عمران خان کا ایک اور چھکا میدان مار گیا

کہتے ہیں، 'جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا؟' یہ مثال شاید کسی اور جگہ اتنی صادر نہیں آتی، جتنی عمران خان حکومت کی اب تک کی میڈیا پالیسی پر آتی ہے۔

عمران خان سے چند صحافیوں کی محبت کا عالم یہ ہے کہ کوئی بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ان کے سانس لینے کے طریقے پر بھی اعتراضات اٹھا دیے جائیں (اے ایف پی)

کہتے ہیں، 'جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا؟' یہ مثال شاید کسی اور جگہ اتنی صادر نہیں آتی، جتنی پاکستان کی موجودہ حکومت کی اب تک کی میڈیا پالیسی پر آتی ہے۔

حکومت میں آنے سے پہلے والے عمران خان اور 'وزیراعظم' عمران خان میں 'خواب' اور 'حقیقت' کے فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے، جہاں اور بہت سے خیالات میں فرق آیا، وہیں پچھلے پونے دو سال میں وہ یہ بات بھی بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ میاں صاحب اور زرداری صاحب اتنے بھی نادان نہ تھے، جو میڈیا پر اربوں روپے خرچ کرتے تھے۔

کبھی 'فرضی اخبارات' کی صورت میں، تو کبھی ٹی وی چینلز کو دیے گئے اشتہارات پر بےدریغ پیسہ بہا کر۔ کپتان کی اچھی نیت اور ملک کے لیے انتھک کوشش اپنی جگہ لیکن کچھ فیصلے ذہانت کے ساتھ بروقت کرنے کے ہوتے ہیں۔

اگر وہ وقت پر نہ کیے جائیں تو بعض اوقات بہت دیر ہو جاتی ہے۔ گذشتہ حکومتیں اگر دو روپے کا کام کرتی تھیں تو اس کی تشہیر سو روپے کے کام کی مانند کروائی جاتی تھی۔

موجودہ حکومت کا پہلے دن سے یہ المیہ رہا کہ دو روپے کا کام 'دو روپے' کا کہہ کر بھی نہ بیچ پائے۔  کبھی وزرا کے تند و تیز طعنے کام خراب کر جاتے، تو کبھی میڈیا کی انا کو زخمی کیے بغیر، اپنا کام کروا پانے کی صلاحیت کا فقدان سارے کیے کراۓ پر پانی پھیر جاتا۔

اور بلآخر یہ بات حکومت کو سمجھ آ ہی گئی کہ میڈیا کو ماضی کی طرح، اپنی تعریفیں کروانے کے لیے بیشک 'اربوں' روپے اشتہارات کی مد میں نہ دیے جائیں لیکن ان کے ساتھ تعلقات تو استوار کیے جا سکتے ہیں۔

لہٰذا چند روز قبل حکومت نے ماسٹر سٹروک کھیلا اور میڈیا ٹیم میں مکمل اکھاڑ پچھاڑ کر دی۔ فردوس آپا کو سیالکوٹ کی ٹکٹ کاٹ دی، جس پر حکومت کے حامی خوش اور ناقدین اداس ہو گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فردوس صاحبہ جیسا مزاج رکھنے والے دیگر امیدوار، جنہیں یقین تھا کہ وہ نئے وزیر یا کم از کم 'مشیر' تو ضرور ہوں گے، الوداع کہہ دیے گئے اور ایک یکسر مختلف انداز اور مزاج کے حامل کھلاڑی میدان میں اتار دیے گئے۔

سینیٹر شبلی فراز بطور وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ بطور معاون خصوصی برائے میڈیا امور۔

پہلے نام پر سب نے ہی خوشی کا اظہار کیا لیکن دوسرے نام پر اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کے چند مخصوص عناصر، جو ہر دم عمران خان کی مخالفت میں مگن رہتے ہیں، کی جانب سے شدید ردعمل آیا۔

اوپر اوپر سے تو یہ شکوہ کیا جا رہا تھا کہ ریٹائرڈ فوجی کو کیوں لایا گیا؟ لیکن اصل دکھ یہ تھا کہ عاصم باجوہ، جو کہ 2012 سے 2016 تک بطور ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے فرائض بخوبی انجام دے چکے ہیں، میڈیا کی رگ رگ سے واقف ہیں۔

کون ایمان داری سے کام کرتا ہے اور کون کس کے اشاروں پر چل کر الفاظ بنتا ہے، سب سے واقف ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ بہت اصول اور طریقے سے چلنا پڑے گا۔

دلچسپ بات یہ کہ جب نواز شریف صاحب اپنے دور حکومت میں ناصر جنجوعہ صاحب (ریٹائرڈ فوجی افسر) کو ریٹائرمنٹ کے دو روز بعد ہی لے آئے تو کسی کو اعتراض نہ ہوا۔

عمران خان سے چند صحافیوں کی محبت کا عالم یہ ہے کہ کوئی بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ان کے سانس لینے کے طریقے پر بھی اعتراضات اٹھا دیے جائیں۔ 

ایک اور غور طلب نکتہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اگر کوئی بیوروکریٹ، جج، ٹیچر یا ڈاکٹر ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی اچھی نوکری حاصل کر لے تو اس کو خوب مبارک بادیں ڈی جاتی ہیں، لیکن اگر کوئی فوجی ریٹائر ہو کر کسی اچھی جگہ تعینات ہو جائے تو 'جمہوریت' خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

حکومت کے اس تازہ ترین فیصلے سے جہاں میڈیا اور حکومت کے مراسم میں بہتری کے امکانات دیکھے جا رہے ہیں، وہیں فردوس عاشق اعوان صاحبہ سیالکوٹ کا ٹکٹ تھمائے جانے پر رنجیدہ ہیں اور چند خیر خواہ ان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ پریس کانفرنس کر کے تہلکہ مچا دیں، مبادا آپ کی خاموشی آپ کا اگلا الیکشن بھی لے ڈوبے۔

گویا کہ وہ اس وقت شیر، بکری اور گھاس کی پہیلی کے مصداق پھنس چکی ہیں لیکن خوش خبری یہ ہے کہ حکومت اس مشکل پہیلی سے نکل آئی ہے۔

آنے والے دن حکومت کے لیے بہتری کے روشن امکانات لا رہے ہیں۔ 'احساس پروگرام' سے اب تک 81 ارب روپے پاکستان کے مالی طور پر کمزور خاندانوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔

کُل ایک کروڑ، بیس لاکھ خاندانوں میں 144 ارب روپے تقسیم کیے جانے ہیں۔ آئندہ ہفتے میں متعدد اقسام کے طریقے لانچ کیے جاِئیں گے، جس سے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی بہت آسانی سے وزیراعظم ریلیف فنڈ میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت ایک مکمل طریقہ کار وضع کرنے والی ہے، جس سے اس فنڈ میں ایک روپیہ بھی جمع کروانے والے کو واضح طور پرمعلوم ہو سکے گا کہ اس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے اور وہ کتنے لوگوں کی مدد کر پایا ہے۔

امید اور دعا ہے کہ ہم جلد از جلد کرونا وائرس سے نجات پائیں تاکہ زندگی کی رعنائی لوٹ سکے اور معیشت کا پہیہ تیز رفتاری سے گھوم کر ہر گھر کا چولہا جلا سکے۔

ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن

لیکن تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

پاکستان زندہ باد !!

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر