کشمیر پر موسمی جنگ کا مقصد؟

موسم کا بلٹین نشر کرنے سے پاکستان کو شاید یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ یا تو وہ خود یہ علاقہ پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دے یا اس کو جنگ کے ذریعے حاصل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

سری نگر میں واقع ڈل جھیل میں کشمیری شہری  بارش کے دوران کشتی میں ایک  جگہ سے دوسری جگہ جا رہے ہیں۔(تصویر: اے ایف پی)

کشمیر کی سرحدوں پر بھارت اور پاکستان میں فائرنگ کا تبادلہ اور گولہ باری کا سلسلہ تشویش ناک حد تک بڑھ رہا ہے بلکہ اب اس کا دائرہ اُن ہوائی لہروں تک بھی پہنچ گیا ہے جو عوام کو معلومات دینے کی بجائے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔

سرکاری میڈیا سے ہم نے زندگی بھر دشمن ملکوں کے پروپیگنڈا پروگرام تو سنے ہیں لیکن اب یہ پروپیگنڈا نشریات موسم کی پیشگوئی پر بھی حاوی ہوں گی، یہ ہمارے لیے مزید کشیدگی اور بربادی کی پیشگوئی محسوس ہو رہی ہے۔

اقوام عالم گو کہ کرونا (کورونا) وائرس سے بچاؤ میں مشغول ہیں لیکن برِصغیر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے جو ایک سنگین انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے۔

ارشد حفیظ عالمی سیاست کے استاد ہیں اور بھارت اور پاکستان کے بیچ حالیہ سفارتی ٹکراؤ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’جب ایک ملک اپنے سرکاری میڈیا کے ذریعے چوہدراہٹ کا یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہم سدھرنے والے نہیں ہیں اور برصغیر کے ڈیڑھ کروڑ عوام کے نہ صرف دشمن ہیں بلکہ ان کو ختم کرنے کے درپے بھی ہیں تو دوسرا ملک طیش میں آ کر دھاڑیں تو خوب مارتا ہے لیکن کچھ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یا کہا جاسکتا ہے کہ وہ طیش میں آکر وہ سب کچھ کرے جس کی نظیر دنیا کی جنگوں میں ابھی تک نہیں ملی ہے تو اس کو برصغیر کی بدقسمتی سے تعبیر کرنا چاہیے۔ اس خطے کو اس ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی جاہل، جنونی اور مذہبی چوہدری ملے ہیں۔ جب تک دنیا کو ہوش آئے گا تب تک کئی نسلیں ختم ہوچکی ہوں گی اور کئی صدیوں تک بنجر زمین  پر سورج طلوع نہیں ہوا ہوگا۔‘

پانچ مئی سے بھارتی حکومت نے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے جموں و کشمیر کے موسم کی خبروں میں اب گلگت بلتستان، میرپور اور مظفرآباد کو بھی شامل کر دیا ہے۔ اس کے بارے میں اکثر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بھارت نے پارلیمان میں کئی بار اس عہد کو دہرایا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کو حاصل کرنے کے لیے جانوں کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ گلگت بلتستان نے میجر ولیم براؤن کی سربراہی میں ایک معاہدے کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارشد حفیظ کہتے ہیں کہ ’بھارت کے موسمی اقدام کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، جس کے حکمران مذہبی جنونیت کو بڑھانے کے لیے کوئی بھی حد پار کرسکتے ہیں اور پھر عوام کو ہندو راشٹر کا خواب بھی تو دکھا رہے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی، جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ الحاق کو جائز مانتا ہے مگر گلگت بلتستان کو ناجائز قرار دے رہا ہے حتیٰ کہ سنتالیس اڑتالیس کی بھارت اور پاکستان جنگ میں مظفرآباد اور میرپور کو واپس حاصل کرنے کا عزم بھی دہرا رہا ہے۔

موسم کا بلٹین نشر کرنے سے پاکستان کو شاید یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ یا تو وہ خود یہ علاقہ پلیٹ میں پیش کر دے یا اس کو جنگ کے ذریعے حاصل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ پاکستان نے بھی جموں و کشمیر میں موسم کا احوال نشر کرنے کا فیصلہ کیا، جو بقول تجزیہ نگار پاکستان محض عمل کا ردعمل پیش کرتا رہا ہے جس سے اس کی ناکام قومی اور سفارتی پالیسی ظاہر ہوتی ہے۔ دونوں ملکوں کے تیور بتا رہے ہیں کہ کہیں یہ موسمی احوال شدت اختیار کرکے ہمیں اس موڑ پر نہ لے آئے جہاں نیوکلیائی جنگ کا احوال سننے کے لیے کوئی باقی نہ رہے۔

کشمیری نژاد برطانوی مورخ جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کہتے ہیں کہ ’اگر بھارت اس طرح کی حماقتیں کرنے لگا ہے تو جوناگڑھ اور حیدرآباد بھی اس حماقت میں شامل کرلے کیونکہ پھر واپس سن سنتالیس کے اس دور اور پوزیشن میں جانا ہوگا جب 600 سے زائد راجہ مہاراجوں کے کنٹرول میں مملکتوں کو دو قومی نظریے کے تحت اپنا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ اس پر بھارتی حکمرانوں نے شب خون مار کر مسلمانوں کو نہ صرف ایک دوسرے سے الگ کر دیا بلکہ اب اتنے برسوں کے بعد سر عام ان کا خون بھی بہا رہے ہیں۔‘

کشمیر کے آر پار 740 کلومیٹر پر محیط لائن آف کنٹرول کے قریب رہائش پذیر لاکھوں خاندان پہلے ہی خوف اور دہشت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ روز یا تو سرحد پر گولہ باری میں مرتے ہیں یا اندرون کشمیر فوجی کارروائی میں ہلاک کیے جاتے ہیں حالانکہ جموں میں حکام نے بعض خاندانوں کو زیرزمین بنکر بھی دیے ہیں لیکن کشمیر میں ابھی تک ایسی کوئی سہولیت میسر نہیں کی گئی ہے۔ پاکستانی کشمیر میں بھی عوام کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے اور وہ بھارتی گولہ باری کا ناقابل برداشت نقصان اٹھا رہے ہیں۔

چند روز قبل جب دونوں ممالک کی فورسز نے اوڑی سرحد کے آرپار شدید گولہ باری کی تو سن 1998 کے بعد سے پہلی بار ٹاؤن میں گولے گرے جس کے سبب بیشتر خاندان پھر ہجرت پر مجبور ہوگئے۔

اوڑی کے ایک بزرگ شہری نے کہا کہ ’کرونا وائرس کے باعث لوگ گھروں میں قید ہیں اور بازار بند ہیں اس لیے ان گولوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘ بزرگ کا نصف خاندان سرحد کے اس پار ہے اور مرنے سے پہلے ان سے ملاقات کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ وہ انتہائی افسردگی میں بولنے لگے کہ ’میرا بچپن، میری جوانی اور اب میرا بڑھاپا ان گولوں کو گرتے پڑتے دیکھتے گزرگیا۔ پھر بھی جہلم کے پانیوں کو بہتے دیکھ کر ان اپنوں کی خوشبو سونگھ لیتے ہیں، جو 1947 کے بعد ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔ کوئی ہمیں موسم کا حال کیا بتائے گا۔ ہمارا آسمان ابھی تک منقسم نہیں ہوا ہے اور ہم سب ایک دوسرے کے بارے میں باخبر ہیں۔ بس خیال رکھیں کہ ہمارے اس آسمان کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے کالا نہ کریں۔ یہ ہمارے لیے امید کی آخری کرن ہے کہ جس نے ہمیں خوف و ہراس کے باوجود زندہ رہنے کا حوصلہ دیا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ جیسے ہمارا آسمان مشترک ہے، وہیں ہماری زمینیں زیادہ دیر منقسم نہیں رہیں گی۔‘

بزرگ کی فلسفیانہ باتیں اپنی جگہ مگر ایک بات واضح ہے کہ لائن آف کنٹرول پر رہنے والے لاکھوں خاندان اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی موسمی کشیدگی کہیں نیوکلیائی جنگ نہ بن جائے اور جس آسمان پر انہیں ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کی امید کی کرن نظر آرہی ہے کہیں وہ ایک اور سراب نہ ثابت ہو جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ