چینی سکینڈل کی تحقیقات مختلف اداروں کے حوالے

وزیر اعظم عمران خان نے شوگر انکوائری کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی کی صنعت میں ہونے والی مبینہ بےقاعدگیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔

رواں سال کے آغاز میں چینی کا بحران پیدا ہونے کے بعد وزیر اعظم نے تحقیقات کے بعد  قانونی کارروائی کا اعلان  کیا تھا (اے ایف پی)

وزیر اعظم عمران خان نے شوگر انکوائری کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی کی صنعت میں ہونے والی  مبینہ بےقاعدگیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات مختلف سرکاری اداروں کے حوالے کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کی منظوری دے دی۔

اس سلسلے میں اتوار کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں ان کی ذاتی رہائش گاہ پر ایک پارٹی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعظم نے چینی کی قیمتوں، پیداوار، حکومتی سبسڈی، مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں، بے نامی، منی لانڈرنگ اور برآمد کی مد میں ہونے والے غیر قانونی اقدامات کی تحقیقات اور مقدمات تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

جن اداروں کو تحقیقات اور مقدمات تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ان میں قومی احتساب بیورو (نیب)، سٹیٹ بینک، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، مسابقتی کمیشن آف پاکستان وغیرہ شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم عمران خان نے شوگر  انکوائری کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں مندرجہ ذیل سات قابل کارروائی اقدامات کی منظوری دی۔

1۔ نیب کو 2014 سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے چینی پر دی گئی 29 ارب روپے کی سبسڈی کی مجرمانہ (کریمنل) تحقیقات کرنے اور ریفرنسز تیار کرنے کا کہا گیا ہے۔

نیب گذشتہ 25 سال کے دوران مختلف حکومتوں کی جانب سے چینی پر دی جانے والی سبسڈی سے غیر قانونی فائدہ اٹھائے جانے سے متعلق بھی تحقیقات کرے گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ نیب دیکھے گا کہ شوگر ملیں کیسے لگیں، کوٹے کا تعین کیسے کیا گیااور کس بنیاد پر سبسڈی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 80 سے زیادہ شوگر ملیں حکومتی سبسڈیزسے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔

2۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں چینی کے کارخانوں کی مختلف قسم کے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں بھی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں، جن کی تحقیقات فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کے حوالے کی جا رہی ہیں، جو تمام شوگر ملوں کی تحقیقات کے بعد 90 دن کے اندر فوجداری مقدمات تیار کرے گا۔

3۔ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) ملک میں چینی کے شعبے میں کارٹیلائزیشن سے متعلق تحقیقات اور اس میں ملوث پائے جانے والے چینی کے کارخانہ داروں کے خلاف مقدمات تیار کرے گا۔

4۔ شوگر کمیشن رپورٹ میں چینی کی برآمدات کی آڑ میں بیرون ملک سے آنے والے زر مبادلہ کو چھپانے یا زیادہ دکھانے، بینکوں سے حاصل کیے قرضے معاف کروانے، نقصانات ظاہر کرنے اور سیلز ٹیکس کی مد میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس سلسلے میں تحقیقات کرنے اور مقدمات تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

5۔ اسی طرح چینی کی صنعت میں ہونے والے فراڈز کی تحقیقات کا کام ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ہے۔

6۔ افغانستان کو چینی کی جھوٹی برآمدات دکھلانے اور اس سلسلے میں ٹیکسوں کی چوری اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی ایف آئی اے کے حوالے کی گئی ہے، جو 90 روز میں مکمل کرنا ہو گی۔

7۔ شوگر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چینی کے کارخانہ داروں نے صوبائی حکومتوں کے قوانین کی بھی خلاف ورزی کی، جس میں حکام کے علم میں لائے بغیر ملوں کی استعداد وغیرہ بڑھا کر مختلف قسم کے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی چوری شامل ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات متعلقہ صوبائی حکومتوں کے اینٹی کرپشن محکمہ جات کے حوالے کی جائے گی۔

انہوں نے میڈیا سے اس سلسلے میں سندھ حکومت کی کسی بھی قسم کی 'بے ضابطگی' پر نظر رکھنے کو کہا۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے چینی کی صنعت کو مزید ریگولیٹ کرنے کی بھی منطوری دی اور اس مقصد کے لیے مختلف قسم کی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جائے گا۔

اسی طرح انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صنعت کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کی منظوری دی گئی ہے، جو چینی کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک فارمولہ طے کرے گی۔

خیا ل رہے کہ ڈائریکٹر جنرل  ایف آئی اے کی سربراہی میں شوگر انکوائری رپورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر جہانگیر ترین،پاکستان مسلم لیگ ق کے مونس الٰہی، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی گروپ سمیت مختلف شوگر ملوں کو  حالیہ چینی بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کی سفارش کی تھی۔

ملک میں پیدا ہونے  والےچینی بحران کے باعث وزیر اعظم عمران خان نے انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت 10 مارچ کو  شوگر انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔

یہ کمیشن ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں چھ ارکان  پر مشتمل تھا، جس نے  63 دنوں میں  220 مختلف افراد سے پوچھ گچھ کے بعد حتمی رپورٹ تیار کی۔

رپورٹ میں 10 شوگر ملز کا آڈٹ کرتے ہوئے 600 ارب روپے سے زائد مالیت کے بے نامی کاروبار کا جائزہ لیا گیا۔

 فرانزک آڈٹ کے دوران کمیشن نے وفاقی وزیر اسد عمر،  سابق وزیر اور ن لیگ کےخرم دستگیر اور سابق وزیر اعظم  شاہد خاقان عباسی کے بیانات ریکارڈ کیے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ  پنجاب عثمان بزدار اور رزاق داؤد بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان