قیدیوں کو اذیت دینا بند، تعلیم اور ہنر سکھایا جائے گا

انسپیکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ نصرت حسین منگن کے مطابق مئی 2019 میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے قانون سندھ پریزن اینڈ کریکشنل فیسیلیٹیز ایکٹ پر سندھ حکومت کی جانب سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں جیل اصلاحات پر عمل شروع ہوگیا ہے جس کے تحت صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کو اذیت ناک سزائیں دینا اور انہیں قید تنہائی میں رکھنا بند کردیا جائے گا جبکہ قیدیوں کی فلاح کے ساتھ ساتھ حکومت ان کے کیس لڑنے کے لیے سرکاری وکیل مہیا کرنے کے ساتھ انہیں جیل میں سرکاری اخراجات پر تعلیم اور ہنر بھی سکھائی گی۔

یہ کہنا ہے انسپیکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ نصرت حسین منگن کا جن کے مطابق  مئی 2019 میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے قانون سندھ پریزن اینڈ کریکشنل فیسیلیٹیز ایکٹ پر سندھ حکومت کی جانب سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا: 'سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں کی صوبائی حکومت نے جیل اصلاحت کا قانون پیش کیا ہے۔ اس سے پہلے انگریز دور کا پریزن ایکٹ 1898 کا قانون رائج تھا جس میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنا، بیڑیاں لگانا اور پھٹکے لگانا، اذیت ناک سزائیں دینا اور قید تنہائی میں رکھنا عام بات تھی۔ اب اس نئے قانون میں ان سے قیدیوں سے اچھا رویا رکھنے کے ساتھ انہیں تعلیم دی جائے گی اور ساتھ ہنر بھی سکھایا جائے گا تاکہ جب وہ آزاد ہوں تو بہتر شہری ہوکر باہر جائیں۔'

آئی جی جیل خانہ جات سندھ نصرت حسین منگن نے کہا کہ جیل اصلاحات کے تحت ہر قیدی کو انصاف تک رسائی کے ساتھ جیلوں میں موسم کی شدت سے بچانے کے لیے جیل کے اندر درجہ حرارت کو برقرار رکھا جائے گا، اگر شدید گرمی ہے تو قیدیوں کے لیے ائیر کولر یا اے سی کا انتظام کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا: 'جیلوں میں مجرموں کو ملک دشمن یا غدار سمجھ کر ان کے ساتھ غلط رویا نہیں رکھنا چاہیے۔  جیلوں کو اب اصلاح گھر بنایا جائے گا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق کراچی، لاڑکانہ اور شکارپور کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کی جیلوں کی گنجائش تیرہ ہزار قیدی رکھنے کی ہے مگر جیلوں میں ساڑھے پندرہ ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیل اصلاحات کے ساتھ صوبے میں مزید آٹھ نئی جیلیں بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، اور یہ نئی جیلیں سندھ کے شہروں بشمول ٹھٹھہ، نواب شاہ، قمبر شہداد، کندھ کوٹ، مٹھی، ملیر اور کراچی کے ضلع ویسٹ میں بنائی جائیں گی، جبکہ میرپورخاص میں ایک جیل خواتین کے لیے بنائی جائے گی۔

 سندھ میں کُل ستائیس جیل ہیں جن میں سے اس وقت چوبیس کھلی اور باقی تین بند ہیں۔ بند جیلوں میں سندھ کے شہر بدین میں واقع ایک جیل انتہائی دلچسپ جیل ہے۔

بدین ایک اوپن جیل ہے۔ دنیا میں صرف چند ممالک میں اوپن جیل موجود ہیں۔ جن میں سے  آئیرلینڈ میں دو اور برطانیہ میں چھہ اوپن جیل ہیں، جبکہ بھارت میں دو شہروں مہاراشٹر کے پونے اور دہلی میں واقع ہیں۔ 1993 کے بم دھماکوں سے منسلک کیس میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد بالی ووڈ سٹار سنجے دت کو پونے کی یروادا جیل میں رکھا گیا تھا جو ایک اوپن جیل ہے۔

جیل خانہ جات کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق بدین اوپن جیل، پاکستان کی واحد اوپن جیل ہے، جس کی اپنی  ڈھائی ہزار ایکڑ سے زائد زرعی زمین ہے۔ یہاں رکھے ہوئے قیدی ایک جیل جیسے ماحول کے بجائے ایک بڑے گاؤں جیسے ماحول میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ 

اس جیل میں قیدیوں سے کاشت کاری کروانی تھی اور ان کی اگائی ہوئی سبزی، پھل اور گندم کو سندھ کی باقی جیلوں میں استعمال کے لیےفراہم کیے جانا تھا۔ مگر بدین اوپن جیل کئی سالوں سے بند پڑی ہوئی ہے جس کے باعث جیل کی زرخیز زمین بنجر ہوتی جارہی ہے۔

نصرت حسین منگن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جیل اصلاحات کے ساتھ بدین اوپن جیل کو بھی جلد ہی بحال کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: 'بدین جیل جلد کھولی جائے گی اور وہاں قیدیوں کو جدید  زراعت سے روشناس کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے زرعی یونورسٹی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جائے گا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا