وزیرستان کی پہلی خاتون صحافی کی دکھی کہانی

میں رضیہ محسود اپنی صحافتی زندگی کے بارے میں چند حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔

رضیہ محسود  جنوبی وزیرستان سے پہلی خاتون  صحافی ہیں (تصویر: فیس بک)

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک صحافی کن مشکلات اور چیلنجز سے گزر کر آپ تک خبر پہنچاتا ہے؟ شاید کبھی نہیں۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کو تو چھوڑیں بدلے میں اس کو معاشرے سے طرح طرح کے نام ملتے ہیں اور الزامات لگائے جاتے ہیں۔ صحافت میں جہاں مرد حضرات کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں جب بات ایک عورت کی آجائے اور وہ بھی وزیرستان سے تو ان کی مشکلات دوگنی ہو جاتی ہیں۔

میں رضیہ محسود، ان سطور میں اپنی صحافتی زندگی کے بارے میں چند حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں جنوبی وزیرستان سے پہلی خاتون ہوں جو صحافت کے میدان میں آئی۔ میں نے وزیرستان کے ایسے مسائل پر کام کیا جس پر پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔ میں نے وزیرستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھایا۔

جب میں پہلی بار سامنے آئی تو مجھے بے تحاشا تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جتنا ہو سکتا تھا بعض لوگوں نے مجھے مایوس کیا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور اب تک اپنا کام جاری رکھا۔

یہ مخالفت دیکھتے ہوئے میں نے سوشل میڈیا پر اپنا فیس بک پیج اور یوٹیوب چینل شروع کیا۔ میرا مقصد لوگوں تک اپنی مدد آپ کے تحت خبریں پہنچانا اور اپنی ان بہنوں کے لیے ایک مثال بننا تھا جو رسم و رواج کی وجہ سے اس شعبے میں نہیں آ پاتیں۔ لیکن مجھے اس میں بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

میرا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہوتا رہا اور میرا پیج جس نے بہت کم عرصے میں کافی فالورز بنائے وہ بھی ہیک کرلیا گیا۔ ان کو بحال کروانے میں بھی کافی دشواریاں پیش آئیں۔ سائبر کرائم ونگ کو بھی رپورٹ کیا لیکن ان کی سست روی کو دیکھتے ہوئے میں نے خود ہی اپنے پیج کو بہت مشکل سے بحال کروایا۔

میں نے آج تک جن مسائل کو اجاگر کیا ہے، اللہ کا شکر ہے اس پر کام بھی ہوا ہے۔ ان مشکل حالات میں جب علاقے میں کرپشن، سکول، ہسپتال یا دوسرے ترقیاتی مسائل کی بات کرنے پر کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کو دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔

بحثیت ایک خاتون صحافی اگر میں کسی خاتون کا موقف جاننے کی کوشش کرتی ہوں تو اس پر بھی غیرت کا لیبل لگا کر کافی اچھالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر میں نے ایک 70 سالہ خاتون کا ان کے گھر والوں کی مرضی سے بیان لیا۔ گھر والوں نے خود ان کو میرے سامنے بٹھا کر کہا کہ یہ آپ کو اپنے علاقے کے مسائل سے متعلق بیان دینا چاہتی ہیں۔ جب ان خاتون کا بیان سامنے آیا تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ وزیرستان سے ایک عورت کو میڈیا پر دکھانے کو غیرت کا مسئلہ قرار دیا گیا اور تو اور میرے ایکسیڈنٹ اور موت کی جھوٹی خبر چلائی گئی۔ یہ جھوٹی خبر وائرل ہوئی جس کی وجہ سے گھر والوں کو کافی تکلیف ہوئی۔

اب جب میں کوئی خبر چلاتی ہوں تو لوگ آپ کو اسی کا ٹیگ لگا کر طرح طرح کے نام دیتے ہیں۔ جب آپ کسی تحریک کی خبریں چلاتے ہیں تو اس تحریک کے مخالفین آپ کو اسی تحریک کا بنا کر آپ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ایک صحافی ہر خبر نشر کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ایک عورت معاشرے کے رسم ورواج سے بغاوت کرتی ہے، تب بھی اس کے لیے زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے اور جب وہ اپنے رسم و رواج کی پاسداری کرتے ہوئے فرائض انجام دیتی ہے تب بھی اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک مرد جب کوئی کام کرتا ہے تو وہ برا نہیں ہوتا، اس کو غیرت کا یا سازش کا نام نہیں دیا جاتا لیکن جب ایک عورت یہ کرتی ہے تو اس کی خوب توہین کی جاتی ہے۔ اس کی بہترین مثال 70 سالہ خاتون کا بیان ہے جس پر اتنا واویلا ہوا لیکن جب مرد صحافی جوان لڑکیوں کا بیان لیتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ ایک عورت کا عورت سے بیان لینا غلط ہے جبکہ ایک مرد کا عورت سے بیان لینا کچھ نہیں۔

ایک اور بات جس پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے، وہ ہے میرے نقاب کے ساتھ کام کرنا۔ وہ اسے کفر اور بےشرمی کے ساتھ جوڑتے ہیں لیکن جب ان کی اپنی رشتے دار خواتین بغیر نقاب کے کام کریں تو اس پر فخر کیا جاتا ہے اور ان کو 'بہادر بہن' کا نام دیا جاتا ہے۔ مجھ پر تنقید کرنے والوں میں سے کچھ جنوبی اور شمالی وزیرستان کی ایک سیاسی خاتون کے رشتے داروں ہیں۔ وہ مجھ پر بہت زیادہ تنقید کرتے تھے لیکن دوسری طرف اپنی رشتے دار خاتون پر فخر کرتے نظر آتے ہیں۔

مجھے چینلز کی طرف سے جو پیشکش آتی ہیں وہ میرے پردے یعنی نقاب کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتیں۔ میں اپنے نقاب پر سودہ نہیں کرتی اور چینل والے آپ کو نقاب کے ساتھ نہیں رکھتے۔ حیرت یہ ہوتی ہے کہ آپ کے ٹیلنٹ کو نہیں بلکہ آپ کے چہرے کو دیکھا جاتا ہے۔

میری مشکلات کو دیکھتے ہوئے اکثر خواتین مجھے اس فیلڈ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا مشورہ دیتی ہیں، لیکن میں اپنے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرتی رہوں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ