طویل لاک ڈاؤن کے بعد جرمنی میں کھیلوں کا پہلا مقابلہ

جرمن حکومت فٹ بال مقابلوں کی اجازت دے کر مخمصے کا شکار ہے۔ ایک طرف سرمایہ کاروں کا دباؤ ہے جن کے اربوں ڈالر لگے ہوئے ہیں دوسری طرف ماہرین صحت ان نرمیوں کو کرونا وبا کی نئی لہر کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

فائل فوٹو ۔(اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کی تباہ کاریوں اور دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد یورپ آہستہ آہستہ ایک نارمل زندگی کی طرف  لوٹ رہا ہے۔

 جرمنی نے اس وبا کا ہوشیاری سے مقابلہ کیا۔ زیادہ سے زیادہ کرونا ٹیسٹ اور متاثرین کی آئیسولیشن کی حکمت عملی کے باعث یہ وبا جرمنی میں اس قدر تباہی نہ پھیلا سکی جتنا یورپ کے دوسرے ممالک برطانیہ، سپین، اٹلی اور فرانس کو متاثر کیا۔

جرمنی یورپ کا پہلا ملک تھا جس نے سخت لاک ڈاؤن کو ایک ماہ کامیابی سے نافذ کرنے کے بعد دو ہفتے قبل مرحلہ وار لاک ڈاؤن میں نرمی شروع کی اور زندگی کو ایک نارمل سطح تک لے آیا۔

ماسک کی پابندی کے ساتھ عوام کو تجارتی مراکز اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ہدایت ہے لیکن جرمن عوام اب ماسک کو اپنی زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔

جرمنی نے ہی سب سے پہلے کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کی ہیں۔ تمام ایسے کھیل جن میں کھلاڑیوں میں دوران کھیل ایک مناسب فاصلہ رہتا ہے ان کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم کھیل کے میدانوں میں سماجی فاصلوں کی پابندی رہے گی اور صرف صحت مند کھلاڑیوں کو ہی کھیلنے کی اجازت ہے۔

جرمنی کا سب سے اہم کھیلوں کا ایونٹ قومی فٹ بال لیگ ( بنڈیس لیگا) ہے جس میں دو درجوں میں ملک کی اہم 36 ٹیمیں کھیلتی ہیں۔ پروفیشنل لیگ ہونے کے باعث اس میں غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ 

اپنی انویسٹمنٹ اور حجم کے لحاظ سے یہ دنیا کی چند بڑی پروفیشنل لیگز میں شامل ہے۔ کھلاڑیوں کو مہنگے داموں خریدا بیچا جاتا ہے اور ان مقابلوں میں اربوں یورو کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ 

ان کے مالیاتی حجم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دوسرے درجے کے کلب کا مالیاتی حجم پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہیں زیادہ ہے۔ چونکہ فٹ بال دنیا کا سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے اسی طرح جرمنی میں بھی یہ زندگی کا ایک حصہ ہے۔

جرمنی کی فٹ بال ایسوسی ایشن نے حکومتی مشورے کے بعد 16 مئی سے مقابلوں کے دوبارہ آغاز کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ان مقابلوں کے لیے مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں۔

  • تمام ٹیمیں اپنے پہلے میچ سے قبل ایک ہفتے آئیسولیٹ رہیں گی اور ان کا اپنے گھر والوں سمیت کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوگا۔ اس دوران وہ ٹریننگ کرتی رہیں گی۔ کھلاڑیوں کے آئیسولیشن سینٹر پہنچنے سے پہلے کرونا ٹیسٹ ہوگا اور مجموعی صحت کو بھی جانچا جائے گا۔
  • قرنطینیہ کے دوران ان کی صحت کی مسلسل مانیٹرنگ ہوگی جب کہ کھلاڑی ٹریننگ کے علاوہ اپنے کمروں میں تنہا رہیں گے۔
  • تمام مقابلے خالی میدانوں میں کھیلے جائیں گے جہاں تماشائیوں کے علاوہ میڈیا کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
  • انتظامیہ کے بھی کم سے کم لوگ موجود ہوں گے جب کہ ریفری بھی میچ سے ایک ہفتے قبل قرنطینیہ میں رہیں گے۔
  • تمام مقابلے ٹی وی  پر براہ راست نشر کیے جائیں گے تاکہ شائقین اپنے گھروں پر لطف اندوز ہو سکیں۔

دو ماہ سے مفقود فٹ بال نے جہاں شائقین کو افسردہ کر رکھا ہے وہیں کلبز کو اربوں یورو کے مالی نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ اشتہاری کمپنیوں اور ٹی وی رائٹس سے ہونے والی آمدنی بند ہونے سے کئی کلب دیوالیے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

جرمنی کے سب سے بڑے کلب بائرن میونخ کے لیے مشکل ہوگیا ہے کہ وہ اپنے اخراجات پورے کرسکے۔

جرمن گول کیپر منوئل نوئیر کے ساتھ اگلے دو سالوں کا معاہدہ مالی مشکلات کے باعث ابھی تک طے نہیں ہوسکا ہے جب کہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسرے بڑے کلب بوروسیا ڈورٹمنڈ کو امید ہے کہ ٹی وی رائٹس سے اس کی آمدنی دوبارہ شروع ہوجائے گی جس کی مالی حالت بہت خراب ہے۔

جرمن حکومت فٹ بال مقابلوں کی اجازت دے کر مخمصے کا شکار ہے۔ ایک طرف سرمایہ کاروں کا دباؤ ہے جن کے اربوں ڈالر لگے ہوئے ہیں، دوسری طرف ماہرین صحت ان نرمیوں کو کرونا وبا کی نئی لہر کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

خالی میدانوں میں فٹ بال مقابلے کیسے ہوں گے اور ان میں کتنی سنجیدگی ہوگی یہ ابھی کہنا قبل از وقت ہے لیکن سابق جرمن کپتان لوٹر میتیوز اسے ایک مذاق قرار دیتے ہیں۔ جب کہ جرمنی کے بابائے فٹ بال بیکن بائر کے خیال میں یہ ایک خاصا درد انگیز تجربہ ہوگا جب شائقین کے بغیر فٹ بال کھیلی جائےگی۔

جرمنی میں کلب کے فینز اپنی ٹیموں کو سپورٹ کرنا مذہبی فرائض سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں اور ہزاروں فینز اکثر ٹیم کے ساتھ ہرمیچ کے لیے سفر کرتے ہیں، ان کے لیے میچ کے وقت گھر بیٹھنا کرونا سے بھی بڑا تکلیف دہ عمل ہے۔

کیا وہ اس طرح کی فٹ بال برداشت کرسکیں گے؟

جرمنی کے پولیس کمشنر ان مقابلوں کے وقت سٹیڈیمز پر تماشائیوں کے دباؤ کی توقع کر رہے ہیں اور اس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ایک تجویز میچ والے دن سخت لاک ڈاؤن کی بھی ہے۔ اگرچہ تماشائیوں کے آنے پر پابندی ہے لیکن اپنے کلبز کے ساتھ جذباتی وابستگی کے باعث لوگوں کا جم غفیر سٹیڈیم کے اطراف جمع ہوسکتا ہے۔

مالیاتی خساروں کو پورا کرنے کے لیے خالی سٹیڈیم میں فٹ بال مقابلے کھیلوں کے ایک نئے انداز کو فروغ دے رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ کب تک چلے گا وہ مزید تکلیف دہ بات ہے۔ کیونکہ ماہرین کرونا سے بچاؤ کی ویکسین بننے تک کسی بھی عوامی اجتماع کی اجازت دینے کو تیار نہیں اور موجودہ صورت حال میں یہ پابندی اگلے سال تک جاسکتی ہے۔

جس طرح جرمنی نے فٹ بال مقابلے شروع کرکے ایک دلیرانہ قدم اٹھایا ہے کیا کرکٹ بھی اسی طرح شروع ہوسکتی ہے اور شائقین لائیوکرکٹ کو کم ازکم گھر پر ہی دیکھ سکیں۔ یہ شاید مشکل تو نہیں لیکن اس کے لیے برطانیہ کی صورت حال بہتر ہونا ضروری ہے جہاں اگلے چار مہینے کرکٹ کے بہت سارے مقابلے ہونا باقی ہیں۔

انگلش کرکٹ بورڈ جولائی کے بعد خالی میدانوں میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کی کوشش کررہا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو ممکن ہے دوسرے ممالک بھی اس پر عمل کریں اور آئی سی سی ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ بھی خالی میدانوں میں کھیلا جاسکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال