کرونا نے ثابت کر دیا کہ مرد اور خواتین دو مختلف سیاروں سے ہیں

انگیلا مرکل اور جیسنڈا آرڈرن کو جس چیز نے بورس جانسن اور ڈونلڈ ٹرمپ پر فوقیت دی ہے وہ اِن خواتین کی بولنے سے زیادہ سننے کی صلاحیت اور حقیقت سے منہ چھپانے کی بجائے اس کا سامنا کرنے پر مبنی ہے۔  

یہ واضح ہے۔ مرکل، ایک تربیت یافتہ سائنسدان، ٹرمپ پر بازی لے گئی۔ (اے ایف پی فائل)

اگر وہ کتاب جس میں لکھا ہے کہ مرد کا تعلق ایک سیارے سے اور خواتین کا دوسرے سے ہے حقیقت پر مبنی ہے تو میرا یقین ہے کہ میں نے ایک نئی سنسنی خیز نفسیاتی حالت دریافت کی ہے۔ ویینا میں دنیا کا ایک مشہور انسٹی ٹیوٹ جسے میں نے ابھی ابھی ایجاد کیا ہے کے مطابق وینس اینوی اس شدید حسد کو کہتے ہیں جو کوویڈ 19 سے متاثرہ ممالک میں لوگ تب محسوس کر رہے ہیں جب وہ اپنے مردانہ قیادت کا دوسری ملکوں میں خواتین لیڈران سے موازنہ کر رہے ہیں۔

کوویڈ-19 کے حوالے سے کئی ممالک کا مختلف ردِعمل کئی سالوں تک طب کے ماہرین کے سروں پر سوار ہوگا۔ یہ قبل از وقت ہوگا کہ ایک عام تاثر پیدا ہو کہ کیوں کچھ ممالک ڈرامائی طور پر اس مرض کے ساتھ بہت بری طرح نبرد آزما ہوگئے۔ یہ شاید محض اتفاق ہو کہ جن دو ممالک نے اس دوران ایک مثالی ردعمل دیا وہاں خواتین کی حکمرانی تھی۔ اور دوسری طرف بحراوقیانوس کے آرپار کاروبار کرنے والے وہ دو ممالک جہاں شرح اموات سب سے زیادہ رہی، پیچھے رہ گئے۔

’کوئی نہیں چاہے گا کہ ایک لمبے عرصے تک ان عدادوشمار سے ہی اندازہ لگاتا رہے جہاں یہ دو خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ لیکن ذرا غور کیجئے، ایک طرف اینگلا مرکل اور جیسنڈا آرڈرن کے کام کو دیکھیں اور دوسری طرف انتہائی طاقت ور 10 ڈاؤننگ سٹریٹ (برطانیہ کے وزیر اعظم کی رہائش) اور 1600 پنسلوینیا ایوینیو (وائٹ ہاوس)۔ جیسے ہی مرکل اور آ رڈرن نے اپنی معیشتیں دوبارہ کھول دیئے، ایسے لگا جیسے کسی جڑواں دیوہیکل نے پوری دنیا کے بحران کا موثر انتظام سنبھالا ہو۔  

نیوزی لینڈ کے اعدادوشمار انتہائی حیران کن ہیں۔ دوسرے ممالک سے دوری اور اپنے سرحدات کو آسانی سے محفوظ کرنے کے بعد کسی پر بھی یہ دباؤ نہیں رہے گا کہ وہ بورس جانسن کی نقالی کرنے سے باز رہے اور کھل کر اپنی کامیابی کا اظہار کرے۔ سازگار ماحول کے مطابق ان کی کامیابی بھی عروج پر رہی۔ تقریباَ 50 لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں 1500 سے کم لوگ اس وائرس کا شکار ہوئے (جہاں اکثریت اب روبہ صحت ہوچکی ہے) اور 19 لوگ ہلاک ہوگئے۔ اگر اسی تعداد کو مدنظر رکھ کر برطانیہ کی آبادی پر لاگو کیا جائے تو وہاں 20 ہزار مریض اور 260 اموات کے برابر ہوں گی۔    

البتہ یہاں کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ اموات کی اصل تعداد کتنی ہے کیونکہ حکومت نے اعدادوشمار ہسپتالوں میں ہونے والے اموات تک محدود رکھا ہے۔ لیکن لگتا ہے یہ تعداد دوگنی ہے اگر اس میں وہ لوگ شامل کیے جائیں جو اپنے گھر اور نرسنگ ہومز میں مرے ہیں۔ اگر ہم اندازہ لگائیں تو اس وائرس نے برطانیہ میں 50 ہزار کے قریب لوگوں کی جان لی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر شرح اموات کو ہی کامیابی کا پیمانہ سمجھا جائے، بیشک یہ اعدادوشمار نیوزی لینڈ میں ہونے والے واقعات سے سو گنا زیادہ ہوں تو پھر ناکامی کو بھی جانچنے کے لیے ہمیں کسی طاقتور نفسیاتی (دماغی) دوا کی ضرورت ہوگی۔ ایسا کچھ ہوگا، یا پھر ڈاکٹر ٹرمپ کی وہ معجزاتی بلیچ سے کام چلانا پڑے گا۔ اس دن ڈاکٹر کی مکمل بریفنگ لینے کے باوجود جب ڈونلڈ ٹرمپ واپس روز گارڈن آگئے تو اپنے اس جنونی دعوے کو پھر سے دہرایا کہ اس وقت پوری دنیا مدد اور رہنمائی کے لیے امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ 

جہاں تک بورس جانسن کا تعلق ہے تو انہوں نے بیماری سے واپسی کے بعد والی کچھ حد تک بہتر تقریر کو بھی اپنے مضحکہ خیز پروپیگینڈوں کے ذریع مزید حقیر بنایا۔ اگر انہوں نے فضا میں کامیابی کی بو سونگھ لی ہے تو نہ تو ان کی سونگھنے کی حس ٹھیک ہوئی ہے اور نہ وہ پوری طرح صحت یاب ہوئے ہیں۔

مرکل اور جیسنڈا آرڈرن کو جس چیز نے بورس جانسن اور ڈونلڈ ٹرمپ پر فوقیت دی ہے وہ اِن خواتین کی بولنے سے زیادہ سننے کی صلاحیت اور حقیقت سے منہ چھپانے کی بجائے اس کا سامنا کرنے پر مبنی ہے۔ جبکہ ایک طرف بورس جانسن اپنی توانائی محفوظ کیے بغیر اپنی کیبنٹ اجلاسوں میں شرکت نہ کر سکے تو دوسری طرف صدر ٹرمپ نے اپنے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پیشن گوؤں کو ان غلط معلومات پر قربان کیا جو ان کے دوست فاکس ٹی وی پر بیٹھ کر انہیں زہریلی مواد کی طرح پلا رہے تھیں۔  

مرکل نے، جو ایک تربیت یافتہ سائنس دان ہیں، بہت قریب سے اس وبا میں دلچسپی لی، بہت تیزی کے ساتھ اس کی تشخیص اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے ذرائع استعمال کیے۔

دوسری طرف، خلافِ روایت، ایک اینگلو- امریکی طرز کی کتاب کا صفحہ پلٹاتے ہوئے جیسنڈا آرڈرن نے ایک سخت قسم کا لاک ڈؤون لاگو کیا، اس سے پہلے کہ یہ وائرس پھیل کر تباہی مچائے، 'گو ہارڈ اینڈ گو اَرلی' (شدت سے جاؤ اور جلدی جاؤ)، جیسے وہ خود اپنی حکمتِ عملی کے بارے میں بتاتی ہیں۔ اگر آپ نے یہی فقرہ ٹرمپ سے سنا ہو، تو آپ کو اسے بیلی بش ٹیپ (2005 میں ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹی وی میزبان بیلی بش کے درمیان خواتین کے بارے میں تضحیک آمیز ریکارڈنگ جو 2016 میں سامنے آئی) کی یاد تازہ کرکے لینا ہوگا، جیسے 'گو سافٹ اینڈ گو لیٹ' (نرمی سے جاؤ اور دیر سے جاؤ)، والا نقطہ نظر بحر اوقیانوس کے دونوں طرف (برطانیہ اور امریکہ) ہوگا اور لاشوں سے بھرے باڈی بیگ ثبوت کے طور پر سامنے ہیں۔

اب جب بورس جانسن اپنی کامیابیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور صدر ٹرمپ اپنی دیومالائی کرداروں کے بارے میں تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، آرڈرن اور مرکل اس اندھے دھند اعتماد کے خلاف احتیاط کر رہی ہیں جس سے اِن دونوں نے ایک طاعون کی مانند جان چھڑائی تھی۔  

اپنی استحقاق کی جانچ کرنے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ باوجود اس کے کہ مجھے رگبی اینڈ پیلر (برا بنانے والا مشہور برطانیوی برانڈ کی ضرورت ہے) میں ایک عورت نہیں ہوں۔ اس لیے اس سے میرا کوئی سروکار نہیں کہ اس فطری برتری کے متعلق کسی نتیجے پر پہنچوں جس سے ادھی آبادی (نر یا مذکر) لطف اندوز ہو رہی ہو۔ اپنی استحقاق کو دوبارہ جانچنے کے بعد مجھے لگا کہ میں ایک درمیانی عمر کا مرد ہوں اور ممکنہ طور پر اتنا زیادہ تعلیم یافتہ بھی ہوں کہ اس تکبر اور تعزیت کے بارے میں کچھ کہوں جو انسانیت کی آدھی آبادی کا خاصہ ہے۔    

اب جب یہ خوف گزر چکا ہے تو میں تمام جمہوری دنیا کو نصیحت کروں گا کہ ایک اپاہج نظام اپنایا جائے جہاں اقوامِ عالم کے تمام لیڈران ڈرامائی طور پر خواتین رہنماؤں کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ (البتہ ایک بار پھر یہاں کسی خاص طرف اشارہ نہیں، کیونکہ  ہر ایک آرڈرن کے لیے ایک پریتی پٹیل (برطانیوی خاتون سیاستدان) بھی ہو سکتی ہیں اور ہر مرکل کے لیے درجنوں نیڈین ڈوریس (برطانوی خاتون سیاستدان) بھی۔

دوسری طرف ہمیں ڈاکٹر ٹرمپ کی کرونا وائرس کے حوالے سے متاثر کن اور فرمائشی علاج کو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر ڈیٹال کی ایک سرنج کسی بیمارنظامِ تنفس کا بہترین علاج نہیں بھی ہے تو یہ بےوقوفی ہوگی کہ اس بات کو رد کیا جا سکے کہ ایک شیر خوار مگر اقتدار کے بھوکے مرد کو ایک لازمی سٹروجن (بلوغت والے ہارمون) کا ٹیکہ لگایا جائے۔      

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین