عامر تہکالے نے عدالت کو کیا بتایا؟

پشاور کے علاقے تہکال کے رہائشی رفیع اللہ عرف عامر تہکالے نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں گرفتار کرتے ہی برہنہ کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ عامر تہکالے کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی تھی جس میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار انہیں برہنہ کر کے تشدد کر رہے تھے (سکرین گریب)

پشاور کے علاقے تہکال کے رہائشی رفیع اللہ عرف عامر عامر تہکالے نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں گرفتار کرتے ہی برہنہ کر دیا گیا تھا۔

پشاور میں بدھ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان  میں دعویٰ کیا کہ ’18 جون کو رات ڈیڑھ بجے  پولیس  ایس

ایچ او تہکال اور ایس ایچ او یکہ توت نے دیگر پولیس اہلکاروں سمیت انہیں گرفتار کیا اور وہیں ان کے کپڑے اتار کر انہیں برہنہ حالت میں زدوکوب کرتے ہوئے گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر تہکال پولیس سٹیشن لے گئے تھے۔‘

عامر کے مطابق اگر متعلقہ پولیس افسر ان کے سامنے لائے جائیں تو وہ چہرے دیکھ کر ان کی شناخت کر سکتے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار انیلا خالد کے مطابق رفیع اللہ عرف عامر تہکالے نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ پولیس نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے دو چچازاد بھائیوں کو بھی  تہکال پولیس سٹیشن لے جاکر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جب تہکال پولیس سٹیشن میں میرے ساتھ خوب تشدد ہوا  تو اس کے بعد  ایس ایچ او شہریار کی ہدایات پر اسی طرح برہنہ حالت میں مجھے گاڑی میں ڈال کر یکہ توت پولیس چوکی لے جایا گیا جہاں ایس ایچ او عمران الدین نے مجھے دوبارہ مارا پیٹا اور میری ویڈیو بنائی۔‘

’ویڈیو کال کے ذریعے اسی حالت میں دوسرے افراد کو بھی یہ سب دکھایا گیا۔ بعد ازاں دوران قید ایک نوجوان کانسٹیبل جن کو میں شکل سے پہچان سکتا ہوں، انہوں نے مجھے شلوار پکڑائی۔‘

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ’اس کے بعد وقتاً فوقتاً مجھے لاک اپ سے باہر نکال کر میری ویڈیو بنائی جاتی رہی۔ جب کہ ایس ایچ او یکہ توت عمران الدین نے مجھ سے زبردستی بلوایا کہ میں نے نشے کی حالت میں یہ سب کہا تھا، اور یہ بھی کہلوایا کہ میں اس سب پر شرمندہ ہوں۔‘

’انہوں نے میرے پاس شراب (بئیر) پستول اور آئس (نشہ آور مواد) رکھ کر تصاویر کھینچیں اور مجھے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر عدالت کے سامنے پیش کیا۔‘

اس واقعے کے بعد پشاور میں مقامی لوگ کئی روز تک پولیس کے خلاف احتجاج کرتے رہے اور ذمہ داران کو سزا دلوانے کا مطالبہ بھی کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان