیسنڈا کو کچھ یوں خراج عقیدت پیش کیا۔ 

 پاکستان میں حقوق انسانی کی ایک کارکن ماروی سرمد نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی اپنے ملک کی اقلیتی برادری یعنی مسلمانوں سے ملاقات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شاید پاکستان میں یہاں کا وزیر اعظم ایسا نہ کر سکتا۔ 

 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین