بالی: کنویں میں پھنسے برطانوی شہری کو چھ دن بعد نکال لیا گیا

جیکب پیکاٹو گاؤں میں کتا پیچھے لگنے کے بعد کنویں میں گر کر اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھے تھے۔

ریسکیو حکام جیکب کو کنویں سے باہر نکال رہے ہیں (اے ایف پی)

ایک برطانوی شہری کو چھ دن تک 13 فٹ گہرے کنویں میں بغیر خوراک کے پھنسے رہنے کے بعد زندہ نکال لیا گیا۔

29 سالہ جیکب رابرٹس پیکاٹو گاؤں میں کتا پیچھے لگنے کے بعد کنویں میں گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھے تھے۔ وہ اپنی چوٹ کی وجہ سے کنکریٹ سے بنے کنویں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے اور ایک دور افتادہ مقام پر ہونے کی وجہ سے ان کی مدد کے لیے پکار کئی دن تک بے فائدہ رہی۔

آخر کار جیکب کو ہفتے کے روز اس وقت کنویں سے نکال لیا گیا جب ان کی مدد کے لیے پکار قریب ہی مویشیوں کو چارہ کھلاتے ایک شخص نے سنی اور حکام کو اطلاع دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی سرچ اور ریسکیو ایجنسی کے اہلکار بالی کے علاقے بسرناس میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مکمل حفاظتی لباس پہنے کنویں کی تہہ میں پھنسے جیکب تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 سوشل میڈیا پر دوسری تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے جیکب جینز اور چپل پہنے گدلے پانی والے ایک کنویں کی تہہ میں بیٹھے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسی پانی کی وجہ سے زندہ رہے ہیں۔

بسرناس بالی کے سربراہ جیڈ درمادا کا کہنا ہے کہ ہفتے کو دن کے 12:30 اطلاع ملنے کے بعد 15 منٹ کے اندر ہی ریسکیو ٹیم کو روانہ کر دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ تین اہلکار کنویں میں اترے تاکہ سٹریچر پر نکالے جانے سے پہلے جیکب کی صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔

بسرناس بالی کے بیان کے مطابق جیکب کو 'کامیابی اور حفاظت سے 1:51 پر نکالنے کے بعد' بی آئی ایم سی نسا دوا ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو ایجنسی کا کہنا ہے کہ جیکب کو نکالنے کی کارروائی میں جنوبی کٹا سیکٹر پولیس اور مقامی افراد کی مدد بھی شامل تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی کٹا پولیس کے سربراہ یوسک آگسٹن سوائی کا کہنا ہے کہ جب جیکب کو کنویں سے نکالا گیا تو وہ کافی 'زخمی اور کمزور' دکھائی دے رہے تھے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ برطانوی شہری بالی کے اس علاقے میں سیاحت کے لیے موجود تھے یا وہ یہیں رہائش پذیر ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا