کیا امام الحق واقعی 'پرچی' ہیں؟

امام الحق کو پی ایس ایل فائنل میں شین واٹسن سے بدتمیزی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شین واٹسن کے آؤٹ ہونے کے بعد امام الحق نے انہیں گراؤنڈ سے جانے کے لیے کہا۔ تصویر: اسکرین گریب

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مابین کھیلے گئے فائنل میں زلمی کے کھلاڑی امام الحق اور کوئٹہ کی نمائندگی کرنے والے آسٹریلوی کھلاڑی شین واٹسن کے درمیان جھڑپ پر امام الحق کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شین واٹسن جو کہ پچھلے پاکستان سپر لیگ کے لیے پاکستان نہیں آئے تھے، انہوں نے اس بار پاکستان آنے کا فیصلہ کیا جس پر ان کی کافی پذیرائی کی گئی۔ گزشتہ روز کھیلے گئے فائنل میچ میں شین واٹسن کے آؤٹ ہونے کے بعد دونوں کھلاڑی ایک دوسرے سے تکرار کرتے ہوئے نظر آئے جس کے بعد گراؤنڈ میں موجود تماشائیوں نے امام الحق کے خلاف 'پرچی پرچی' کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

امام الحق قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھانجے ہیں، جس کی وجہ سے ان پر پرچی (سفارشی) ہونے کے طعنے میچ ختم ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر کسے جا رہے ہیں۔

امام الحق کے اس رویے پر ٹوئٹر پر کچھ لوگوں نے شین واٹسن سے معافی بھی مانگی۔

سیدہ کنول نے لکھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ کو پرچی (امام الحق) کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک بین الاقوامی کھلاڑی کو اس طرح بے عزت کرنا ٹھیک نہیں کیوںکہ وہ آپ کے ملک میں آ کر کھیل کر رہے ہیں۔‘

عاصمہ کیانی کا کہنا تھا کہ ’بہت عرصے کے بعد بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان آ رہے ہیں، ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔‘

معروف صحافی جاوید اقبال نے لکھا کہ ’ابھی امام الحق، شین واٹسن کو جانے کے لیے کہنے کے لیے بہت چھوٹے ہیں۔‘

سید عاطف امام نے امام الحق کر ’پرچی‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینئر کھلاڑیوں کی عزت کرنی چاہیے کیونکہ ہر دفعہ آپ کے ماموں آپ کی مدد کے لیے نہیں آئیں گے۔‘

ایک طرف جہاں امام الحق پر تنقید ہو رہی ہے وہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ میچ کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان تکرار معمول کی بات ہے۔ ماضی میں دیکھنے میں آیا ہے کہ کھلاڑیوں کے مہمان ہونے یا نہ ہونے کے باوجود ان کی میزبان کھلاڑیوں سے تکرار ہوتی رہی ہے۔

یہ کہنا کہ امام الحق کی ٹیم میں شمولیت صرف اپنے ماموں کی وجہ سے ہے، بھی غلط ہوگا۔ امام الحق ٹیم میں حالیہ کچھ عرصے میں بہترین بلے باز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

امام الحق نے اکتوبر2017 میں اپنا پہلا ایک روزہ کرکٹ میچ کھیلا اور اس کے بعد سے ان کی کارکردگی ٹیم میں دیگر بلے بازوں سے قدرے بہتر ہے۔

کرکٹ کے حوالے سے ریکارڈ رکھنے والی ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق موجودہ ٹیم کے کھلاڑیوں میں ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ سکور کی اوسط امام الحق ہی کی ہے۔ امام الحق کی فی میچ اوسط 60 رنز ہے اور ان کے بعد بالترتیب فخر زمان اور بابر اعظم ہیں۔

گزشتہ دو سالوں میں ایک روزہ کھیل میں ٹیم میں موجود بلے بازوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ سنچریاں بھی امام الحق ہی کی ہیں۔ امام الحق نے اکتوبر 2017 سے لے کر اب تک پانچ سنچریاں سکور کی ہیں جبکہ اسی دورانیے میں بابر اعظم نے تین سنچریاں سکور کی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ