’پولیس مقابلے‘ میں ہلاک نوجوان کے خاندان کا تحقیقات کا مطالبہ

عرفان اللہ کی ہلاکت کے خلاف باڑہ میں تین روز سے دھرنا جاری ہے جس میں ضلع خیبر سے منتخب ارکان اسمبلی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان بھی شرکت کر رہے ہیں۔

(تصویر: ثاقب گل)

کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے جانے والے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے عرفان اللہ نامی نوجوان کی ہلاکت کے خلاف خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں تین روز سے دھرنا جاری ہے جس میں مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پولیس مقابلے کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ اس نوجوان کو بغیر کسی وجہ سے ہلاک کیا گیا ہے۔

ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ کے 33 سالہ نوجوان عرفان اللہ کو پشاور کے علاقہ متنی میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ 

واقعے کے حوالے سے پولیس کی جانب سے جاری  پریس ریلیز کے مطابق مصدقہ اطلاع پر سی ٹی ڈی کو معلوم ہوا تھا کہ چند دہشت گرد ایک مکان میں موجود ہیں اور دہشت گردی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق پیر کی رات جب پولیس ٹیم نے گھر کا محاصرہ کیا تو ’دہشت گردوں‘ نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے جواب میں پولسی نے بھی فائرنگ کی۔ دونوں کے مابین فائرنگ کا سلسہ 30  منٹ تک جاری رہا۔

پریس ریلیز کے مطابق: ’فائرنگ کے بعد دوران سرچ اپریشن پولیس ٹیم نے چار دہشت گرد کو ہلاک پایا۔‘

پریس ریلیز میں ان چار افراد کی فہرست میں ایک عرفان اللہ نامی شخص بھی ہیں جن کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ چاروں افراد دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے مقدمات میں مطلوب تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفان اللہ کے ہلاکت کے خلاف باڑہ میں دھرنا جاری ہے جس میں ضلع خیبر سے منتخب ارکان اسمبلی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائدگان بھی شرکت کر رہے ہیں۔

عرفان اللہ کے بھائی گل بدر نے انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے اظہار اللہ کو بتایا کہ ان کا بھائی یکم جون کو گھر سے ضلعی ایجوکیشن دفتر گئے تھے تاکہ سرکاری سکول کے ٹیچر کی پوسٹ کے لیے دیے گئے ٹیسٹ کے نتیجے کا رزلٹ معلوم کر سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس دن سے وہ واپس گھر نہیں آیا تھا اور لاپتہ ہوگیا لیکن ہمیں اس کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں تھیں کہ وہ کہاں اور کیسے لاپتہ ہو گیا۔‘

گل بدر نے بتایا کہ ان کا بھائی ڈبل ماسٹرز کر چکے تھے اور حیات آباد میں ایک نجی سکول میں استاد تھے۔

بدر نے بتایا: ’بھائی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے باڑہ میں ہم نے 14 جون کو ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی تاکہ حکومت اس ضمن میں ہماری مدد کرے تاہم گذشتہ دن ہمیں پتہ چلا کہ اس کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی کے ساتھ کسی ذاتی دشمنی یا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

بدر کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے وہ ضلعی پولیس کے پاس مقدمہ درج کرنے بھی گئے تھے تاہم وہاں پر مقدمہ تو  درج نہیں کیا گیا لیکن روزنامچہ درج کیا گیا۔

بدر نے مطالبہ کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنائی جائے۔

ضلع خیبر کے پولیس سربراہ محمد اقبال نے انڈپینڈ نٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے مظاہرین کے ساتھ بات کی ہے اور اگر عرفان اللہ کے اہل خانہ کو کوئی شکایت ہے تو وہ متعلقہ فورم میں جا کر اپنی شکایت درج کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی مہم جاری ہے جس میں صارفین نے بھی عرفان اللہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان